یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے
یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے مجھے سمیٹے ہوئے خود غبار میرا ہے نہ چھین پائے گا مجھ سے کوئی نقوش خیال یہ پھول میرے ہیں یہ شاخسار میرا ہے چلوں تو دھوپ کا بادل ہوں میں خود اپنی جگہ رکوں تو ہر شجر سایہ دار میرا ہے پڑھوں تو نامہ کسی کا ہے چہرہ چہرہ مجھے لکھوں تو خامہ حقیقت نگار ...