قومی زبان

ترے حضور جو دو چار دن گزار آیا

ترے حضور جو دو چار دن گزار آیا وہ فیض یاب ہوا عاقبت سنوار آیا نصیب والے ہیں وعدے وفا ہوئے جن کے ہمارے نام جو آیا تو انتظار آیا چلا تو چلتا گیا اک جنون منزل میں اگرچہ راستہ پر سنگ و خار دار آیا میں آج آیا ہوں خاص آپ کے بلاوے پر اگرچہ بزم میں پہلے بھی بار بار آیا مرا چمن رہا صدیوں ...

مزید پڑھیے

جس دن سے رابطہ مرا دلبر سے کٹ گیا

جس دن سے رابطہ مرا دلبر سے کٹ گیا رشتہ ندی کا جیسے سمندر سے کٹ گیا ہم لوگ آ کے بس گئے ہیں جب سے شہر میں اخلاق گاؤں والا وہ گھر گھر سے کٹ گیا ہر کوئی آج غرق ہے اپنی ہی ذات میں یوں رفتہ رفتہ آدمی باہر سے کٹ گیا ممکن ہے روز حشر شہیدوں میں ہو شمار اپنا گلا تو پیار کے خنجر سے کٹ ...

مزید پڑھیے

مکافات

رہی ہے حضرت یزداں سے دوستی میری رہا ہے زہد سے یارانہ استوار مرا گزر گئی ہے تقدس میں زندگی میری دل اہرمن سے رہا ہے ستیزہ کار مرا کسی پہ روح نمایاں نہ ہو سکی میری رہا ہے اپنی امنگوں پہ اختیار مرا دبائے رکھا ہے سینے میں اپنی آہوں کو وہیں دیا ہے شب و روز پیچ و تاب انہیں زبان شوق بنایا ...

مزید پڑھیے

ہمہ اوست

خیابان سعدی میں روسی کتابوں کی دکان پر ہم کھڑے تھے مجھے روس کے چیدہ صنعت گروں کے نئے کارناموں کی اک عمر سے تشنگی تھی! مجھے روسیوں کے سیاسی ''ہمہ اوست'' سے کوئی رغبت نہیں ہے مگر ذرے ذرے میں انساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنا ہمیشہ رہی ہے! اور اس شام تو مرسدہ کی عروسی تھی اس شوخ ...

مزید پڑھیے

تیل کے سوداگر

بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے! بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟ بخارا سمرقند نیندوں میں مدہوش اک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستور اور رہروؤں کے لیے ان کے در بند سوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کے مانند روسی ''ہمہ اوست'' کے تازیانوں سے معذور دو مہ جبینیں! بخارا سمرقند کو بھول ...

مزید پڑھیے

نمرود کی خدائی

یہ قدسیوں کی زمیں جہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خواب سحر گہی میں، ہوائے تازہ و کشت شاداب و چشمۂ جاں فروز کی آرزو کا پرتو یہیں مسافر پہنچ کے اب سوچنے لگا ہے: ''وہ خواب کابوس تو نہیں تھا؟ وہ خواب کابوس تو نہیں تھا؟ اے فلسفہ گو، کہاں وہ رویائے آسمانی؟ کہاں یہ نمرود کی خدائی! تو جال ...

مزید پڑھیے

گناہ اور محبت

گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھی ہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھی مری جوانی کے دن گزرتے تھے وحشت آلود عشرتوں میں مری جوانی کے مے کدوں میں گناہ کی مے چھلک رہی تھی مرے حریم گناہ میں عشق دیوتا کا گزر نہیں تھا مرے فریب وفا کے صحرا میں حور عصمت بھٹک رہی ...

مزید پڑھیے

من و سلویٰ

''خدائے برتر یہ دریوش بزرگ کی سرزمیں یہ نوشیروان عادل کی داد گاہیں تصوف و حکمت و ادب کے نگار خانے یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے آج پھر ابلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟'' ہم اس کے مجرم نہیں ہیں جان عجم نہیں ہیں وہ پہلا انگریز جس نے ہندوستاں کے ساحل پہ لا کے رکھی تھی جنس سودا ...

مزید پڑھیے

اظہار

کیسے میں بھی بھول جاؤں زندگی سے اپنا ربط اولیں ایک دور افتادہ قریے کے قریب اک جنوں افروز شام نہر پر شیشم کے اشجار بلند چاندنی میں ان کی شاخوں کے تلے تیرے پیمان محبت کا وہ اظہار طویل روح کا اظہار تھے بوسے مرے جیسے میری شاعری میرا عمل روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں کیسے کر ڈالوں میں ...

مزید پڑھیے

وہ حرف تنہا

ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیں (تم آسماں کی طرف نہ دیکھو!) مقام نازک پہ ضرب کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہ کہ اپنی محرومیوں سے چھپنے کا ایک حیلہ؟ بزرگ و برتر خدا کبھی تو (بہشت برحق) ہمیں خدا سے نجات دے گا کہ ہم ہیں اس سرزمیں پہ جیسے وہ حرف تنہا (مگر وہ ایسا جہاں نہ ہوگا) ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2135 سے 6203