قومی زبان

خوبصورت

زمیں بے درد ہے نا مہرباں ہے آسماں اور جسم زنجیروں میں جکڑے ہیں پپوٹوں میں چبھن ہے خواب زخمی ہیں نہیں آنکھوں کو سکھ کی نیند حاصل ایک لمحہ بھی فضا بے اعتباری کی ہے یوں چھائی وفاداری نہیں اب دیکھتی وعدوں کا چہرہ بھی لہو بھی اپنی حرمت ہے گنوا بیٹھا خدا تیری یہ دنیا پھر بھی بے حد ...

مزید پڑھیے

نہ کام آئی مرے کچھ مری شرافت بھی

نہ کام آئی مرے کچھ مری شرافت بھی مرے خلاف ہوئی اس کے ساتھ خلقت بھی وہ شخص یوں تھا کہ جیسے دھلا دھلایا ہوا تھی ختم اس پہ ہر اک طرح کی نفاست بھی وہ جامہ زیب تھا اتنا کہ تکتے ہی رہیے یہ دل تو چاہتا تھا مستقل رفاقت بھی بلا سبب نہ تھا اس میں وفور خود بینی غرور حسن کے ہم راہ تھی نزاکت ...

مزید پڑھیے

ملتا ہے موج موج مجھے تو کبھی کبھی

ملتا ہے موج موج مجھے تو کبھی کبھی ابھرا ہے تیرا عکس لب جو کبھی کبھی پاتے ہیں کچھ گلاب ٹھکانوں میں پرورش آتی ہے پتھروں سے بھی خوشبو کبھی کبھی یہ بھی ہوا کہ آنکھ بھی پتھرا گئی مری پلکوں پہ جم گئے مرے آنسو کبھی کبھی رکھ صبح و شام شانۂ تدبیر ہاتھ میں حالات کے بکھرتے ہیں گیسو کبھی ...

مزید پڑھیے

وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا

وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا رخ کماں تھا ادھر تیر کا نشانہ ادھر ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا رفو طلب نظر آتا ہے دیکھیے جس کو لباس جاں تو کبھی اتنا ...

مزید پڑھیے

تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے

تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے ہم خواب دیکھنے کے گنہ گار کیوں ہوئے بازار طوطا چشم سے لوٹو تو پوچھنا ہم بے مروتی کے خریدار کیوں ہوئے ہم پر عتاب دھوپ کا ہے تو سبب بھی ہے دشت الم میں سایۂ دیوار کیوں ہوئے احباب کی ہے بات کہیں تو کسے کہیں ہم سانپ پالنے کے گنہ گار کیوں ہوئے پل بھر ...

مزید پڑھیے

باہر باہر دیکھ چکا تو اب کچھ اپنے اندر دیکھ

باہر باہر دیکھ چکا تو اب کچھ اپنے اندر دیکھ نظارے کا لطف یہی ہے الگ الگ ہر منظر دیکھ اوپر اوپر بہتا پانی نیچے نیچے آگ دبی جلتی بجھتی آگ کے اندر صحرا دیکھ سمندر دیکھ آگ پہ چلنا دار پہ چلنا دن کے نگر کا قصہ یہ شب کی کہانی یہ کہ بدن پر بے خوابی کی چادر دیکھ رستے بستے گھر ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

برف‌ زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے

برف‌ زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے جو بھی قصہ ہے لہو کی شعلہ سامانی کا ہے آسماں سے روشنی اتری بھی دھندلا بھی چکی نام روشن ہے تو بس ظلمت کی تابانی کا ہے ریگزار لب کہ ہر سو اگ رہی ہے تشنگی آنکھ میں منظر اچھلتے کودتے پانی کا ہے بے سبب ہرگز نہیں دست کرم کم کم ادھر اس کو ...

مزید پڑھیے

اس قدر رسوائیوں کی گرم بازاری نہ تھی

اس قدر رسوائیوں کی گرم بازاری نہ تھی تھی انا پسپا مگر ایسی بھی پسپائی نہ تھی تھی مگر محرومیوں کی یہ فراوانی نہ تھی آرزو کی کچی کلیوں کی یہ پامالی نہ تھی میں بھی آغاز سفر میں تم سے کچھ کم خوش نہ تھا یہ ہے انجام سفر مجھ کو بھی آگاہی نہ تھی تھی ابھی میری پلک جھپکے پہ دیکھا اور ...

مزید پڑھیے

دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے

دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے رات کیا آئی کہ اپنے بھی پرائے بھی گئے عکس تعبیر کا ابھرے یہ تمنا ہی رہی آئینے خواب کے آنکھوں کو دکھائے بھی گئے تہمت خوشۂ گندم ہے ابھی تک سر پر ہم اچھالے بھی گئے ہم کہ گرائے بھی گئے شجر درد کہ کل بھی تھا ہرا آج بھی ہے وقت کی دھوپ میں ہم گرچہ ...

مزید پڑھیے

تھپک کے وقت تمناؤں کو سلا دے گا

تھپک کے وقت تمناؤں کو سلا دے گا مگر یہ رات کا سورج تو پھر جگا دے گا تھکن کا بوجھ نہ شب کی منڈیر پر رکھو نہیں تو نظروں سے ذوق طلب گرا دے گا سبھا میں سچ کی یدھشٹھر بھی ہوگا شرمندہ دروپدی کو یہ انصاف اور کیا دے گا نہ پھینک میری طرف سنگ بد گمانی کے بکھر کے آئنہ ماحول کو ڈرا دے گا جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2282 سے 6203