قومی زبان

کھوئے ہوئے تھے اپنی ہی تنہائیوں میں ہم

کھوئے ہوئے تھے اپنی ہی تنہائیوں میں ہم ابھرے ہیں ڈوب ڈوب کے گہرائیوں میں ہم رکھتے رہے نہ جانے کس انداز سے قدم ٹھہرے ہیں طاق حادثہ پیمائیوں میں ہم یہ اور بات ہونٹ کبھی تر نہ کر سکے ہر چند تیرتے رہے پروائیوں میں ہم عظمت ملے تو اس کے تعاقب میں رہ نہ جائیں اب تک تو پیش پیش ہیں ...

مزید پڑھیے

ہم سانس بھی لینے کے سزاوار نہ ٹھہرے

ہم سانس بھی لینے کے سزاوار نہ ٹھہرے ماضی کے خرابے کی بھی دیوار نہ ٹھہرے سو بار دھواں پھول کے سینے سے اٹھا ہے بادل کے قدم باغ میں اک بار نہ ٹھہرے یوں میری امیدوں کے محل ہو گئے مسمار جس طرح کوئی ریت کی دیوار نہ ٹھہرے پہنچا نئے حالات کے دھارے پہ سفینہ ممکن ہے مرے ہاتھ میں پتوار نہ ...

مزید پڑھیے

میں اک کشاکش امید و بیم تک پہنچا

میں اک کشاکش امید و بیم تک پہنچا کبھی تپش کبھی موج نسیم تک پہنچا ہر ایک گام پہ تحقیق چاہتی تھی خرد بھٹک گیا تو رہ مستقیم تک پہنچا مری نگاہ نے دل میں ترے اتار دیا وہ لفظ جو نہ زبان کلیم تک پہنچا تمہاری یاد نے ماضی کا روپ دہرایا یہ ساز نو بھی نوائے قدیم تک پہنچا لیے چراغ شناسائی ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل سے رنگ غم نہ اترا

ہمارے دل سے رنگ غم نہ اترا بھرا بھی زخم تو مرہم نہ اترا بہت تلخی تھی ناکامی کی لیکن خمار کوشش پیہم نہ اترا تحمل نے بہت طوفاں کیے جذب مگر دریائے شام غم نہ اترا بڑھی کچھ اور گل کی تشنہ کامی جگر میں قطرۂ شبنم نہ اترا نہ پہنچا طاق نسیاں تک کبھی ہاتھ دوبارہ ہم سے جام جم نہ ...

مزید پڑھیے

سحر ملنے کو خود آئی ہے چلئے

سحر ملنے کو خود آئی ہے چلئے حصار شب سے تو باہر نکلیے نظر آئے جہاں بھی کوئی رہبر وہیں سے راستہ اپنا بدلیے پڑے سے راستہ اپنا بدلیے کہ ٹھوکر کھائیے اور پھر سنبھلیے بہاروں نے تو چھوڑا گل کا دامن چمن کی خاک اب چہرے پہ ملیے جہاں کی سرد مہری کہہ رہی ہے کہ برفانی ہوا میں رہ کے ...

مزید پڑھیے

رہ وفا سے گریز کرنا ثبوت خود آگہی نہیں ہے

رہ وفا سے گریز کرنا ثبوت خود آگہی نہیں ہے مقام دار و رسن سے ہٹ کر تو دور تک زندگی نہیں ہے یہی دلیل جواز مستی یہی ہے بنیاد مے پرستی عطائے پیر مغاں سے کمتر مذاق تشنہ لبی نہیں ہے نہ اب وہ سرگرمیٔ وفا ہے نہ شعلہ ساماں کوئی تمنا جنوں تڑپتا ہوا نہیں ہے نظر سلگتی ہوئی نہیں ہے ابھی رخ ...

مزید پڑھیے

ہماری طرح صدا اک اچھال کر دیکھو

ہماری طرح صدا اک اچھال کر دیکھو جواب کچھ نہ ملے گا سوال کر دیکھو حسین شب سے جو شرمندہ ہو کے ڈوب گیا ندی سے آج وہ سورج نکال کر دیکھو وہ اپنی ذات تھی جو ٹوٹی اور نہیں بکھری یہ آئنہ ہے اسے تم سنبھال کر دیکھو غریب دھوپ جو بکھری پڑی ہے کمرے میں سمیٹو اور نئے سورج میں ڈھال کر ...

مزید پڑھیے

اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے

اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے کوئی تو آئے خزاں میں پتے اگانے والا گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے کوئی دکھائے محبتوں کے سراب مجھ کو مری نگاہوں سے بات کرنا کوئی تو سیکھے کوئی تو آئے نئی رتوں کا پیام لے کر اندھیری راتوں میں ...

مزید پڑھیے

اس نے خواب میں مجھ کو جب دو کنول دیے

اس نے خواب میں مجھ کو جب دو کنول دیے جیون کی ندیا کے دھارے بدل دیے ان پھولوں کی اب بھی یاد ستاتی ہے پھول جو اپنے ہاتھوں خود ہی مسل دیے میں نے جھیل کنارے اس کا نام لیا جھیل نے ہنس کے نیلے موتی اگل دیے سارے ارماں کب نکلے ہیں سینے سے ایسے بھی ہیں سینے میں جو مچل دیے ایسے بھی تھے ...

مزید پڑھیے

کسی جہاں میں ہوں تیرا خیال رکھتی ہوں

کسی جہاں میں ہوں تیرا خیال رکھتی ہوں ترے خیال سے دل کو اجال رکھتی ہوں نگہ کی تشنگی ایسی کہ سیر ہوتی نہیں میں تشنہ آنکھوں میں تیرا جمال رکھتی ہوں میں تیرے فیل کو ماروں گی اپنے پیادے سے بساط وقت پہ خود اپنی چال رکھتی ہوں یہ میرے شعر جو ہر ایک کی زباں پر ہیں میں اپنے شعروں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2198 سے 6203