قومی زبان

لائیک ویک

ماں مجھے لوری سنا لوری جو تیرا فرض ہے اور بیس برسوں سے ترے ہونٹوں پہ میرا فرض ہے بیس برسوں سے میں سکھ کی نیند سو پایہ نہیں میرے زخمیدہ پپوٹوں کو کسی لمحے نے سہلایا نہیں میرے چاروں سمت ٹھہری رات جلتی جنگ کے میدان میں لاشوں پٹے کھلیان ہیں رستوں بھرے سارے نگر ویران ہیں اور میں کسی ...

مزید پڑھیے

عطائے رائیگاں

مرے سینے کو اپنی جگمگاتی انگلیوں سے چیرنے والے تو مجھ پر میرے آنے والے دن کو بے جہت کر دے کہ میں نے جس قدر جانا ہے اتنے دکھ اٹھائے ہیں مرے اندر مرے سارے سفر کا بے نوا بیکار پن آتش فشاں لاوے کی صورت سانس لیتا ہے کہ جیسے بند جوہڑ کے کھڑے پانی میں کیڑے کلبلاہٹ ہیں تعفن انگنت لفظوں کی ...

مزید پڑھیے

سب کی خیر مناؤ بابا

سب کی خیر مناؤ بابا خنجر مت چمکاؤ بابا دل تو ہے اک ناؤ بابا تم مانجھی بن جاؤ بابا غم تو انساں کی قسمت ہے غم سے مت گھبراؤ بابا میری آنکھیں سونی سونی تم کاجل بن جاؤ بابا تم کو نظریں ڈھونڈ رہی ہیں آنکھوں میں چھپ جاؤ بابا کلیاں کیسے پھول بنیں گی کچھ مجھ کو سمجھاؤ بابا پیاسی ...

مزید پڑھیے

ٹھہرے پانی میں یہ مہتاب سا رکھا کیا ہے

ٹھہرے پانی میں یہ مہتاب سا رکھا کیا ہے آپ کی آنکھ میں سیلاب سا رکھا کیا ہے میری تقدیر میں تو کوئی بھی تعبیر نہیں پھر یہ پلکوں پہ مری خواب سا رکھا کیا ہے میں نے موتی کے ذخیرے تو بہت دیکھے ہیں سامنے گوہر نایاب سا رکھا کیا ہے اے مرے ڈوبتے سورج یہ بتا دے مجھ کو تیرے دامن میں یہ ...

مزید پڑھیے

فٹ پاتھ پہ لیٹے ہیں خود اپنا بدن اوڑھے

فٹ پاتھ پہ لیٹے ہیں خود اپنا بدن اوڑھے دھرتی کے بچھونے پر تاروں کا گگن اوڑھے سایہ ہے نہ ہمسایہ منزل ہے نہ رستہ ہے کانٹوں کی صدارت میں بیٹھے ہیں چمن اوڑھے پھر ان کے تغافل سے آنکھوں میں نمی آئی جیتے رہے ہم اب تک وعدوں کا کفن اوڑھے حالات نے ہر شے کی تاثیر بدل ڈالی سنتے ہیں کہ شبنم ...

مزید پڑھیے

حاشیے پر لکھی ہوئی ہوں میں

حاشیے پر لکھی ہوئی ہوں میں امن کی بات آخری ہوں میں میں وہیں ہوں جہاں ملے تھے ہم کس قدر پیچھے رہ گئی ہوں میں اس سے کہنا تھا بھول جاؤ مجھے فون پر فون کر رہی ہوں میں جب وہ گہنے دکھانے آتی ہے اس کے سب چھید دیکھتی ہوں میں بیچ کر زیورات شادی کے چند خوشیاں خریدتی ہوں میں تم گرا کر ...

مزید پڑھیے

شہر میں دریا دلی کی لن ترانی اور ہے

شہر میں دریا دلی کی لن ترانی اور ہے پر مرے پنگھٹ سے بہتا ہے جو پانی اور ہے جو تری پسلی سے نکلی تھی وہ کوئی اور تھی یہ جو آنگن میں کھلی ہے شب کی رانی اور ہے آرزوئے رنگ میں کوری چنریا کھو گئی مل گئی واپس جو وہ میلی نشانی اور ہے چمنیوں سے جو دھواں اٹھا تھا شاید خواب تھا بند دروازوں ...

مزید پڑھیے

اب بھی پلکوں پہ کچھ گھٹائیں ہیں

اب بھی پلکوں پہ کچھ گھٹائیں ہیں بھیگے موسم ہیں نم ہوائیں ہیں رات خوابوں میں کون آیا تھا کس لیے اوج پر ادائیں ہیں دل اسی شخص کی بلائیں لے جس کے ہونے سے سب بلائیں ہیں جن کو اوڑھا ہے بے حجابی میں وہ ترے پیار کی قبائیں ہیں حسب معمول بے رخی اس کی حسب عادت مری صدائیں ہیں

مزید پڑھیے

یہ غم بھی ہے کہ تیرے پیار کا دعویٰ نہیں کرتا

یہ غم بھی ہے کہ تیرے پیار کا دعویٰ نہیں کرتا خوشی بھی ہے کہ اپنے آپ سے دھوکا نہیں کرتا اگر میں نے تجھے دنیا پہ قرباں کر دیا تو کیا یہاں انسان جینے کے لیے کیا کیا نہیں کرتا جو ان سونے کی دہلیزوں پہ جا کر ختم ہوتی ہیں میں ان گلیوں سے اب تیرا پتہ پوچھا نہیں کرتا وہ جس پر تو نے دو دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2192 سے 6203