تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں
تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں اپنی نظر کدھر اٹھے کوئی ادھر ادھر نہیں روز شب اٹھتے بیٹھتے ان کی زبان پر نہیں کوئی نہیں کی حد نہیں شام نہیں سحر نہیں کوئی یہاں سے چل دیا رونق بام و در نہیں دیکھ رہا ہوں گھر کو میں گھر ہے مگر وہ گھر نہیں اتنی خبر تو ہے ضرور لے گئے دل وہ چھین ...