قومی زبان

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجے رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئی نہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجے یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا مگر سرشت کی آوارگی کو کیا کیجے کسی کو دیکھ کے اک موج لب پہ آ تو گئی اٹھے نہ دل سے تو ایسی ہنسی کو کیا ...

مزید پڑھیے

حسرت انتظار یار نہ پوچھ

حسرت انتظار یار نہ پوچھ ہائے وہ شدت انتظار نہ پوچھ رنگ گلشن دم بہار نہ پوچھ وحشت قلب بے قرار نہ پوچھ صدمۂ عندلیب زار نہ پوچھ تلخ انجامئ بہار نہ پوچھ غیر پر لطف میں رہین ستم مجھ سے آئین بزم یار نہ پوچھ دے دیا درد مجھ کو دل کے عوض ہائے لطف ستم شعار نہ پوچھ پھر ہوئی یاد مے کشی ...

مزید پڑھیے

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا دل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے تو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاں دل آشنائے سوز محبت نہیں رہا گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظر میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا شاید جنوں ہے مائل ...

مزید پڑھیے

افق ضمیر کی تاریکیوں سے آلودہ

افق ضمیر کی تاریکیوں سے آلودہ دل و نظر میں وہی انتقام کے شعلے کہیں پہ خون کہیں پر ہے آبرو ریزی جہالتوں کے سمندر میں ڈوبتے انساں اٹھائے دوش پہ اک منصفی کے لاشے کو پھرے ہے شہر میں انسانیت کا سارا وجود نہ کوئی داد نہ فریاد سننے والا ہے ہمارے درد کو راحت سے بھرنے والا ہے چلو کہ دور ...

مزید پڑھیے

ہمارا غم

کسی نے چہرہ ہمارا کبھی پڑھا ہی نہیں کسی نے نام ہمارا کبھی لیا ہی نہیں تمہاری بزم میں ہم بھی شریک رہتے ہیں ہمارا حال کسی نے کبھی سنا ہی نہیں بلند و بانگ یا دعوے یہ دوستی کے اصول عمل کے نام سے خالی رہیں تو سارے فضول کبھی تو پاس ادب ہو وفا شعاری کا دل و نظر میں ہو جذبہ خلوص کاری کا اگر ...

مزید پڑھیے

ایک پیغام اپنے نام

ہندو مسلم بھید مٹا سب سے اپنی یاری رکھ چاہے اپنی جان گنوا آن وطن کی پیاری رکھ دشمن سے بھی یاری رکھ ایسی بھی دل داری رکھ مایوسی سے مت گھبرا کوشش اپنی جاری رکھ پہلے دینی فرض نبھا پیچھے دنیا داری رکھ دور سفر پر جانا ہے چلنے کی تیاری رکھ کھوٹے سکے مت اپنا آنکھوں میں بیداری رکھ ٹھونک ...

مزید پڑھیے

امن کا سورج

تم تشدد کے روادار نہیں ہو لیکن امن کی دل سے حمایت بھی کہاں کی تم نے سالہا سال رقابت کے یہ وحشی جذبے کتنے گلشن کی زمیں کر گئے پامال مگر خون انساں بھی ہوا آگ کے شعلے بھی اٹھے دوریاں اور بڑھیں اور بڑھیں اور بڑھیں مسئلہ سب کا بقا کا ہو جہاں پیش نظر اس کے حل کرنے کا انداز بدلنا ...

مزید پڑھیے

احتجاج

چمن زاروں کو صحرا کر دیا ہے یہ کس نے مسخ چہرہ کر دیا ہے جہان نو کی اس اندھی روش نے مرے زخموں کو گہرا کر دیا ہے سنہرے خواب دکھلا کر کسی نے نئی بستی کا شہرہ کر دیا ہے اور اپنی بد قماشی کے چلن سے ہمیں بازی کا مہرہ کر دیا ہے نہیں فریاد کوئی سننے والا سبھی کو گونگا بہرہ کر دیا ہے ہمارے ...

مزید پڑھیے

خواب حسیں

ترے گلاب سے ہونٹوں کی تازگی کی قسم بہار کی کوئی آہٹ سنائی دیتی ہے نظر کی جھیل میں مجھ کو اتارنے والے حیات اور بھی رنگیں دکھائی دیتی ہے ابھی ابھی یہ حسیں خواب میں نے دیکھا ہے اگرچہ تم مرے اتنے قریب آئی ہو کہ تم کو چھو لوں تو شاید ہی چھو سکوں یا پھر نظر جو تم سے ملاؤں یقیں نہ تھا اس ...

مزید پڑھیے

ہر ذہن روایات کا مقتل نہ ہوا تھا

ہر ذہن روایات کا مقتل نہ ہوا تھا وہ آج ہوا ہے جو یہاں کل نہ ہوا تھا کیوں دوڑ پڑی خلق اس اک شخص کے پیچھے کیا شہر میں آگے کوئی پاگل نہ ہوا تھا تھے بند مکانوں کی طرح لوگ پراسرار اک باب سخن تھا جو مقفل نہ ہوا تھا دل خون کیا تم نے تو پانی ہوئے جذبے یہ مسئلہ مجھ سے تو کبھی حل نہ ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2140 سے 6203