قومی زبان

دل کے بھید کو پائے کون

دل کے بھید کو پائے کون یہ پتھر پگھلائے کون کون لگائے خود کو آگ دیپک راگ سنائے کون اجڑی بستی کے رستے جز آسیب بسائے کون جن کا ایندھن دل کا خوں ایسے دیپ جلائے کون یہ منزل آسان نہیں اپنی راہ بنائے کون کچھ تو ہے اس وحشت میں ورنہ پتھر کھائے کون پاگل ہے دل تیرے لیے پاگل کو سمجھائے ...

مزید پڑھیے

کاغذی کشتی کی آمد کا اشارہ مل گیا

کاغذی کشتی کی آمد کا اشارہ مل گیا ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو گیا شامل غرض کا رنگ موج عشق میں جھیل کے نتھرے ہوئے پانی میں گارا مل گیا گھل گئی بیتابیٔ دل وقت کے محلول میں ضبط کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پارہ مل گیا دل کے کاروبار میں حاصل کی کوئی شرط ہے مل گیا اس راہ میں جس کو ...

مزید پڑھیے

کوئی شے یہ نگر کھونے چلا ہے

کوئی شے یہ نگر کھونے چلا ہے یہاں پر کچھ نہ کچھ ہونے چلا ہے کوئی روکے انہیں محفوظ کر لے مرا قاتل نشاں دھونے چلا ہے دلوں میں خوف بڑھتے جا رہے ہیں نہ جانے کیا سے کیا ہونے چلا ہے نہیں پگھلی اگرچہ موم ہوں میں وہ پتھر ہے مگر رونے چلا ہے خدایا فصل یہ کٹنے نہ پائے وہ کانٹے راہ میں بونے ...

مزید پڑھیے

میری خواہش بہتا پانی

میری خواہش بہتا پانی میری قسمت ٹھہرا پانی گور میں قلزم کی جا سویا کوہ کی گود کا کھیلا پانی اس کی پیاس کی خاطر میں نے پہروں اوک میں رکھا پانی روتے ہیں جب ہو جاتا ہے اپنے سر سے اونچا پانی جس برتن میں ڈالو اس کو ہو جاتا ہے ویسا پانی کچی چھت پر ٹوٹ کے برسا بے حس بہرا اندھا ...

مزید پڑھیے

وعدہ بھی اس نے سوچ کے کرنے نہیں دیا

وعدہ بھی اس نے سوچ کے کرنے نہیں دیا پھر اس کے بعد مجھ کو مکرنے نہیں دیا منزل تمام عمر مرے سامنے رہی اک راستے نے مجھ کو گزرنے نہیں دیا بے خوف کر دیا ہمیں تعویذ عشق نے رسوائی کی بلاؤں سے ڈرنے نہیں دیا ایسا عبور تھا کسی پتھر کو ٹھیس پر آئنہ توڑ کر بھی بکھرنے نہیں دیا جس سرزمیں کے ...

مزید پڑھیے

رات بھر ٹوٹے ہوئے خواب کے آزار کے ساتھ

رات بھر ٹوٹے ہوئے خواب کے آزار کے ساتھ کون روتا ہے مری آنکھ کی دیوار کے ساتھ کس نے باندھا ہے مرے گرد حصار گردش دائرہ کون بناتا ہے یہ پرکار کے ساتھ سر کٹا دے کہ جھکا دے کوئی کمزور وہاں ساتھ دینے کو جو پوچھے کوئی تلوار کے ساتھ خود کشی قتل گری حادثہ دہشت گردی روز اک سوگ چلا آتا ہے ...

مزید پڑھیے

مقام و آب ہوئے ساتھ ساتھ شرمندہ

مقام و آب ہوئے ساتھ ساتھ شرمندہ ہے کربلا جو پشیماں فرات شرمندہ لہو میں ڈوب کے مظلوم سرخ رو نکلے صلیب وقت پہ ظالم کی ذات شرمندہ جب اک جہت سے چلا تیر ننھے بچے پر اس ایک پل میں ہوئے شش جہات شرمندہ کہاں ہے شمر کو توفیق شرمساری کی مگر ہے خنجر قاتل کی دھات شرمندہ گریں جو کٹ کے وہی سر ...

مزید پڑھیے

کیوں ازل سے کوئے مہر و ماہ میں بیٹھے تھے ہم

کیوں ازل سے کوئے مہر و ماہ میں بیٹھے تھے ہم تجھ سے ملنا تھا سو تیری راہ میں بیٹھے تھے ہم پر تشدد تھے مناظر سامنے اسکرین پر بند آنکھوں سے تماشا گاہ میں بیٹھے تھے ہم کون ہم کو جانتا تھا اس جگہ پھر بھی مگر سب سے پیچھے چھپ کے بزم شاہ میں بیٹھے تھے ہم چاندنی کا تخت تھا اور روشنی کا ...

مزید پڑھیے

تیری منشا ہے خاموشی میری ہے مرضی آواز

تیری منشا ہے خاموشی میری ہے مرضی آواز آؤ مل کر آج بنائیں ہم کوئی فرضی آواز چھاگل بھی لبریز ہے اب تو لیکن میری گونگی پیاس تیری اوک سے پینا چاہے ٹھنڈے چشمے کی آواز کس کی ہو زرخیز سماعت کس کی بنجر کیا معلوم بھٹکے ہر اک سمت ٹٹولے ہر رستہ اندھی آواز دل سے لب تک آتے آتے لفظ بدل جاتے ...

مزید پڑھیے

کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں

کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں ہوئیں کچھ اور نوکیلی ہوائیں سنہری دھوپ اوڑھے ناچتی ہیں مرے آنگن میں چمکیلی ہوائیں مری چنری سجاتی ہیں دھنک سے گلابی کاسنی نیلی ہوائیں عجب ہے پھولتی سرسوں کا جادو ہرے رستے چلیں پیلی ہوائیں شمالی کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں دسمبر کی یہ برفیلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2276 سے 6203