قومی زبان

زندگی سے ڈرتے ہو

زندگی سے ڈرتے ہو؟ !زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں! زندگی سے ڈرتے ہو؟ آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے! حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اس سے تم نہیں ...

مزید پڑھیے

گناہ

آج پھر آ ہی گیا آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے! ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار پارہ پارہ تھے مری روح کے تار آج وہ آ ہی گیا روزن در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نے خرم و شاد سر راہ اسے جاتے ہوئے سالہا سال سے مسدود تھا یارانہ ...

مزید پڑھیے

رقص کی رات

رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن اس لیے بن نہ سکی راہ تمنا کی دلیل کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ جس سے تنویر مرے سینۂ غم ناک میں ہے ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے! رقص کی رات کوئی دور طرب بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش؟ محور حال ...

مزید پڑھیے

(2)حسن کوزہ گر

اے جہاں زاد، نشاط اس شب بے راہ روی کی میں کہاں تک بھولوں؟ زور مے تھا کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا تجھے حیرت نہ ہوئی! کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پر اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت تجھے حیرت نہ ہوئی! اے جہاں زاد، میں کوزوں کی طرف اپنے تغاروں کی طرف اب ...

مزید پڑھیے

رفاقتوں کا طلب گار بھی نہ ہوتا تھا

رفاقتوں کا طلب گار بھی نہ ہوتا تھا مگر کسی سے وہ بے زار بھی نہ ہوتا تھا کل اس کے خواب تھے جو آج اپنی دنیا ہے فسانہ ساز فسوں کار بھی نہ ہوتا تھا سبک روی کی وہیں شرط بھی ٹھہرتی تھی جہاں سے راستہ ہموار بھی نہ ہوتا تھا مرے سرہانے اٹھاتی تھیں حشر تعبیریں ابھی میں خواب سے بیدار بھی نہ ...

مزید پڑھیے

اٹھ چکا ہے پڑاؤ خوابوں کا

اٹھ چکا ہے پڑاؤ خوابوں کا ہم ہیں اور سلسلہ سرابوں کا آگہی ہے صلیب جذبوں کی زندگی ہے سفر عذابوں کا فکر یہ ہے سکوں سے رات کٹے ذکر چلتا ہے انقلابوں کا شہر اپنا ہرا بھرا اک باغ چلتے پھرتے ہوئے گلابوں کا چاندنی کے سبھی چراغوں میں خون جلتا ہے آفتابوں کا خواہشوں کا غلام نکلا ...

مزید پڑھیے

جب تمہیں دیکھا نہ تھا آنکھوں میں کتنے سائے تھے

جب تمہیں دیکھا نہ تھا آنکھوں میں کتنے سائے تھے میں اسی دن سے اکیلا ہوں کہ جب تم آئے تھے آگ بھڑکی جب تو میں یہ سوچتا ہی رہ گیا کاغذی کپڑے مجھے کس وہم نے پہنائے تھے جانے کس نے ہم کو سورج سے کیا تھا منحرف جانے کس نے دھوپ میں وہ آئینے چمکائے تھے آسمانوں سے ہوا تھا نور و نزہت کا ...

مزید پڑھیے

یہ طائروں نے جو اک دوسرے کے نام لیے

یہ طائروں نے جو اک دوسرے کے نام لیے ضرور دشت میں آیا ہے کوئی دام لیے نہ ہو مزاج میں ایسی بھی دوراندیشی کہ صبح سے کوئی نکلے چراغ شام لیے کوئی اشارہ نہ ہو کوئی استعارہ نہ ہو تم اس کا تذکرہ کرنا بغیر نام لیے دیار ذات میں احساس کی قلمرو میں فقیر ملتے ہیں شاہوں کا احتشام لیے سمیٹ ...

مزید پڑھیے

سوچتی آنکھیں مجھے دیں کس نے آخر کون تھا

سوچتی آنکھیں مجھے دیں کس نے آخر کون تھا میں نے تو دیکھا نہیں میرا مصور کون تھا سب اگر محصور تھے خود میں تو کس کا تھا حصار سب اگر مجبور تھے خود سے تو جابر کون تھا میری آنکھوں کے علاوہ کس نے دیکھا تھا مجھے اپنے باطن سے زیادہ مجھ پہ ظاہر کون تھا ہو نہ ہو تو نے ہی کاٹی ہے زبان جہل ...

مزید پڑھیے

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا مگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں خدا کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا یہ کائنات کسی کا غبار راہ سہی دلیل راہ جو بنتا وہ نقش پا نہ ملا یہ دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2139 سے 6203