دل کے ویرانے کو محفل کی طرف لے چلئے
دل کے ویرانے کو محفل کی طرف لے چلئے کیوں سمندر کو نہ ساحل کی طرف لے چلئے آشنا راز حقیقت سے تبھی ہوں گے ہم ہر حقیقت کو جو باطل کی طرف لے چلئے اس کی تلوار کی تعریف سنوں میں کب تک پہلے مجھ کو مرے قاتل کی طرف لے چلئے موت منزل ہے مسیحا کی تو پھر کیا کہنا زندگی کو اسی محفل کی طرف لے ...