قومی زبان

حسرتوں کو نہ ذہن رسوا کریں

حسرتوں کو نہ ذہن رسوا کریں دور ہٹ جائیں ان کو رستہ کریں کون کہتا ہے وو پکارا کریں اپنی آنکھوں کا بس اشارہ کریں سنگ پڑنے لگے رقیبوں پے کیسے تسلیم یے خسارہ کریں خوب لگتے ہیں کتنے گلدستے سب اداؤں کو آپ یکجا کریں سارے کردار اطمینان میں ہیں اب کہانی میں موڑ پیدا کریں آگ کس طرح ہم ...

مزید پڑھیے

یہاں پر مرا کچھ بھی تھا ہی نہیں

یہاں پر مرا کچھ بھی تھا ہی نہیں سو گھاٹا ذرا بھی ہوا ہی نہیں رگوں تک میں خوشبو تری جذب کی ہوا پے بھروسہ کیا ہی نہیں مرے دل کی حالت جو تھی وہ رہی یہ پودا شجر تو ہوا ہی نہیں وہ کیا ماجرا تھا کھلا ہی نہیں نشانے پے پتھر لگا ہی نہیں کہانی دئیے کی بہت خوب ہے مگر اس میں ذکر ہوا ہی ...

مزید پڑھیے

یوں تو میرا سفر تھا صحرا تک

یوں تو میرا سفر تھا صحرا تک پیاس لے آئی مجھ کو دریا تک آئنہ سا اسے بنانے میں بھول بیٹھا میں اپنا چہرہ تک آنا جانا ہے اب بھی سانسوں کا کر لیا زندگی سے جھگڑا تک آپ منزل کی چھوڑیئے صاحب میں نے ٹھکرا دیا ہے رستہ تک نذر میں نے کیا ہے منظر کو آنکھوں کے باد اب کلیجہ تک

مزید پڑھیے

بڑھ گیا مول زندگانی کا

بڑھ گیا مول زندگانی کا اب میں حصہ ہوں اک کہانی کا لڑکھڑانے کی پوری کوشش ہے آخری موڑ ہے جوانی کا آج آنکھوں سے کام لیں گے ہم آج موقعہ ہے بے کرانی کا میں خلاؤں تلک تو آ ہی گیا شکر صد شکر رائیگانی کا اشک آہ و فغاں غزل گوئی مرحلہ اب ہے ترجمانی کا

مزید پڑھیے

کون تھا وہ ہمیں پتا ہی نہیں

کون تھا وہ ہمیں پتا ہی نہیں اس نے ہم سے گلہ کیا ہی نہیں روشنی دیکھنا ہے چھو کر کے آنکھوں پہ کچھ یقیں رہا ہی نہیں زندگی سے جواب کیا مانگیں زندگی کو تو کچھ پتا ہی نہیں چاہے دیوار ہو یا دل کوئی ہم سے تو کچھ بھی ٹوٹتا ہی نہیں باغ میں پھر بہار لوٹی ہے اور بھنوروں کو کچھ پتا ہی ...

مزید پڑھیے

دل کے زخم دکھائیں کیا

دل کے زخم دکھائیں کیا آئینہ بن جائیں کیا لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ہم بھی واپس آئیں کیا چاک گریباں گھومیں کیوں ہم دیوانے کہلائیں کیا ساری وراثت بیچ چکے ہیں ایک ضمیر بچائیں کیا پھر ٹھوکر میں دنیا ہوگی پھر کمبل پھیلائیں کیا ہم سایے کے گھر میں فاقہ کھا پی کر سو جائیں کیا ساری ...

مزید پڑھیے

گردشوں سے یوں ابھر جانے کو جی چاہتا ہے

گردشوں سے یوں ابھر جانے کو جی چاہتا ہے شام سے پہلے ہی گھر جانے کو جی چاہتا ہے تم کو رکھنا ہے رکھو ترک تعلق کا بھرم میرا وعدے سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے ملک و مذہب کے قوانین تو سر آنکھوں پر عشق میں حد سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے فرش دنیا پہ میں مدت سے جیا ہوں اب تو چاند تاروں سے گزر ...

مزید پڑھیے

چمن میں گل فشانی ہو رہی ہے

چمن میں گل فشانی ہو رہی ہے ہوا کی مہربانی ہو رہی ہے یہاں میں قطرہ قطرہ گھل رہا ہوں محبت پانی پانی ہو رہی ہے میں اکثر نیند میں ڈرنے لگا ہوں مری بیٹی سیانی ہو رہی ہے ہمارے بچے بھی پڑھ لکھ رہے ہیں تمہیں کیوں بد گمانی ہو رہی ہے ادھر مہمان اکثر آ رہے ہیں ادھر چادر پرانی ہو رہی ...

مزید پڑھیے

کٹتا ہے وقت کیسے بتا دوں جناب کا

کٹتا ہے وقت کیسے بتا دوں جناب کا قصہ سنایا کرتے ہیں عہد شباب کا اے مولیٰ تو رحیم ہے یہ جانتا ہوں میں رکھا ہے یوں ہی پیچ حساب و کتاب کا تم آ گئے خوشی ملی آنسو ٹھہر گئے گزرا کٹھن زمانہ مرے اضطراب کا تاروں کے درمیان ہے جو امتیاز چاند درجہ ہے گلستاں میں وہی تو گلاب کا ململ کا ...

مزید پڑھیے

ننھی فرحتؔ

ننھی منی پیاری فرحتؔ ہے ماں باپ کے دل کی راحت شوق سے مکتب جاتی ہے وہ جی پڑھنے میں لگاتی ہے وہ استانی جی کی ہے وہ پیاری ماں کی ہے وہ راج دلاری خوب سبق فرفر ہے سناتی مکتب سے انعام ہے پاتی ماں جو سبق سنتی ہے گھر پر پیار سے کرتی خوش ہو ہو کر باپ ہے لاتا واسطے اس کے چیزی کپڑے گڑیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2133 سے 6203