کھوئے ہوئے تھے اپنی ہی تنہائیوں میں ہم
کھوئے ہوئے تھے اپنی ہی تنہائیوں میں ہم ابھرے ہیں ڈوب ڈوب کے گہرائیوں میں ہم رکھتے رہے نہ جانے کس انداز سے قدم ٹھہرے ہیں طاق حادثہ پیمائیوں میں ہم یہ اور بات ہونٹ کبھی تر نہ کر سکے ہر چند تیرتے رہے پروائیوں میں ہم عظمت ملے تو اس کے تعاقب میں رہ نہ جائیں اب تک تو پیش پیش ہیں ...