قومی زبان

آج کے منافق

دلوں میں کفر لبوں پر حمایت اسلام چھری بغل میں دبائے ہوئے ہیں منہ پر رام مکالمہ ہے جنوں سے تو عقل سے بھی کلام لبوں پہ نعرۂ تحسین ذہن میں دشنام یہ خواہشوں کے پجاری یہ مصلحت کے غلام فریب و مکر کے قصے منافقت کے نام کہیں بہ نام خوشامد یہ بک گئے بے دام کہیں پہ بولی تھی اونچی تو ہو گئے ...

مزید پڑھیے

اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالو

اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالو ہم کو اپنے گلے لگا لو گالی نہ دیا کرو کسی کو بس بس اپنی زباں سنبھالو غرفے میں سے جھانک پاس اپنے غیروں کو ہنسی خوشی بلا لو اور ہم سے ہزار حیف پیارے منہ کو شرما کے یوں چھپا لو ہے قافلہ عمر کا روانہ رخت اپنا مسافرو سنبھالو بت خانے کی راہ کو ...

مزید پڑھیے

جب تیغ کو پکڑ وہ خونخوار گھر سے نکلا

جب تیغ کو پکڑ وہ خونخوار گھر سے نکلا تب میں بھی جان سے ہو بیزار گھر سے نکلا ہر مو کمر کے سو سو بل پڑ گئے کمر میں پٹکا جو باندھ کر وہ بل دار گھر سے نکلا کشتے کو تیرے در سے افسوس لے گئے کل اور تو نہ اک قدم بھی اے یار گھر سے نکلا چھوڑا نہ جب گریباں دست جنوں نے میرا تب چیر کر میں اس کو ...

مزید پڑھیے

ساقیا ہے یہ جام کا عالم

ساقیا ہے یہ جام کا عالم جیسے ماہ تمام کا عالم کبک رفتار اپنی بھول گئے دیکھو اس کے خرام کا عالم اب خدا پھر ہمیں نہ دکھلائے شب ہجراں کی شام کا عالم تجھ پہ ہے ان دنوں میں نام خدا کچھ عجب دھوم دھام کا عالم

مزید پڑھیے

مقابل ہے جو مرے عکس کے اس آئنے میں ہوں

مقابل ہے جو مرے عکس کے اس آئنے میں ہوں میں خود پر منکشف ہونے کے نازک مرحلے میں ہوں خودی کے موڑ پر ہوں آپ ہی میں منتظر اپنی تعارف کی نئی منزل کے پہلے راستے میں ہوں کشش تیری سہی گردش مری اپنی ہے اے محور ترے ہی گرد ہوں لیکن میں اپنے دائرے میں ہوں ابھی اس روشنی کی اصلیت کا راز مت ...

مزید پڑھیے

لب کشائی میں زمانے سے نہیں ڈرنا تھا

لب کشائی میں زمانے سے نہیں ڈرنا تھا عمر بھر ہم نے کیا کیا ہمیں کیا کرنا تھا سرخ رو کار جہاں محفل دل بے رونق بھر دیا رنگ کہاں ہم نے کہاں بھرنا تھا کس گزر گاہ سے مانوس قدم ہو بیٹھے اس جگہ ہم نے تو پاؤں ہی نہیں دھرنا تھا بند آنکھوں سے بتا سکتے ہیں وہ خواب نگر اس جگہ جھیل تھی یاں ہم ...

مزید پڑھیے

ہماری چاند سے صحبت نہیں ہو پائی کوشش کی

ہماری چاند سے صحبت نہیں ہو پائی کوشش کی زمین ہجر سے ہجرت نہیں ہو پائی کوشش کی بھلایا بھی تمہاری یاد کو کچھ دیر تک لیکن کبھی یہ مستقل عادت نہیں ہو پائی کوشش کی تمہاری بے رخی تم سے خریدوں اور برتوں میں مگر طے کوئی بھی قیمت نہیں ہو پائی کوشش کی دعائیں مانگتے ہی رہ گئے باران رحمت ...

مزید پڑھیے

سفر کا اور کوئی سلسلہ نکالیں گے

سفر کا اور کوئی سلسلہ نکالیں گے بھٹک گئے تو نیا راستہ نکالیں گے قریب آنے لگے گی جو وصل کی منزل ہم اپنے بیچ کوئی فاصلہ نکالیں گے سمیٹ کر کسی کونے میں گٹھڑیاں غم کی نئی خوشی کے لیے ہم جگہ نکالیں گے بنیں گے عشق عدالت میں ہم وکیل ترے پرانی بات میں نکتہ نیا نکالیں گے رہے جو عمر کی ...

مزید پڑھیے

اپنے آنگن پالی مٹی

اپنے آنگن پالی مٹی ہم نے خوشبو والی مٹی بارش کی پہلی بوندوں نے سوندھی سی کر ڈالی مٹی یاد خدا کی آئی اس کو جس نے بت میں ڈھالی مٹی آپس کی چاہت میں گم ہیں بیج کیاری مالی مٹی بھر جاتی ہیں سانسیں آخر رہ جاتی ہے خالی مٹی اس میں بو کر دیپ لہو کے ہم نے اور اجالی مٹی مانگ رہی تھی قرض ...

مزید پڑھیے

ہمارے بچنے کی لوگو سبیل کوئی نہیں

ہمارے بچنے کی لوگو سبیل کوئی نہیں تمام شہر ہے منصف وکیل کوئی نہیں نہیں ہے یاد مسافت کا کچھ حساب مجھے رہ طلب میں مری سنگ میل کوئی نہیں اسے یقین کہ وہ کائنات میں تنہا مجھے یہ زعم کہ میری مثیل کوئی نہیں نہیں ہے کوئی ضمانت مرے تحفظ کی قلعہ ہوں ایسا کہ جس کی فصیل کوئی نہیں یہ اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2275 سے 6203