قومی زبان

سرحد آواز دل کا دور سے پتھر نہ دیکھ

سرحد آواز دل کا دور سے پتھر نہ دیکھ طائر شوق نوا طوفان کے تیور نہ دیکھ مطلع انوار ہے گو آج تیرا آسماں ڈوبتے سورج کی کرنوں کو مگر تن کر نہ دیکھ دے لب خاموش تک آئی ہوئی باتوں پہ دھیان گر سر مژگاں کھلا اک درد کا دفتر نہ دیکھ برگ خشک و تر رہ زیر و زبر اک واہمہ اے ادائے کجروی اب شوخیٔ ...

مزید پڑھیے

جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے

جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے عاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئے سب منتشر ہیں میرے جنازے کو دیکھ کر تم ساتھ ہو جو حال پریشاں کئے ہوئے اب تو نفس کی آمد و شد بھی ہوئی ہے بند ایسی جگہ ہے سینے میں پیکاں کئے ہوئے کس واسطے یہ محویت آئینہ دیکھ کر کیوں آپ اک جہاں کو ہیں حیراں کئے ...

مزید پڑھیے

میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سے

میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سے کیوں تڑپ جاتا ہے سینے میں تمہارے نام سے سب پئیں ساقی رہیں محروم ہم اک جام سے ہو گئی برگشتہ قسمت گردش ایام سے ہجر کی زحمت سے آغاز جوانی میں مرے تھک گئے تھے ہم کچھ ایسی نیند آئی شام سے غیر کی تشنیع کا ہم دے نہیں سکتے جواب خون کی بوندیں ٹپکتی ...

مزید پڑھیے

یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہو

یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہو دل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہو تم بے نیاز ہو تو ہے قہر اس غریب پر جس کا بجز تمہارے کوئی آسرا نہ ہو محو خرام آپ ہیں بے چین اہل قبر مجھ کو یہ خوف ہے کہ قیامت بپا نہ ہو صدمے اٹھائے ہیں تو دعا ہے یہ ناصریؔ ان ظالموں پہ کوئی بشر مبتلا نہ ہو

مزید پڑھیے

حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے عشق بادیدۂ نم ہو تو غزل ہوتی ہے پھول برسائیں کہ وہ ہنس کے گرائیں بجلی کوئی بھی خاص کرم ہو تو غزل ہوتی ہے کبھی دنیا ہو کبھی تم کبھی تقدیر خلاف روز اک تازہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے دامن ضبط چھٹے چور ہو یا شیشۂ دل حادثہ کوئی اہم ہو تو غزل ہوتی ہے شکن ...

مزید پڑھیے

میں ہوں تری نگاہ میں تو ہے مری نگاہ میں

میں ہوں تری نگاہ میں تو ہے مری نگاہ میں عشق بھی ہے پناہ میں حسن بھی ہے پناہ میں جن کی طلب تھی معتبر مل گئیں ان کو منزلیں جن کی تلاش خام ہے آج بھی ہیں وہ راہ میں پاس بھی ہیں وہ دور بھی قرب بھی ہے فراق بھی کتنا حسیں ہے فاصلہ میرے دل و نگاہ میں عشق ہے وجہ دو جہاں عشق ہے روح دو جہاں خم ...

مزید پڑھیے

نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں

نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں دل بیتاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بیتابی میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں سر محشر اگر پرسش ہوئی مجھ ...

مزید پڑھیے

غنچوں کے تبسم پر ہم غور نہیں کرتے

غنچوں کے تبسم پر ہم غور نہیں کرتے خاموش تکلم پر ہم غور نہیں کرتے ڈوبے کہ رہے کشتی دریائے محبت میں طوفان و تلاطم پر ہم غور نہیں کرتے کلیوں کے تبسم کی تقلید تو کرتے ہیں انجام تبسم پر ہم غور نہیں کرتے ان کے رخ تاباں کی دیکھی ہے جھلک جب سے مہر و مہ و انجم پر ہم غور نہیں کرتے غم ہو ...

مزید پڑھیے

تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے

تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے جب تاروں بھری رات کا احساس ہوا ہے کچھ خود بھی ہوں میں عشق میں افسردہ و غمگیں کچھ تلخئ حالات کا احساس ہوا ہے کیا دیکھیے ان تیرہ نصیبوں کا ہو انجام دن میں بھی جنہیں رات کا احساس ہوا ہے وہ ظلم بھی اب ظلم کی حد تک نہیں کرتے آخر انہیں کس بات کا احساس ...

مزید پڑھیے

ایک دھندلا سا ستارا بھی بہت ہوتا ہے

ایک دھندلا سا ستارا بھی بہت ہوتا ہے شب غم میں یہ سہارا بھی بہت ہوتا ہے گردش وقت پہ کیا ہے مری بربادی میں ہاتھ در پردہ تمہارا بھی بہت ہوتا ہے بے قراران محبت کی تسلی کے لیے ان کا ادنیٰ سا اشارہ بھی بہت ہوتا ہے کیوں میں طوفان و تلاطم کی پناہیں ڈھونڈوں ڈوبنے کو تو کنارا بھی بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2301 سے 6203