قومی زبان

پھول صحرا میں کھلا دے کوئی

پھول صحرا میں کھلا دے کوئی میں اکیلا ہوں صدا دے کوئی کوئی سناٹا سا سناٹا ہے کاش طوفان اٹھا دے کوئی جس نے چاہا تھا مجھے پہلے پہل اس ستم گر کا پتہ دے کوئی جس سے ٹوٹے مرا پندار وفا مجھ کو ایسی بھی سزا دے کوئی رات سوتی ہے تو میں جاگتا ہوں اس کو جا کر یہ بتا دے کوئی جو میرے پاس بھی ...

مزید پڑھیے

شوق دل وارفتہ کا اک صید زبوں ہوں!

شوق دل وارفتہ کا اک صید زبوں ہوں! کھلتا ہی نہیں بھید کہ میں کون ہوں کیوں ہوں بس میں ہے کہاں اہل خرد کے مجھے سمجھیں جو آنکھ سے اوجھل ہے میں وہ عکس دروں ہوں خالق ہوں بہاروں کا سر گلشن ہستی جو پھول کھلاتا ہے وہ اک موجۂ خوں ہوں میں دست زمانہ کے مٹائے نہ مٹوں گا اک نقش وفا ہوں کہ سر ...

مزید پڑھیے

بھلا کب تک کوئی تنہا رہے گا

بھلا کب تک کوئی تنہا رہے گا کہاں تک یہ نگر سونا رہے گا شب فرقت تو کٹ جائے گی لیکن تمہارے جور کا چرچا رہے گا ہمیں ترک تعلق بھی گوارا زمانہ کب مگر چپکا رہے گا جہاں بھی نام آئے گا تمہارا یقیناً تذکرہ میرا رہے گا جنون عشق کی وارفتگی پر سبک سر مدتوں صحرا رہے گا

مزید پڑھیے

رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر

رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر مخالفت پہ تلا آسماں بھی کتنی دیر کسی کا نام کسی کا نشاں بھی کتنی دیر ہو جسم خاک تو پھر استخواں بھی کتنی دیر شکست و ریخت کی اس منزل پریشاں میں یقیں کی عمر بھی کتنی گماں بھی کتنی دیر بندھا ہے عہد جو تیغ و گلو کے بیچ تو پھر لرزتی کانپتی ننھی سی جاں ...

مزید پڑھیے

ہم کیا کہ حد نظر تک سراب کی صورت

ہم کیا کہ حد نظر تک سراب کی صورت نہ خاک خاک نہ اب آب آب کی صورت کھلا تھا میں بھی کبھی اک گلاب کی صورت تمام عمر جلا آفتاب کی صورت کنارہ کاٹ رہا ہوں وجود کا اپنے پٹک رہا ہوں میں سر موج آب کی صورت زباں جو سوکھ رہی ہے تو کچھ سبب بھی ہے سمندروں میں رہا ہوں حباب کی صورت برون شہر ہی کیا ...

مزید پڑھیے

رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے

رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے ملتی ہے شکل شہر کی میرے مکان سے خواہش کو اس کی جیسے کوئی دخل ہی نہ تھا یوں اس نے مجھ کو پھینک دیا آسمان سے کیسی لگی ہے آگ کہ بجھتی نہیں کبھی اک سلسلہ ہے کب سے دھویں کا چٹان سے منہ سے جو بات نکلی وہ پہنچی نگر نگر لوٹا نہ پھر وہ تیر جو نکلا کمان ...

مزید پڑھیے

حال ماضی کا سلسلہ کاٹے

حال ماضی کا سلسلہ کاٹے وقت کی وقت ہر صدا کاٹے لمحہ لمحے کا یوں گلا کاٹے سانپ کو جیسے نیولا کاٹے گاؤں کا شہر سلسلہ کاٹے مہر و اخلاص کا گلا کاٹے اس طرح کاٹتی کہاں تلوار جس طرح خنجر انا کاٹے زیست کی تنگ کوٹھری اور میں جیسے مجرم کوئی سزا کاٹے کس تعلق کی ہے سزا آخر خود مجھے آج گھر ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ فریب ثبات رکھ دینا

قدم قدم پہ فریب ثبات رکھ دینا بشر کے نام پہ کل کائنات رکھ دینا ہوائے درد کی زد پر حیات رکھ دینا نہال زخم ہرا شش جہات رکھ دینا لپیٹنا مجھے انفاس کے سلاسل میں اور اس کے بعد کئی حادثات رکھ دینا مگر یہ کیا کہ چھری پر اذیت شب کی کسی کی ہو کہ نہ ہو میری ذات رکھ دینا نہ نیند آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

لیمپ پوسٹ

لیمپ پوسٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے وقت اپنی آنکھوں میں لئے بہت سارے نرم خواب بہت ساری ہولناک یادیں کولتار کی چکنی سڑک پر چلتی نہیں بہتی ہوئی گاڑیاں قطار در قطار ٹرامیں اور بسیں شام کا دھندلکا شریف زادوں سے کھسر پھسر کرتی سستی کوالٹی کی خوشبو میں بسی فلاکت زدہ صورتیں ایک دو تلا ...

مزید پڑھیے

روح کا عہد نامہ

وہ لمحہ وہ اک لمحۂ نرم و شیریں کہ جب اپنے آنگن میں اک پھول مہکا کہ جب تم نے تعمیر کی اپنے قدموں تلے پہلی جنت کہ جب پیار چھلکاتی آنکھیں تمہاری ہوئیں آشنا مامتا سے کہ جب تم نے اک خوب صورت سا آئینہ مجھ کو دیا تھا کہ جب اپنے ہونے کا احساس جاگا تھا دل میں وہی لمحۂ نرم تھا جب بدن کے تعلق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2281 سے 6203