قومی زبان

ہمارے بچنے کی لوگو سبیل کوئی نہیں

ہمارے بچنے کی لوگو سبیل کوئی نہیں تمام شہر ہے منصف وکیل کوئی نہیں نہیں ہے یاد مسافت کا کچھ حساب مجھے رہ طلب میں مری سنگ میل کوئی نہیں اسے یقین کہ وہ کائنات میں تنہا مجھے یہ زعم کہ میری مثیل کوئی نہیں نہیں ہے کوئی ضمانت مرے تحفظ کی ہوں ایسا قلعہ کہ جس کی فصیل کوئی نہیں یہ اور ...

مزید پڑھیے

بینر پر لکھے خواب

ایک سرد دن ایک گرم بوسے کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے اور ایک بوسہ بچایا جا سکتا ہے اگلے دن کے لئے ایک گرم دن گزار سکتے ہیں کسی سرد آہ کے ساتھ اور سرد پڑ سکتے ہیں اگلے دن بینر پر لکھے جا سکتے ہیں اپنے خواب اور رات کو آگ میں جھونک سکتے ہیں اپنی آنکھیں ایک صدی گزار سکتے ہیں کسی موڑ پہ ...

مزید پڑھیے

ڈائری میں لکھا میں

جب پہاڑ رو رہے تھے میرا جنم ہوا میں اپنا خواب بیری کے پیڑوں میں بو کر مسکراہٹ کی تلاش میں نکل پڑا رستے میں مجھے ایک ڈایری ملی جس کے پہلے صفحے پر درج تھا زندگی خود بخود کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ یہ محض آپ کے فیصلوں کے انجام سے آپ کو ملاتی ہے ڈایری کے باقی صفحے بالکل چپ تھے میں کسی ...

مزید پڑھیے

پینٹنگ

کھڑکی سے نکلنے والے ہاتھ میرا گلا دبوچ سکتے ہیں تنہائی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ٹرین سے میری لاش مل سکتی ہے تمہاری انگلیوں کے نشان قبرستان میں رینگنے والی نظموں کے پیر چھل گئے ہیں تمہارے سینے پر چلتے چلتے کوہ پیما پاتال میں جا گرتا ہے اوپر آسمان پر دل نقش ہوتا ہے

مزید پڑھیے

محسوس کرو

روشندان سے آتی آدھی روشنی کا دکھ جس کا حمل کبھی نہیں ٹھہرے گا محسوس کرو کمرے کی تشنگی کو جیسے کسی باکرہ کے ننگے بدن کو پلنگ پر سلگتا ہوا چھوڑ دیا گیا ہو محسوس کرو اندھیرے کی ذات کو جو کمرے میں بغیر ڈھول کی تھاپ کے ناچ رہی ہے محسوس کرو اس گھٹن کو جس کے روشندان سے نکلنے کا راستہ ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے یوں کہ اسے ہم تمام بھول گئے

نہیں ہے یوں کہ اسے ہم تمام بھول گئے وہ شکل یاد رہی اس کا نام بھول گئے وہ بولتی ہوئی آنکھیں ہمیں رہیں ازبر زبان خلق کے سارے کلام بھول گئے تلاش تشنہ لبی میں وہ نشہ تھا کہ ہمیں نصیب میں تھے جو لبریز جام بھول گئے ملا تو سنتے رہے داستان دشمن کی ہمارے دل میں تھا جو انتقام بھول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2277 سے 6203