قومی زبان

تشنگی

یہ چھلکتا ہوا جام میں اسے پی نہ سکوں گا ساقی آزمائی ہوئی شے ذائقہ تلخ اثر پھیکا ہے چند لمحوں کا سرور جیسے اک ماہ جبیں دوشیزہ مسکراتی ہوئی تیزی سے گزر جاتی ہے چند لمحوں کا سرور تشنگی ساغر مے سے بھی کہیں جاتی ہے توڑ دے جام و سبو تشنگی نام ہے جینے کا مجھے جینے دے تشنگی روز ازل سے ہے ...

مزید پڑھیے

میرا نام

وہ جو اپنے کو میرا حریف اور مقابل سمجھتے ہیں ان سے کہو دوستی زندگی کا اٹل فیصلہ آخری حکم ہے اور اس فرض کو ٹالنا یا ہوس کے لیے بیچ دینا مرے دوستو دشمنو جرم ہے اک مضرت رساں جرم ہے مجھ کو مرغوب ہے زندگی مجھ کو محبوب ہے موت کے راز کو فاش کرتی ہوئی چاندنی اور مرے ساتھ ہے مہ وشوں ماہ ...

مزید پڑھیے

آج انسان کہاں ہے

میں ہوں جس کا شاعر وہ انسان کہاں ہے ساری دنیا جسے مانتی رہی ہے وہ بھگوان کہاں ہے حسین چہرے پھول اور کلیاں جھومتی شاخیں درخت آشیاں ہریالی نہریں دریا ساگر اونچے اونچے کہساروں کی بلندیاں ناچنے والے ہزار ہا رنگین پرندے شام و سحر کو پھولنے والی شفق برکھا رت کی ست رنگی دھنک سورج چاند ...

مزید پڑھیے

بدن سے روح کے رشتے کا دھیان ہوتے ہوئے

بدن سے روح کے رشتے کا دھیان ہوتے ہوئے میں در بدر ہی پھرا ہوں مکان ہوتے ہوئے یہ کون آیا کہ چہرے پہ آ گئی رونق جنم جنم کی مسلسل تھکان ہوتے ہوئے جھلس رہے ہیں بدن کیسے تیز گرمی سے ہمارے سر پہ کئی سائبان ہوتے ہوئے پہنچ ہی جاؤں گا فردا کی خواب گاہوں میں تمہاری یاد کا دھندلا نشان ہوتے ...

مزید پڑھیے

فضا میں نغمگی کچھ کم ہوئی ہے

فضا میں نغمگی کچھ کم ہوئی ہے ہر اک لب پر ہنسی کچھ کم ہوئی ہے یہ مانا ٹوٹ کر برسے ہیں بادل مگر کیا تشنگی کچھ کم ہوئی ہے اندھیرا جب سے پھیلا ہے دلوں میں مسلسل روشنی کچھ کم ہوئی ہے وہی باتیں وہی چہرا ہے لیکن غزل میں تازگی کچھ کم ہوئی ہے تمہارے دل سے میرے دل کی دوری خیالوں میں سہی ...

مزید پڑھیے

خالی وقت

روز بھرتا ہوں خالی وقت میں کچھ یادیں کچھ وعدے کچھ ارادے پھر بھی مجھے بھر کر ہو جاتا ہے خود خالی وقت

مزید پڑھیے

امید

صداؤں کے جزیرے ڈوب جاتے ہیں خموشی کے سمندر میں کوئی آواز لیکن گونجتی ہے جسم کی اندھی سرنگوں میں نہ جانے کتنے خوابوں کے دریچے اس نے کھولے ہیں سنائے انگنت قصے کبھی اس نے شعاعوں سے اندھیروں کو کیا روشن کھلائے ہیں کئی گلشن یہی آواز لفظوں کے ہر اک سانچے میں ڈھل جائے فضاؤں میں بکھر ...

مزید پڑھیے

ترقی

زندگی میں اندھیرا ہر شام کے بعد سویرا لوگ کہتے ہیں میری زندگی کی شام بھی کبھی نہ کبھی دھیرے دھیرے سویرے تک ضرور پہنچے گی مگر سوچتا ہوں شام سے صبح کے بیچ مجھے نیند نہ آ جائے

مزید پڑھیے

ہم نغمہ سرائی کیسے کریں بیداد گروں کی محفل میں

ہم نغمہ سرائی کیسے کریں بیداد گروں کی محفل میں آنکھوں سے لہو کا راگ بہے تو جذب ہو کس پتھر دل میں گلشن پہ لپکتے کوندے کو بلبل کی صدا سے خوش کرنا گلشن کے محافظ کی ہے خوشی شاید بربادئ کامل میں تم وضع محبت کیا جانو تم کو وہ جنوں کیوں حاصل ہو مشکل ہے بہت ہی شرط وفا ناحق نہ پڑو اس مشکل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2150 سے 6203