قومی زبان

تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں

تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں اپنی نظر کدھر اٹھے کوئی ادھر ادھر نہیں روز شب اٹھتے بیٹھتے ان کی زبان پر نہیں کوئی نہیں کی حد نہیں شام نہیں سحر نہیں کوئی یہاں سے چل دیا رونق بام و در نہیں دیکھ رہا ہوں گھر کو میں گھر ہے مگر وہ گھر نہیں اتنی خبر تو ہے ضرور لے گئے دل وہ چھین ...

مزید پڑھیے

اہل الفت سے تنے جاتے ہیں

اہل الفت سے تنے جاتے ہیں روز روز آپ بنے جاتے ہیں ذبح تو کرتے ہو کچھ دھیان بھی ہے خون میں ہاتھ سنے جاتے ہیں روٹھنا ان کا غضب ڈھائے گا اب وہ کیا جلد منے جاتے ہیں کچھ ادھر دل بھی کھنچا جاتا ہے کچھ ادھر وہ بھی تنے جاتے ہیں کیوں نہ غم ہو مجھے رسوائی کا وہ مرے ساتھ سنے جاتے ہیں دل نہ ...

مزید پڑھیے

دل ہماری طرف سے صاف کرو

دل ہماری طرف سے صاف کرو جو ہوا وہ ہوا معاف کرو اہل گلشن بہار آ پہنچی خار و خس سے چمن کو صاف کرو جب ستم ہوگا پھر کرم کے بعد تو کرم سے مجھے معاف کرو مجھ سے کہتی ہے اس کی شان کرم تم گناہوں کا اعتراف کرو یہ بھی عادت میں کوئی عادت ہے جو کہو اس کے بر خلاف کرو کیوں بجھاؤ پہیلیاں بے ...

مزید پڑھیے

ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی

ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی وہ کتنے اور ان کی بات کتنی یہ میرے واسطے ہے بات کتنی وہ کہتے ہیں تری اوقات کتنی سحر تک حال کیا ہوگا ہمارا خدا جانے ابھی ہے رات کتنی یہ سر ہے یہ کلیجہ ہے یہ دل ہے وہ لیں گے خیر سے سوغات کتنی توجہ سے کبھی سن لو مری بات جو تم چاہو تو یہ ہے بات کتنی طبیعت ...

مزید پڑھیے

دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیز

دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیز ان سب سے بشر کے لئے عزت ہے بڑی چیز جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے وہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز بس آپ کے نزدیک تو اے حضرت واعظ آیت ہے بڑی چیز روایت ہے بڑی چیز پوری نہ اگر ہو تو کوئی چیز نہیں ہے نکلے جو مرے دل سے تو حسرت ہے بڑی چیز اے نوحؔ نہ ...

مزید پڑھیے

وہ نگاہ چشم طلسم گر مجھے دیکھتے ہی لجا گئی

وہ نگاہ چشم طلسم گر مجھے دیکھتے ہی لجا گئی وہ ادا جو سحر تمام سے بھی سوا کرشمہ دکھا گئی یہی جام پرتو رخ ترا یہی تیری زلف کو آئینہ مہ و ابرو مئے کی حسیں فضا اسے روکنا یہ فضا گئی وہ مثال برق نمود گم گشتگی تبسم بے اماں شفق آفریں سی وہ موج لب دل و جاں میں آگ لگا گئی وہ سیاہ رنگ شمیم ...

مزید پڑھیے

لب گل کی ہنسی دے گی نہ تم کو روشنی اپنی

لب گل کی ہنسی دے گی نہ تم کو روشنی اپنی ذرا شبنم کے اشکوں میں بھی دیکھوں زندگی اپنی ہمیں کیا غم کہ ہم اک زمزمہ پرداز گلشن تھے بہاروں کو ہوئی محسوس گلشن میں کمی اپنی مجھے محفل کی نظروں سے نظر آتا ہے محفل میں گوارا خاطر رنگیں کو ہے سادہ دلی اپنی مرے دل کی طرف اک بار بھیجی تھی کرن ...

مزید پڑھیے

دھوپ ایسی تیز دھوپ گرم ہے فضا بہت

دھوپ ایسی تیز دھوپ گرم ہے فضا بہت ملیں گے چھاؤں ڈھونڈتے برہنہ پا خدا بہت یہ راہ بے کنار بے پناہ خضر کی فغاں بہت ملی تھی زندگی مگر ملی ذرا بہت خزاں نصیب دور میں بہار کی تسلیاں مگر وہ دل جسے ہے خار و خس کا آسرا بہت انہیں خبر کرو کہ شام ہجر آ رہی ہے پھر جنہیں وفائے عہد پر غرور و ناز ...

مزید پڑھیے

صبح کا تأثر

سویرے سیر کو جاتے ہوئے میرے تعاقب میں پرندوں کی چہک باد سحرگاہی کے ہلکورے خمار و خواب کی ساری تھکن میں بھول جاتا ہوں خرام کیف آور تال خوش رفتار قدموں کی رواں رکھتی ہے اک انجان منزل کی طرف مجھ کو سہانے وقت کی وہ سرمئی دھندلی فضا جس میں گھنے اشجار شاخ و برگ رقص آغاز کرتے ہیں درختوں ...

مزید پڑھیے

ایک سوال

ایک لمحہ بھی اک زمانہ ہے یاد رکھنا کہ بھول جانا ہے لب و رخسار و گیسوئے خم دار وہ لچکتی ہوئی باہیں وہ ہم آغوش بدن وہ چھلکتے ہوئے پیمانوں کی محفل وہ ارم نغمہ و رقص فسوں کارئ فن شہر آرائش جنت ہے زمیں پر کہ نہیں یہ نمائش گہ تعمیر و ترقی یہ زمیں زندگی محنت و قدرت کے عجائب یہ مشینیں خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2149 سے 6203