میری اپنائی ہوئی قدروں نے ہی نوچا مجھے
میری اپنائی ہوئی قدروں نے ہی نوچا مجھے تو نے کس تہذیب کے پتھر سے لا باندھا مجھے میں نے ساحل پر جلا دیں مصلحت کی کشتیاں اب کسی کی بے وفائی کا نہیں کھٹکا مجھے دست و پا بستہ کھڑا ہوں پیاس کے صحراؤں میں اے فرات زندگی تو نے یہ کیا بخشا مجھے چند کرنیں جو مرے کاسے میں ہیں ان کے عوض شب ...