قومی زبان

جو میری آخری خواہش کی ترجماں ٹھہری

جو میری آخری خواہش کی ترجماں ٹھہری وہ ایک غارت جاں ہی متاع جاں ٹھہری یہ غم نہیں کہ مرا آشیاں رہا نہ رہا خوشی یہ ہے کہ یہیں برق بے اماں ٹھہری وہ تیری چشم فسوں ساز تھی کہ موج کرم وہیں وہیں پہ میں ڈوبا جہاں جہاں ٹھہری کبھی تھے اس میں مری زندگی کے ہنگامے وہ اک گلی جو گزر گاہ دشمناں ...

مزید پڑھیے

تم تو اوروں پہ نہ پتھر پھینکو

تم تو اوروں پہ نہ پتھر پھینکو آئینہ خانوں میں رہنے والو کچھ تو ہو صورت تجدید وفا میں بھی سوچوں ذرا تم بھی سوچو میں بہرحال تمہارا ہوں مگر کاش تم بھی مجھے اپنا سمجھو نہ سنو ٹوٹے ہوئے دل کی صدا دو گھڑی پاس تو آ کر بیٹھو کھول کر بند دریچہ ناصرؔ ڈوبتے چاند کا منظر دیکھو

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص کہ جس سے شکایتیں تھیں بہت

وہ ایک شخص کہ جس سے شکایتیں تھیں بہت وہی عزیز اسی سے محبتیں تھیں بہت وہ جب ملا تو دلوں میں کوئی طلب ہی نہ تھی بچھڑ گیا تو ہماری ضرورتیں تھیں بہت ہر ایک موڑ پہ ہم ٹوٹتے بکھرتے رہے ہماری روح میں پنہاں قیامتیں تھیں بہت پہنچ گئے سر منزل تری تمنا میں اگرچہ راہ کٹھن تھی صعوبتیں تھیں ...

مزید پڑھیے

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیے

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیے مجھ کو مری حیات کا مقصد بتائیے مجھ سے بھی کچھ حضور تعلق تھا آپ کا یوں بے مروتی سے نہ دامن چھڑائیے شاید کسی مقام پہ میں کام آ سکوں مجھ کو بھی ساتھ لیجئے تنہا نہ جائیے گزرے گا اس طرف سے بھی اک دن ہجوم گل ہر چند آپ راہ میں کانٹے بچھائیے ناصرؔ ...

مزید پڑھیے

بک فیر

لفظ و معنی کا اک سلسلہ تا بہ حد نظر نیلے پیلے ہرے کاسنی ارغوانی لبادوں میں ملبوس اوراق چاروں طرف دعوت دید دیتی ہوئی دائیں بائیں کتابیں کہ احساس کو گدگداتی ہوئی لفظ در لفظ اعجاز نوک قلم حسن تحریر جادو جگاتا ہوا حسن تخلیق بے جاں میں جاں ڈالتا فکر کی صفحہ صفحہ میں خوشبو بسی خوب ...

مزید پڑھیے

منظر پس منظر

گزرتے لمحوں کا آئینہ جب بھی دیکھتا ہوں یہ سوچتا ہوں وجود کے شہر کی سکونت ہے مختصر جیسے نکہت گل وہ فیصلہ جو رقم ہوا تھا اٹل ہے اب بھی جو آج ہے کل نہیں رہے گا جو کل تھا کب خواب ہو چکا وہ مگر ذرا وقت کی عدالت مجھے بتائے کہ فیصلہ اس کے حق میں کیا ہے وجود کے شہر میں بھی رہ کر جو عمر بھر ...

مزید پڑھیے

ساعتوں کا زندانی

بس اسٹاپ پر دو منٹ کی ملاقات بس دو منٹ کی حالانکہ اس لمبی مدت میں کب نہیں دیکھا تمہیں کب نہیں ملا کل بھی بہت دیر تک باتیں کیں خوابوں کے نگر میں یہ کیا حال ہے اتنے دنوں کہاں رہیں وغیرہ وغیرہ سوال کے سمندر میں سینکڑوں لہریں آئیں وہی پرانی عادت کہ کچھ بتایا کچھ نہیں پھر خاموشی اب ...

مزید پڑھیے

دودھ کا پیڑ

خال و خط دست و پا دست و پا کی تمام انگلیاں انگلیوں سے لگے سارے ناخن کی گولائیاں سارے اعضا علامات ہم رشتگی ہر تعلق نگر اعتبارات کا ہر اکائی رواں اپنے مرکز کی سمت دودھ کا پیڑ سوکھا کہ سارے علامات اک شہر وہم و گماں دشت لا مرکزیت کی بے سمتیٔ فکر کا ہر اکائی شکار ہر لف خوں پہ بے رشتگی ...

مزید پڑھیے

دیار شوق میں کوسوں کہیں ہوا بھی نہیں

دیار شوق میں کوسوں کہیں ہوا بھی نہیں امس ہے ایسا کہ پتہ کوئی ہلا بھی نہیں خفا نہیں ہے مگر اس ادا کو کیا کہئے پکارتا ہوں تو وہ مڑ کے دیکھتا بھی نہیں یہ کس مقام پہ تنہائی سونپتے ہو مجھے کہ اب تو ترک تمنا کا حوصلہ بھی نہیں بڑا گلہ ہے دل‌ غم پرست کو تم سے وہ درد اس کو دیا ہے جو لا دوا ...

مزید پڑھیے

ہم عجب سلسلۂ سیر و سفر رکھتے ہیں

ہم عجب سلسلۂ سیر و سفر رکھتے ہیں ہر قدم ایک نئی راہ گزر رکھتے ہیں زد پہ طوفان کے کاغذ کا نگر رکھتے ہیں لاکھ سیلاب حوادث ہو مگر رکھتے ہیں اس کے با وصف کہ ہر سمت اندھیرا ہے محیط ہم ہیں وہ لوگ جو امید سحر رکھتے ہیں تیری باتیں تری یادیں ترے رنگین خطوط اپنے ہم راہ یہی زاد سفر رکھتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2280 سے 6203