قومی زبان

اب دل میں آرزوؤں کے آثار دیکھنا

اب دل میں آرزوؤں کے آثار دیکھنا ویرانیوں میں شہر نمودار دیکھنا کون آ گیا چراغ کی لو کس نے تیز کی شعلے سے ہو گیا ہے کسے پیار دیکھنا دو اشک چشم ناز کی دنیا بدل گئے اک برگ گل پہ اوس کی مقدار دیکھنا منصور اک گرفت میں منصور ہو گیا بندہ نوازیٔ رسن و دار دیکھنا یہ کون جھانکتا ہے ...

مزید پڑھیے

سراسر ان کو گلستان آرزو کہیے

سراسر ان کو گلستان آرزو کہیے رکیں تو رنگ سمجھئے چلیں تو بو کہیے ہماری تشنگیٔ شوق کی ہے بات کچھ اور یہ وہ نہیں جسے دوران گفتگو کہیے مجھے شکست کا الزام بھی قبول مگر مقابل آئیے برباد جستجو کہیے سوال شوق کا اکثر جواب بنتی ہے تری نظر کی خموشی کو گفتگو کہیے ہماری تشنہ لبی کو نہ کر ...

مزید پڑھیے

ہم آج اپنے تصور میں بار بار آئے

ہم آج اپنے تصور میں بار بار آئے گزشتہ عمر کئی مرتبہ گزار آئے بہار لالہ و گل اتنی مختصر کیوں ہو کہ اعتبار کی حد تک نہ اعتبار آئے گلوں کا جائزہ لے کر شمار کرتا ہوں مرے نصیب میں زخموں کے کتنے ہار آئے طلب شناس ستاروں کی انجمن میں گئے نظر سے وادیٔ مہتاب میں پکار آئے ہر ایک دل کو کیا ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے ان کی آنسو نکلے

آنکھ سے ان کی آنسو نکلے یا مٹھی سے جگنو نکلے پھول کھلے تو نگہت کم ہو زخم ہنسے تو خوشبو نکلے ساتھ اشکوں کے ایک تصور جیسے آپ لب جو نکلے تیرا دھیان آیا یوں جیسے برف کی وادی سے لو نکلے کھلتی کلی کو چوم لیا ہے ہاتھ مرے بے قابو نکلے ایک میں دنیا ایک میں عقبیٰ دونوں ہاتھ ترازو ...

مزید پڑھیے

کسی عارضی خوشی کا بہ خوشی شکار ہوتا

کسی عارضی خوشی کا بہ خوشی شکار ہوتا مجھے غم کی عظمتوں پر جو نہ اعتبار ہوتا یہ فروغ دشت و صحرا ہے شکست گلستاں سے نہ گلوں کا رنگ اڑتا نہ کہیں غبار ہوتا مرے نخل زندگی نے کئی رخ ہوا کے دیکھے کوئی رت کبھی نہ آتی تو سدا بہار ہوتا تری یاد اگر نہ ہوتی تو حیات کا سفینہ نہ عبور شام کرتا نہ ...

مزید پڑھیے

جو ہے نئے وقت کا تقاضا تو یہ روش اختیار کر لوں

جو ہے نئے وقت کا تقاضا تو یہ روش اختیار کر لوں کہ خار آنکھوں میں چن کے رکھ لوں دہکتے شعلوں کو پیار کر لوں چمن کی فطرت سمجھ رہا ہوں خزاں کو بھی جانتا ہوں لیکن اشارے کرتے ہیں غنچہ و گل کہ بندگیٔ بہار کر لوں یہ دیکھنا ہے رہ طلب میں ملیں گی گمراہیاں کہاں تک فریب منزل جو دے رہے ہیں میں ...

مزید پڑھیے

وہ ایک نام جو گیسوئے غم کا شانہ تھا

وہ ایک نام جو گیسوئے غم کا شانہ تھا وہ اک حسین تعارف جو غائبانہ تھا مرے جنوں پہ برستے رہے بہار کے پھول ہر ایک سنگ میں پنہاں نگار خانہ تھا رکے جو ہم تو ہوئی تیز گردش دوراں قدم بڑھائے تو ٹھہرا ہوا زمانہ تھا غم حیات کے دور عتاب میں نازشؔ مری ہنسی کا ہر انداز مجرمانہ تھا

مزید پڑھیے

وہ نہیں ہے تو زندگی کیسی

وہ نہیں ہے تو زندگی کیسی اس اندھیرے میں روشنی کیسی دل کی بربادیوں کے ماتم پر زیر لب ہے ترے ہنسی کیسی کون رہ رہ کے یاد آتا ہے دل میں رہتی ہے بیکلی کیسی سوز دل نے بدن جلا ڈالا پھر مرے رخ پہ تازگی کیسی ہم سفر ہو کے کارواں لوٹا رہبری میں یہ رہزنی کیسی مجھ کو احساس آسماں نہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شب میں بیاں کس سے میں روداد کروں

ہجر کی شب میں بیاں کس سے میں روداد کروں ان کا پردہ بھی رکھوں اپنی بھی فریاد کروں آہ و نالہ نہ کروں اور نہ فریاد کروں سوچتا ہوں میں انہیں کس طرح اب یاد کروں محفل غیر میں وہ مجھ کو ملیں تو اے دل کس طرح ذکر ترا اے دل ناشاد کروں ماسوا تیرے نظر میں کوئی جچتا ہی نہیں خانۂ دل میں تجھے ...

مزید پڑھیے

غم ہے کھانے کو اشک پینے کو

غم ہے کھانے کو اشک پینے کو یہ بھی کم کیا ہے اپنے جینے کو دل میں ہرگز نہ رکھئے کینے کو اور بھی غم بہت ہیں جینے کو اپنے دل میں چھپائے پھرتا ہوں میں ترے درد کے دفینے کو جس کو کہتی ہے اشک غم دنیا کوئی دیکھے تو اس نگینے کو موج در موج آ رہی ہے صدا ڈوب جانے دو اب سفینے کو لاگ میں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2199 سے 6203