پھول صحرا میں کھلا دے کوئی
پھول صحرا میں کھلا دے کوئی میں اکیلا ہوں صدا دے کوئی کوئی سناٹا سا سناٹا ہے کاش طوفان اٹھا دے کوئی جس نے چاہا تھا مجھے پہلے پہل اس ستم گر کا پتہ دے کوئی جس سے ٹوٹے مرا پندار وفا مجھ کو ایسی بھی سزا دے کوئی رات سوتی ہے تو میں جاگتا ہوں اس کو جا کر یہ بتا دے کوئی جو میرے پاس بھی ...