قومی زبان

سنگ خارا ہے آئینہ میرا

سنگ خارا ہے آئینہ میرا ایک بچہ ہے ہم نوا میرا بادلوں میں ہے گھونسلہ میرا بھر گیا ہے برآمدہ میرا ایک تیرا ہے دوسرا میرا زخم اندر سے ہے ہرا میرا سب کو معلوم ہے پتا میرا کون چکھے گا ذائقہ میرا حجرۂ ذات ہے کھلا میرا ٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا چلنے لگتا ہے نقش پا میرا سایہ سائے پہ آ ...

مزید پڑھیے

خلا کے درمیانی موسموں میں

خلا کے درمیانی موسموں میں زمیں ہے آسمانی موسموں میں ملیں گے خاک زادے روشنی سے ابد کے کہکشانی موسموں میں ہوائیں پھول خوشبو دھوپ بارش کسی کی ہر نشانی موسموں میں محبت کے ٹھکانے ڈھونڈھتی ہے بدن کی لا مکانی موسموں میں انوکھے ذائقے سلگا رہی ہے لہو کی آگ پانی موسموں میں سمندر ...

مزید پڑھیے

ریگ ہستی کا استعارہ بن

ریگ ہستی کا استعارہ بن اے سمندر کبھی کنارہ بن یوم وارفتگی منا اک دن رقص کرتے ہوئے شرارہ بن اپنی مرضی کی شکل دے خود کو خود کو سارا مٹا دوبارہ بن چھوڑ باقی تمام سازوں کو بس محبت کا ایک تارا بن پھول بن کر دکھا زمانے کو سنگ مرمر نہ سنگ خارا بن ایک دھاگے سے باندھ لے خود کو ہلکا ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا دکھ گہرا تھا

تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف ...

مزید پڑھیے

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا اب تو دنیا بھی وہ دنیا نہ رہی اب ترا دھیان بھی اتنا نہ رہا قصۂ شوق سناؤں کس کو رازداری کا زمانا نہ رہا زندگی جس کی تمنا میں کٹی وہ مرے حال سے بیگانہ رہا ڈیرے ڈالے ہیں خزاں نے چودیس گل تو گل باغ میں کانٹا نہ رہا دن ...

مزید پڑھیے

شہر سنسان ہے کدھر جائیں

شہر سنسان ہے کدھر جائیں خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں رات کتنی گزر گئی لیکن اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں ان اجالوں کی دھن میں پھرتا ہوں چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں رین اندھیری ہے اور کنارہ دور چاند نکلے تو پار اتر جائیں

مزید پڑھیے

پل پل کانٹا سا چبھتا تھا

پل پل کانٹا سا چبھتا تھا یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا یہ کانٹے اور تیرا دامن میں اپنا دکھ بھول گیا تھا کتنی باتیں کی تھیں لیکن ایک بات سے جی ڈرتا تھا تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی دل کا رنج تو دل میں رہا تھا کسی پرانے وہم نے شاید تجھ کو پھر بے چین کیا تھا میں بھی مسافر تجھ کو بھی ...

مزید پڑھیے

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا پھر تری یاد نے گھیر لیا تھا یاد آئی وہ پہلی بارش جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا ہرے گلاس میں چاند کے ٹکڑے لال صراحی میں سونا تھا چاند کے دل میں جلتا سورج پھول کے سینے میں کانٹا تھا کاغذ کے دل میں چنگاری خس کی زباں پر انگارہ تھا دل کی صورت کا اک پتا تیری ...

مزید پڑھیے

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فن کار بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان دن ...

مزید پڑھیے

کل جنہیں زندگی تھی راس بہت

کل جنہیں زندگی تھی راس بہت آج دیکھا انہیں اداس بہت رفتگاں کا نشاں نہیں ملتا اک رہی ہے زمین گھاس بہت کیوں نہ روؤں تری جدائی میں دن گزارے ہیں تیرے پاس بہت چھاؤں مل جائے دامن گل کی ہے غریبی میں یہ لباس بہت وادئ دل میں پاؤں دیکھ کے رکھ ہے یہاں درد کی اگاس بہت سوکھے پتوں کو دیکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2308 سے 6203