لائیک ویک
ماں مجھے لوری سنا لوری جو تیرا فرض ہے اور بیس برسوں سے ترے ہونٹوں پہ میرا فرض ہے بیس برسوں سے میں سکھ کی نیند سو پایہ نہیں میرے زخمیدہ پپوٹوں کو کسی لمحے نے سہلایا نہیں میرے چاروں سمت ٹھہری رات جلتی جنگ کے میدان میں لاشوں پٹے کھلیان ہیں رستوں بھرے سارے نگر ویران ہیں اور میں کسی ...