قومی زبان

میری اپنائی ہوئی قدروں نے ہی نوچا مجھے

میری اپنائی ہوئی قدروں نے ہی نوچا مجھے تو نے کس تہذیب کے پتھر سے لا باندھا مجھے میں نے ساحل پر جلا دیں مصلحت کی کشتیاں اب کسی کی بے وفائی کا نہیں کھٹکا مجھے دست و پا بستہ کھڑا ہوں پیاس کے صحراؤں میں اے فرات زندگی تو نے یہ کیا بخشا مجھے چند کرنیں جو مرے کاسے میں ہیں ان کے عوض شب ...

مزید پڑھیے

مجھ کو بے خوابی کی ٹہنی پر سسکتے دیکھتا رہتا ہے وہ

مجھ کو بے خوابی کی ٹہنی پر سسکتے دیکھتا رہتا ہے وہ اپنی ہی بے دردیوں کو یوں مہکتے دیکھتا رہتا ہے وہ صورت مہتاب رہتا ہے مرے سر پر سفر کے ساتھ ساتھ مجھ کو صحرا کی اداسی میں بھٹکتے رہتا ہے وہ پیڑ کی صورت کھڑا رہتا ہے میری موج کی سرحد کے پاس میرے سر پر دھوپ کے نیزے چمکتے دیکھتا رہتا ...

مزید پڑھیے

مجھے سنبھال مرا ہاتھ تھام کر لے جا

مجھے سنبھال مرا ہاتھ تھام کر لے جا تھکا ہوا ہوں کئی دن کا مجھ کو گھر لے جا گرفت گل سے نکل کر بکھرتا جاتا ہوں مجھے ہوا کے پروں میں سمیٹ کر لے جا جہاں سے مانگ مرے نام پر حیات کی بھیک تو میرا کاسۂ‌ احساس در بدر لے جا جہان پست کو پھر دیکھنے کی خواہش ہے شعور غم مجھے غم کے پہاڑ پر لے ...

مزید پڑھیے

جو میرے دل میں فروزاں ہے شاعری کی طرح

جو میرے دل میں فروزاں ہے شاعری کی طرح میں اس کو ڈھونڈھتا پھرتا ہوں نوکری کی طرح جو میری ذات کا اظہار ہے وہ لفظ ابھی مرے لبوں پہ سسکتا ہے خامشی کی طرح ہوا کا ساتھ نہ دے اس نگر برس کے گزر میں بے حیات ہوں سوکھی ہوئی ندی کی طرح تو لا زوال ہے بے معنویتوں کی مثال میں بے ثبات ہوں مانگی ...

مزید پڑھیے

کویا

زمیں کی کئی گردشیں میری سوچوں کے پتوں میں چھپ کر حسیں ریشمیں سازشیں بن رہی ہیں حسیں ریشمیں سازشیں جن سے کل کی قبا آنے والے دھندلکوں کے اجلے عمامے نئی ساعتوں کے دوپٹے بنیں گے حسیں ریشمیں سازشیں جن سے اونچے محلات کی خواب گاہوں کے باریک پردے منقش غلافوں میں لپٹے ہوئے نرم تکیے ...

مزید پڑھیے

چوتھا کوارٹر

صبح سورج رات کی تیرہ سلاخوں سے نکل آیا اور اس نے شہر کی ننگی ہتھیلی میں شعاع حرکت بے سود کی اک کیل گاڑی اور سارے شہر کی مخلوق جیسے اپنے اپنے حلقۂ مرگ مسلسل کی طرف بھاگی ادھر چوتھے کوارٹر سے وہ نکلی پوپلے منہ اور پچکے گال میک اپ کے پلستر میں چھپائے فیشنی کپڑوں میں کفنایا ...

مزید پڑھیے

طلوع منظر کی آنکھ چپ ہے

صعوبت جاں قرن قرن ہے زکوٰۃ مہلت ہے لمحہ لمحہ وہ انگلیاں اب تھکی ہوئی ہیں جنہوں نے برگ خزاں زدہ کی ہتھیلیوں پر بدن کی پہلی صدا لکھی تھی لہو کی پہلی دعا لکھی تھی جنہوں نے ایمن کی وادیوں میں حجر حجر پر تمام مخلوق ارض کے نام زندگی کے عتاب لکھے صداقتوں کے نصاب لکھے وہ ہونٹ بھی اب لہو ...

مزید پڑھیے

دھڑکن

ہمارے آگے پڑا ہوا ہے یہ فاصلہ جو وہیں محبت دھڑک رہی ہے قدم کے نیچے نظر کی حد تک ہے دشت صحرا ازل سے پھیلا تری نظر میں ہے اک کنارہ مری نگہ میں ہے دوجی منزل تو بیچ ان کے نظر کی حد تک جو فاصلہ ہے اسی کے اندر تری محبت دھڑک رہی ہے مری محبت دھڑک رہی ہے

مزید پڑھیے

میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا

میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا کہ شاخ شاخ پہ کھلتا رہا بکھرتا رہا مجھے تو اتنی خبر ہے کہ مشت خاک تھا میں جو چاک مہلت گریہ پہ رقص کرتا رہا یہ سانس بھر مرے حصے کا خواب کیسا تھا کہ جس میں اپنے لہو سے میں رنگ بھرتا رہا عجیب جنگ رہی میری میرے عہد کے ساتھ میں اس کے جال کو وہ ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے

اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے میرے ہونٹوں پہ مرے نام کا بوسہ رکھ دے حلق سے اب تو اترتا نہیں اشکوں کا نمک اب کسی اور کی گردن پہ یہ دنیا رکھ دے روشنی اپنی شباہت ہی بھلا دے نہ کہیں اپنے سورج کے سرہانے مرا سایہ رکھ دے تو کہاں لے کے پھرے گی مری تقدیر کا بوجھ میری پلکوں پہ شب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2193 سے 6203