قومی زبان

نا قابل بیان خطاؤں سے ڈر گئے

نا قابل بیان خطاؤں سے ڈر گئے یہ بھی ہوا ہے لوگ دعاؤں سے ڈر گئے کیا کیا گماں نہ تھے ہمیں دیوار و در کے بیچ اونچائیوں پہ جا کے خلاؤں سے ڈر گئے مجمع میں کر رہے تھے جو بے خوفیوں کی بات تنہا ہوئے تو اپنی صداؤں سے ڈر گئے چنگاریوں کے کھیل میں دامن جلا لیا بھڑکی جو آگ تیز ہواؤں سے ڈر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک صبح تمنا کا شہر سجتا ہے

ہر ایک صبح تمنا کا شہر سجتا ہے ہر ایک شب نئی دنیا بسائی جاتی ہے اسی کا نام زمانے نے رکھ لیا آنسو یہ میری پیاس جو آنکھوں میں آئی جاتی ہے ہر ایک ذہن میں ہوتا ہے رنگ خاک وطن زمیں کی خوشبو ضمیروں میں پائی جاتی ہے بچیں تو کیسے بچیں اپنے سائے سے ناشرؔ بدن کی دھوپ منڈیروں تک آئی جاتی ...

مزید پڑھیے

اک ایسا زندگی کا ضابطہ تشکیل کر آیا

اک ایسا زندگی کا ضابطہ تشکیل کر آیا جو سنگ ذات تھا میں اس کو سنگ میل کر آیا نہ حرف و لفظ ہی رکھے نہ ہے صوت و صدا ان میں بس اک سادے ورق پر زندگی تحلیل کر آیا مسیحائی کے چرچے حشر تک یوں ہی مرے ہوں گے صدائے قم بہ اذن اللہ کو انجیل کر آیا جو تیری بات تھی مالک بیاں کر دی زمانے سے جو ...

مزید پڑھیے

پھل جو انگنائی کی دیواروں سے باہر آئیں گے

پھل جو انگنائی کی دیواروں سے باہر آئیں گے اے درختو سوچ لو تم پر بھی پتھر آئیں گے ہر قدم چونکائیں گے جو منزلوں کی راہ میں سوچ کر چلنا یہاں ایسے بھی منظر آئیں گے بس اسی امید پر کاٹے ہیں ہم نے روز و شب کچھ نئے جگنو چمکتے اپنے بھی گھر آئیں گے ہم یہاں پہنچے ہیں رکھ کر اپنے ہی سینے پہ ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے سورج جیسا منظر لگتا ہے

ڈوبتے سورج جیسا منظر لگتا ہے ہجر میں بوجھل آنکھوں سے ڈر لگتا ہے گھس آتا ہے گھور اندھیرا شام ڈھلے چاند جب آ جاتا ہے تو گھر لگتا ہے وہ تو غموں کے بیچ بھی ہنستا رہتا ہے اس کا سراپا نور کا پیکر لگتا ہے جیون میں ہر شام سویرا اور سہی کہاں کہاں پر اپنا بستر لگتا ہے سب کے مکاں شیشے کے ...

مزید پڑھیے

دلوں کے سوختہ اجڑے مکاں سے

دلوں کے سوختہ اجڑے مکاں سے یہ مت پوچھو دھواں اٹھا کہاں سے جہاں آواز تھک کر بیٹھ جائے مجھے آواز دینا تم وہاں سے ابھی تک پاؤں کا کانٹا نہ نکلا سکوں میں ڈھونڈ کر لاؤں کہاں سے ان آنکھوں میں بسی ہے روشنی سی گزر کر آئے ہیں ہم کہکشاں سے مہک آتی نہیں دھرتی کی ان سے اٹھا لے جاؤ رنگوں کو ...

مزید پڑھیے

بے یقینی کا ہر اک سمت اثر جاگتا ہے

بے یقینی کا ہر اک سمت اثر جاگتا ہے ایسی وحشت ہے کہ دیوار میں در جاگتا ہے شام کو کھلتے ہیں در اور کسی دنیا کے رات کو فکر کا بے انت سفر جاگتا ہے جس کو چاہیں یہ اسے اپنا بنا سکتی ہیں تیری آنکھوں کے سمندر میں ہنر جاگتا ہے ہو نہ جائے کہیں مسمار یہ اس بارش میں گھر کی بنیاد میں خاموش ...

مزید پڑھیے

چپ تھے برگد خشک موسم کا گلا کرتے نہ تھے

چپ تھے برگد خشک موسم کا گلا کرتے نہ تھے چل رہی تھیں آندھیاں پتے صدا کرتے نہ تھے ہم رسیدہ تھے کہ دیکھیں دوسروں کو شعلہ پا تھے سفر میں اور سفر کی ابتدا کرتے نہ تھے بند تھا پانی صف آرا تھے غنیم رو سیاہ ہم ادا اس پر بھی رسم کربلا کرتے نہ تھے مطمئن تھے اہل مقتل نیم جاں کر کے مجھے کیسی ...

مزید پڑھیے

رخ پہ بھولی ہوئی پہچان کا ڈر تو آیا

رخ پہ بھولی ہوئی پہچان کا ڈر تو آیا کم سے کم بھیڑ میں اک شخص نظر تو آیا نہ سہی شہر اماں ذہن کا کوفہ ہی سہی گھور جنگل کی مسافت میں نگر تو آیا کٹ گیا مجھ سے مری ذات کا رشتہ لیکن مجھ کو اس شہر میں جینے کا ہنر تو آیا میرے سینے کی طرف خود مرے ناخن لپکے آخر اس زخم کی ٹہنی پہ ثمر تو ...

مزید پڑھیے

رنجشیں سب چھوڑ دیں سب سے لڑائی چھوڑ دی

رنجشیں سب چھوڑ دیں سب سے لڑائی چھوڑ دی عیب تھا سچ بولنا میں نے برائی چھوڑ دی کوئے جاناں میں بھلا اب دیکھنے کو کیا ملا سن رہا ہوں آپ نے بھی بے وفائی چھوڑ دی ذہن میں ابھرے تھے یوں ہی بے وفا یاروں کے نام لکھتے لکھتے کیوں قلم نے روشنائی چھوڑ دی ہم سے پوچھو کس لیے خالی خزانے ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2283 سے 6203