تشنگی
یہ چھلکتا ہوا جام میں اسے پی نہ سکوں گا ساقی آزمائی ہوئی شے ذائقہ تلخ اثر پھیکا ہے چند لمحوں کا سرور جیسے اک ماہ جبیں دوشیزہ مسکراتی ہوئی تیزی سے گزر جاتی ہے چند لمحوں کا سرور تشنگی ساغر مے سے بھی کہیں جاتی ہے توڑ دے جام و سبو تشنگی نام ہے جینے کا مجھے جینے دے تشنگی روز ازل سے ہے ...