قومی زبان

دل کے ویرانے کو محفل کی طرف لے چلئے

دل کے ویرانے کو محفل کی طرف لے چلئے کیوں سمندر کو نہ ساحل کی طرف لے چلئے آشنا راز حقیقت سے تبھی ہوں گے ہم ہر حقیقت کو جو باطل کی طرف لے چلئے اس کی تلوار کی تعریف سنوں میں کب تک پہلے مجھ کو مرے قاتل کی طرف لے چلئے موت منزل ہے مسیحا کی تو پھر کیا کہنا زندگی کو اسی محفل کی طرف لے ...

مزید پڑھیے

ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے

ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے ذرات شب چراغ ہیں میری نگاہ سے میری نظر شعاع جگر سوز و جاں گداز روشن دلوں کے داغ ہیں میری نگاہ سے ہے کس قدر حسین یہ تصویر کائنات خوش رنگ باغ و راغ ہیں میری نگاہ سے ساقی کی چشم مست پہ الزام آ نہ جائے لبریز سب ایاغ ہیں میری نگاہ سے وہ بے نیاز درد و ...

مزید پڑھیے

تار کی جھنکار ہی سے بزم تھرا جائے ہے

تار کی جھنکار ہی سے بزم تھرا جائے ہے گاہے گاہے ساز ہستی یوں بھی چھیڑا جائے ہے قافلہ چھوٹے زمانہ ہو گیا لیکن ہنوز یاد آواز جرس رہ رہ کے تڑپا جائے ہے خود زمانہ رخ ہمارا دیکھتا ہے ہم نہیں جس طرف مڑتے ہیں ہم دھارا بھی مڑتا جائے ہے سر جو گردن پر نہیں تو کیا ہتھیلی پر سہی منزل عشق و ...

مزید پڑھیے

جب قفس میں مجھ کو یاد آشیاں آ جائے ہے

جب قفس میں مجھ کو یاد آشیاں آ جائے ہے سامنے آنکھوں کے اک بجلی سی لہرا جائے ہے دل مرا وہ خانۂ ویراں ہے جل بجھنے پہ بھی راکھ سے جس کی دھواں تا دیر اٹھتا جائے ہے تم تو ٹھکرا کر گزر جاؤ تمہیں ٹوکے گا کون میں پڑا ہوں راہ میں تو کیا تمہارا جائے ہے چشم تر ہے اس طرف اور اس طرف ابر ...

مزید پڑھیے

راہ میں ایک ستارا ہی بہت ہوتا ہے

راہ میں ایک ستارا ہی بہت ہوتا ہے یاد کا اس کی سہارا ہی بہت ہوتا ہے روبرو ملنے کی اس سے کبھی ہمت نہ ہوئی خواب میں اس کا نظارہ ہی بہت ہوتا ہے دل کی گہرائی نگاہوں سے زیادہ ہے مگر ڈوبنا ہو تو کنارا ہی بہت ہوتا ہے بے خبر اتنے بھی موسم سے پرندے کیوں تھے جب ہواؤں کا اشارہ ہی بہت ہوتا ...

مزید پڑھیے

تمہیں دامن بھگونا چاہئے تھا

تمہیں دامن بھگونا چاہئے تھا کبھی تو کھل کے رونا چاہئے تھا نگاہوں میں بھرے ہیں خواب کتنے کوئی منظر بھی ہونا چاہئے تھا تمہیں لڑیوں میں یارو آنسوؤں کی خیالوں کو پرونا چاہئے تھا جو دل میں ہے اسے پانی کی خواہش تو پہلے خود کو کھونا چاہئے تھا بچایا ہے اگر اس نے بھنور میں کنارے پر ...

مزید پڑھیے

لفظوں سے تصویر بناتے رہتے ہیں

لفظوں سے تصویر بناتے رہتے ہیں جیسے تیسے جی بہلاتے رہتے ہیں قطرے میں دریا کا جب دیدار ہوا ہم دامن کے داغ دکھاتے رہتے ہیں ان سے شاید جنم جنم کا رشتہ ہے پیڑ پرندے ہمیں بلاتے رہتے ہیں جب سے چہرا دیکھا ان کی آنکھوں میں آئینے سے آنکھ چراتے رہتے ہیں بارش پنچھی خوشبو جھرنا پھول ...

مزید پڑھیے

کبھی منزل کبھی رستہ سمجھ کر

کبھی منزل کبھی رستہ سمجھ کر وہ ٹھہرا ہے مجھے تنہا سمجھ کر کیا سیراب اک صحرا کو اس نے جسے چھوڑ آئے تھے قطرہ سمجھ کر نہ جانے شکل کس کی ڈھونڈھتا ہوں ہر اک چہرے کو آئینہ سمجھ کر صدائیں دے رہا ہے پھر سے موسم مرے احساس کو زندہ سمجھ کر اڑانا چاہتے ہو تم شجر کو فقط ٹوٹا ہوا پتا سمجھ ...

مزید پڑھیے

لفظ نکلا زبان سے باہر

لفظ نکلا زبان سے باہر تیر جیسے کمان سے باہر میرے وہم و گمان سے باہر تیری عظمت بیان سے باہر ساری دنیا اسی میں رہتی تھی میں رہا جس مکان سے باہر سب کو منظور کس طرح ہوتا فیصلہ تھا گمان سے باہر ذہن و دل پر حکومتیں جس کی ہو گیا کیسے دھیان سے باہر راستے منتظر ہیں برسوں سے آئے کوئی ...

مزید پڑھیے

دیکھیے تو شجر بھی لگتا ہے

دیکھیے تو شجر بھی لگتا ہے چھونا چاہیں تو ڈر بھی لگتا ہے تیری یادیں بھی ساتھ رہتی ہیں اور تنہا سفر بھی لگتا ہے موسموں کا قصور ہے ورنہ شاخ پر تو ثمر بھی لگتا ہے کوئی آہٹ کوئی نشان نہیں کیوں تمہارا گزر بھی لگتا ہے ان کے آنے سے یہ ہوا معلوم اک پیمبر بشر بھی لگتا ہے اپنے الفاظ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2151 سے 6203