نا قابل بیان خطاؤں سے ڈر گئے
نا قابل بیان خطاؤں سے ڈر گئے یہ بھی ہوا ہے لوگ دعاؤں سے ڈر گئے کیا کیا گماں نہ تھے ہمیں دیوار و در کے بیچ اونچائیوں پہ جا کے خلاؤں سے ڈر گئے مجمع میں کر رہے تھے جو بے خوفیوں کی بات تنہا ہوئے تو اپنی صداؤں سے ڈر گئے چنگاریوں کے کھیل میں دامن جلا لیا بھڑکی جو آگ تیز ہواؤں سے ڈر ...