سنگ خارا ہے آئینہ میرا
سنگ خارا ہے آئینہ میرا ایک بچہ ہے ہم نوا میرا بادلوں میں ہے گھونسلہ میرا بھر گیا ہے برآمدہ میرا ایک تیرا ہے دوسرا میرا زخم اندر سے ہے ہرا میرا سب کو معلوم ہے پتا میرا کون چکھے گا ذائقہ میرا حجرۂ ذات ہے کھلا میرا ٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا چلنے لگتا ہے نقش پا میرا سایہ سائے پہ آ ...