قومی زبان

یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے

یہاں الگ سے کوئی کب حصار میرا ہے مجھے سمیٹے ہوئے خود غبار میرا ہے نہ چھین پائے گا مجھ سے کوئی نقوش خیال یہ پھول میرے ہیں یہ شاخسار میرا ہے چلوں تو دھوپ کا بادل ہوں میں خود اپنی جگہ رکوں تو ہر شجر سایہ دار میرا ہے پڑھوں تو نامہ کسی کا ہے چہرہ چہرہ مجھے لکھوں تو خامہ حقیقت نگار ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ محروم کرم ہیں ہم لوگ

کون کہتا ہے کہ محروم کرم ہیں ہم لوگ لطف اندوز جفا محو ستم ہیں ہم لوگ زلف سلجھی ہے تو اک حسن نکھر آیا ہے اس طرف دیکھ کہ آئینۂ غم ہیں ہم لوگ کوئی خاطر میں نہ لائے تو نہ لائے لیکن شاید اس دور محبت میں اہم ہیں ہم لوگ لائق لطف و عنایت نہیں ہم اہل وفا کیا کہا یہ کہ سزا وار ستم ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سوال کا دیتے ہیں کیوں جواب غلط

ہر ایک سوال کا دیتے ہیں کیوں جواب غلط پڑھا ہے بچوں نے شاید سبھی نصاب غلط ہمارے عہد وفا کا کہیں بھی ذکر نہیں مورخوں نے لکھے اب کے سارے باب غلط طنابیں ٹوٹ کے بکھریں تمام خیموں کی ہوا کے رخ کا لگایا گیا حساب غلط خیال شوق کی بے چہرگی پہ کیا روئیں دلوں میں ہم نے بسائے تھے سارے خواب ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات ہے تاروں کا سماں باقی ہے

چاندنی رات ہے تاروں کا سماں باقی ہے تجھ سے مل مل کے بچھڑنے کا گماں باقی ہے اب تو بس نام ہے یا سنگ نشاں باقی ہے کیسی بستی ہے مکیں ہیں نہ مکاں باقی ہے آتش عشق بجھے ایک زمانہ گزرا راکھ کے ڈھیر تلے اب بھی دھواں باقی ہے کتنی صدیوں سے تو سرگرم عمل ہے دنیا اس کے با وصف مگر کار جہاں باقی ...

مزید پڑھیے

کیوں شہر میں ہر سمت سے اٹھتا ہے دھواں دیکھ

کیوں شہر میں ہر سمت سے اٹھتا ہے دھواں دیکھ کیا حال محلے کا ہے جا اپنا مکاں دیکھ آفاق اڑانوں کے ابھی اور بہت ہیں اے طائر پرواز کبھی اپنا جہاں دیکھ دیتا نہیں نفرت کا شجر دھوپ میں سایہ بہتر ہے کوئی سایۂ دیوار اماں دیکھ آکاش یہ تاروں کی ضیا دیکھنے والے اگلے ہے زمیں چاند بھی سورج ...

مزید پڑھیے

یہ سہل ہی سہی سکے اچھال کر رکھنا

یہ سہل ہی سہی سکے اچھال کر رکھنا مگر یہ دل ہے اسے بھی سنبھال کر رکھنا نظر سے لاکھ ہوں اوجھل سراغ منزل کے جنوں کا کام ہے صحرا کھنگال کر رکھنا ہے انقلاب کے شعلوں کی گرمیاں اس میں متاع لوح و قلم کو سنبھال کر رکھنا نیا خیال نئی روشنی نئی راہیں سفر نیا ہے قدم دیکھ بھال کر ...

مزید پڑھیے

دوش پہ اپنے بار اٹھائے پھرتے ہیں

دوش پہ اپنے بار اٹھائے پھرتے ہیں ہم کتنے آزار اٹھائے پھرتے ہیں پریم نگر کے باسی کانٹوں کے بن میں پھولوں کا انبار اٹھائے پھرتے ہیں تن کے اجلے من کے کالے ہیں جو لوگ نفرت کی دیوار اٹھائے پھرتے ہیں دین دھرم کے نام پہ قوموں کے دشمن دو دھاری تلوار اٹھائے پھرتے ہیں نورؔ مرے آنگن ...

مزید پڑھیے

تھے سب کے ہاتھ میں خنجر سوال کیا کرتا

تھے سب کے ہاتھ میں خنجر سوال کیا کرتا میں بے گناہی کا اپنی ملال کیا کرتا اسی کے ایک اشارے پہ قتل عام ہوا امیر شہر سے میں عرض حال کیا کرتا میں قاتلوں کی نگاہوں سے بچ کے بھاگ آیا کہ میرے ساتھ تھے میرے عیال کیا کرتا دھرم کے نام پر انسانیت کی نسل کشی زمانہ ایسی بھی قائم مثال کیا ...

مزید پڑھیے

آگہی کے در کھلے تو زندگی اچھی لگی

آگہی کے در کھلے تو زندگی اچھی لگی ہمدموں کی بھیڑ میں بے گانگی اچھی لگی شہر کے ہر موڑ پر آواز کے جنگل ملے ہم کو اپنے گاؤں ہی کی خامشی اچھی لگی یوں تو ہم دیتے رہے تیرے سوالوں کا جواب ہاں مگر اے دوست تیری سادگی اچھی لگی تجزیہ حالات کا ہم ہر طرح کرتے رہے جب سمجھ عاجز ہوئی بے مائیگی ...

مزید پڑھیے

کو بہ کو عشق میں آوارہ و رسوا ہوں میں

کو بہ کو عشق میں آوارہ و رسوا ہوں میں اب مرا حال تو یہ ہے کہ تماشا ہوں میں رخصت اے پاس ادب المدد اے جرأت عشق آج آمادۂ اظہار تمنا ہوں میں کوئی محفل کوئی عالم ہو جہاں آپ نہیں مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ تنہا ہوں میں تم کو احساس نہیں اک مری غم خواری کا مجھ کو دیکھو کہ شریک غم دنیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2141 سے 6203