قومی زبان

شور مت کرنا ابھی میری غزل کے پیچھے

شور مت کرنا ابھی میری غزل کے پیچھے حسرتیں سوئی ہیں اس تاج محل کے پیچھے غور کرتا ہوں تو کچھ ذائقہ بڑھ جاتا ہے آندھیاں جھیلی ہیں پیڑوں نے بھی پھل کے پیچھے بس یہی سوچ کے میں اپنے اٹھاتا ہوں قدم روح چلتی ہے بزرگوں کی عمل کے پیچھے

مزید پڑھیے

وفا کی راہ میں دل کا سپاس رکھ دوں گا

وفا کی راہ میں دل کا سپاس رکھ دوں گا میں ہر ندی کے کنارے پہ پیاس رکھ دوں گا کرے گی تشنہ لبی فیصلے صداقت کے جھلستے خیمے ترائی کے پاس رکھ دوں گا گلاب سرخ تبسم سے دیں گے میرا پتہ شفق میں اپنا میں خونی لباس رکھ دوں گا جہاں دلوں کو اندھیروں کا سامنا ہوگا وہاں میں اپنے چراغ حواس رکھ ...

مزید پڑھیے

دلوں پہ چھانے لگا دھڑکنوں کی جان ہوا

دلوں پہ چھانے لگا دھڑکنوں کی جان ہوا جب ایک عمر گزاری تو میں جوان ہوا جو بولتا تھا تو مجھ سے شکایتیں تھی بہت میں چپ ہوا تو اسے خوف کا گمان ہوا سفر کا حوصلا رکھتا ہے اڑ بھی سکتا ہے یہ اور بات پرندہ لہولہان ہوا یہی سبب ہے کہ ہر دل میں جا کے بستا ہے مکان جس نے بنائے وہ لا مکان ...

مزید پڑھیے

جواب بن نہ سکا عرض حال ہی نہ کیا

جواب بن نہ سکا عرض حال ہی نہ کیا اسے گھٹن ہے کہ میں نے سوال ہی نہ کیا ہم ایسے پیڑ کہ سورج نہ چھاؤں روک سکا جھلستی دھوپ میں اپنا خیال ہی نہ کیا ادا خلوص سے کی ہم نے رسم ترک وفا اداس ہی نہ ہوئے اور ملال ہی نہ کیا ادھر تھا شور جفا انتظار رد عمل ادھر سکوت تھا چہرے کو لال ہی نہ کیا سفر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک اجنبی بن کر نکل گیا یارو

ہر ایک اجنبی بن کر نکل گیا یارو ہمارا شہر بھی کتنا بدل گیا یارو وہ آدمی جو زمانہ بدل گیا یارو حصار وقت سے آگے نکل گیا یارو میں ایک قطرہ ہوں میری بساط ہی کیا ہے قریب شام تو سورج پگھل گیا یارو کبھی جو آگ کے دریا کو پھاند جاتا تھا وہ آج اپنے چراغوں سے جل گیا یارو کسی کی بزم میں ...

مزید پڑھیے

خامشی رکھی تو چاہت بڑھ گئی

خامشی رکھی تو چاہت بڑھ گئی میری چپ سے اس کی ہمت بڑھ گئی جب تلک تنہا تھا گھر میں شاد تھا بزم میں آیا تو وحشت بڑھ گئی اپنی بدنامی سے ظالم شاد ہے ہو گیا رسوا تو شہرت بڑھ گئی تھا یہ خود غرضی کا اک رد عمل میرے لہجے کی بغاوت بڑھ گئی میرے خط پر اس کا آنسو گر گیا بات چھوٹی تھی عبارت بڑھ ...

مزید پڑھیے

رخ بدلتے ہچکچاتے تھے کہ ڈر ایسا بھی تھا

رخ بدلتے ہچکچاتے تھے کہ ڈر ایسا بھی تھا ہم ہوا کے ساتھ چلتے تھے مگر ایسا بھی تھا لوٹ آتی تھیں کئی سابق پتوں کی چٹھیاں گھر بدل دیتے تھے باشندے مگر ایسا بھی تھا وہ کسی کا بھی نہ تھا لیکن تھا سب کا معتبر کوئی کیا جانے کہ اس میں اک ہنر ایسا بھی تھا پاؤں آئندہ کی جانب سر گزشتہ کی ...

مزید پڑھیے

ابھی تک جب ہمیں جینا نہ آیا

ابھی تک جب ہمیں جینا نہ آیا بھروسا کیا کہ کل آیا نہ آیا جلے ہم یوں کہ جیسے چوب نم ہوں چراغوں کی طرح جلنا نہ آیا غلیلیں لا کے بچے پوچھتے ہیں پرندہ کیوں وہ دوبارا نہ آیا میں کیا کہتا کہ سب کے ساتھ میں تھا عیادت کو بھی وہ تنہا نہ آیا احاطہ چہار دیواری اندھیرا کسی جانب بھی دروازہ ...

مزید پڑھیے

تیز رو پانی کی تیکھی دھار پر بہتے ہوئے

تیز رو پانی کی تیکھی دھار پر بہتے ہوئے کون جانے کب ملیں اس بار کے بچھڑے ہوئے اپنے جسموں کو بھی شاید کھو چکا ہے آدمی راستوں میں پھر رہے ہیں پیرہن بکھرے ہوئے اب یہ عالم ہے کہ میری زندگی کے رات دن صبح ملتے ہیں مجھے اخبار میں لپٹے ہوئے ان گنت چہروں کا بحر بیکراں ہے اور میں مدتیں ...

مزید پڑھیے

نہ مل سکا کہیں ڈھونڈے سے بھی نشان مرا

نہ مل سکا کہیں ڈھونڈے سے بھی نشان مرا تمام رات بھٹکتا رہا کسان مرا میں گھر بسا کے سمندر کے بیچ سویا تھا اٹھا تو آگ کی لپٹوں میں تھا مکان مرا جنوں نہ کہئے اسے خود اذیتی کہئے بدن تمام ہوا ہے لہو لہان مرا ہوائیں گرد کی صورت اڑا رہی ہیں مجھے نہ اب زمیں ہی مری ہے نہ آسمان مرا دھمک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2284 سے 6203