قومی زبان

دیانت دار لڑکی

غریب آدمی ایک قصبے میں تھا بہت دل میں رکھتا تھا خوف خدا غریبی میں ایمان داری میں بھی نہ قصبے میں تھا اس سے بڑھ کر کوئی اکیلا نہ تھا بیوی بچے بھی تھے جو تھے سب کے سب نیک خصلت بڑے سہانا سماں دن تھا اتوار کا کہ اک چھوٹی لڑکی سے ماں نے کہا اٹھو لاؤ آٹا کہ روٹی پکاؤں بلکتے ہیں بچے انہیں ...

مزید پڑھیے

نیا چاند

ارے بھائی اختر تو کیا دیکھتا ہے سر شام کوٹھے پہ کیوں چڑھ گیا ہے قمر بھائی آؤ ادھر آؤ تم بھی کہ دیکھوں تمہاری نظر کی بھی تیزی ذرا سامنے دیکھو سرخی سے اوپر وہ بادل کے ٹکڑے سے تھوڑا سا ہٹ کر نظر آ گیا مجھ کو ہاں میں نے دیکھا ا ہا ہا نیا چاند نکلا ا ہا ہا نیا چاند بھی واہ کیا خوش نما ...

مزید پڑھیے

مانا کہ تجھ میں یہ دل اب مبتلا نہیں ہے

مانا کہ تجھ میں یہ دل اب مبتلا نہیں ہے پھر بھی ہمارے حق میں یہ فیصلہ نہیں ہے دل توڑ کر وہ میرا سمجھا رہا تھا مجھ کو یہ بات ہے ذرا سی کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم زندگی سے تھوڑا نا آشنا ہوئے ہیں خطرہ تو کم ہوا ہے لیکن ٹلا نہیں ہے میں زندگی کی حد سے آگے نکل تو آیا یاں پر خلا ہے لکھا لیکن ...

مزید پڑھیے

پہلی کرن

کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سے کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر عبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائی میں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہے اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں ...

مزید پڑھیے

اتفاقات

آج، اس ساعت دزدیدہ و نایاب میں بھی، جسم ہے خواب سے لذت کش خمیازہ ترا تیرے مژگاں کے تلے نیند کی شبنم کا نزول جس سے ڈھل جانے کو ہے غازہ ترا زندگی تیرے لیے رس بھرے خوابوں کا ہجوم زندگی میرے لیے کاوش بیداری ہے: اتفاقات کو دیکھ اس حسیں رات کو دیکھ توڑ دے وہم کے جال چھوڑ دے اپنے شبستانوں ...

مزید پڑھیے

ریگ دیروز

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں وقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں ایک تاریک ازل نور ابد سے خالی ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا اپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایا ہم محبت کے نہاں خانوں میں بسنے والے اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے ہم سمجھتے ہیں نشان سر منزل پایا ہم ...

مزید پڑھیے

حسن میں ناز و ادا عشق میں وحشت کیسی

حسن میں ناز و ادا عشق میں وحشت کیسی اس زمانے میں وفا کیسی محبت کیسی تلخ باتوں پہ خموشی بھی بڑا عزم ہے پر گالیاں سن کے دعا دے وہ شرافت کیسی لوگ غالیچوں پہ سجدے سے بھی کتراتے ہیں تیغ کے سائے میں کرتے تھے عبادت کیسی عہد خوشحالی کا مطلب ہی لیا عیاشی اب اگر ٹوٹ گئے ہو تو شکایت ...

مزید پڑھیے

ترے دیدار کے سارے مراحل سے ذرا پہلے

ترے دیدار کے سارے مراحل سے ذرا پہلے کروں گا مشورہ بھی بدر کامل سے ذرا پہلے سمندر پار کرنے کی خوشی میں اس قدر کودا کہ کشتی ہو گئی غرقاب ساحل سے ذرا پہلے لگی اخبار کی سرخی جو کانوں میں تو جاگ اٹھا کسی صورت لگی تھی آنکھ مشکل سے ذرا پہلے مجھے آغوش میں لینے سے پہلے کانپتا دریا پکارا ...

مزید پڑھیے

قصے بچپن کے جو اک روز سہانے نکلے

قصے بچپن کے جو اک روز سہانے نکلے دشمنوں میں ہی کئی دوست پرانے نکلے کر لیا ترک تعلق کا ارادہ تو اسے میری ہر بات میں پھر کتنے بہانے نکلے سوکھتی کاشت پہ اک روز جو برسا پانی ننھے بچے سبھی گاؤں کے نہانے نکلے قافلے یادوں کے یک لخت دبے پاؤں سے میری آنکھوں سے مری نیند چرانے نکلے شمع ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ ایک سی رفتار ہو ایسا نہیں ہوتا

ہمیشہ ایک سی رفتار ہو ایسا نہیں ہوتا مرے ہی ہاتھ میں پتوار ہو ایسا نہیں ہوتا میں سارے پیچ و خم کو رفتہ رفتہ جان جاؤں گا کوئی رستہ سدا دشوار ہو ایسا نہیں ہوتا سماجی تانے بانے میں جدا منصب جدا قدریں سبھی کا ایک ہی معیار ہو ایسا نہیں ہوتا چلو آؤ ملیں بیٹھیں کریں کچھ پیار کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2134 سے 6203