قومی زبان

اک وہ بھی دن تھے تجھ سے مرا رابطہ نہ تھا

اک وہ بھی دن تھے تجھ سے مرا رابطہ نہ تھا سنجیدگی سے تیرے لیے سوچتا نہ تھا نفرت ملی تو زعم وفا ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرا کچھ اس طرح کہ کوئی واسطہ نہ تھا کمرے میں پھیلتی ہی گئی روشنی کی لہر کرنوں کا جال تھا کہ کہیں ٹوٹتا نہ تھا دیکھا تجھے تو چاند بھی پیڑوں میں چھپ گیا ویسے تو شہر بھر میں ...

مزید پڑھیے

ایک تو تجھ سے مری ذات کو رسوائی ملی

ایک تو تجھ سے مری ذات کو رسوائی ملی اور پھر یہ بھی ستم ہے کہ تو ہرجائی ملی مسکراتا ہوں تو ہونٹوں پہ جلن ہوتی ہے تیری چاہت میں مجھے کرب کی یکجائی ملی پھر کسی خوف سے جذبوں کے بدن کانپ اٹھے جب بھی ان شبنمی آنکھوں سے پذیرائی ملی ایک یہ لوگ کہ ساتھی بھی بدل لیتے ہیں اک مرا دل کہ جسے ...

مزید پڑھیے

بلائیں لیجئے اب بارشوں کی

بلائیں لیجئے اب بارشوں کی جنہوں نے لاج رکھی موسموں کی بدن کی زردیاں مٹنے لگی ہیں ضرورت ہے غموں کی آندھیوں کی اگر گھٹتی رہیں روشن لکیریں سیاہی پھیل جائے گی شبوں کی محبت کار فرما ہو رہی ہے ملیں گی لذتیں اب رنجشوں کی اکیلی ذات گھبرانے لگی ہے طلب بڑھنے لگی ہے ساتھیوں کی لباس ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے

وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے قریب آئے تو تازہ گلاب جیسا ہے خدا کرے کہ کبھی بھی نہ ٹوٹنے پائے یہ تیرا میرا ملن ایک خواب جیسا ہے ذرا بھی تیز ہوا ہو تو کانپ اٹھتا ہے وہ خوش جمال تو شاخ گلاب جیسا ہے کچھ ایسے لگتا ہے جیسے گزر گئیں صدیاں تری جدائی کا موسم عذاب جیسا ہے سمے کے تیز ...

مزید پڑھیے

وہم تھا یا گمان جیسا تھا

وہم تھا یا گمان جیسا تھا دل کے وہ مہمان جیسا تھا تیر کاجل کے اس کی آنکھوں میں اور ابرو کمان جیسا تھا پھول سے تن پہ اس کے روشن خط منزلوں کے نشان جیسا تھا عمر بھر کون یاں ٹھہرتا ہے میں تو اک سائبان جیسا تھا جان لو بس کہ الفتوں کا سفر اک خیالی اڑان جیسا تھا اب یہاں وسوسوں کے ڈیرے ...

مزید پڑھیے

دراز گیسو دمکتے عارض کمان ابرو عذاب آنکھیں

دراز گیسو دمکتے عارض کمان ابرو عذاب آنکھیں اڑا کے رکھیں گی آج اپنا بھی ہوش آخر شراب آنکھیں یہ سرو سا قد یہ روئے تاباں یہ لب شگفتہ یہ خواب آنکھیں کہیں چرا لیں نہ چین دل کا یہ نرگسی لا جواب آنکھیں یہ میری بے باک مستیوں سے جو ہو رہی ہیں گلاب آنکھیں تو دل کے سب راز کہہ رہی ہیں تمہارے ...

مزید پڑھیے

غم کے تپتے ہوئے صحرا سے نکالے مجھ کو

غم کے تپتے ہوئے صحرا سے نکالے مجھ کو کیا کوئی ہے جو نگاہوں میں چھپا لے مجھ کو کیسی معصوم تمنا ہے دل ناداں کی میں جو بکھروں تو وہی آ کے سنبھالے مجھ کو رسم الفت تو کبھی وہ بھی نبھائے آ کر میں خفا ہوں تو کبھی وہ بھی منا لے مجھ کو تو مجھے چھوڑ کے گمنام نہ ہو جائے کہیں تیری پہچان ہوں ...

مزید پڑھیے

ذرا سی آس جگائے ذرا امنگ بھرے

ذرا سی آس جگائے ذرا امنگ بھرے کوئی تو آئے مری زندگی میں رنگ بھرے مرے لبوں پہ اجالے کوئی تبسم پھر مری نگاہ میں جلووں کے جل ترنگ بھرے کبھی تو یوں بھی مری فکر کی ستائش ہو مرے خیال کی پرچھائیوں میں انگ بھرے کوئی تو زخم لگاتے کہ جان بر کرتا کہ تم یہ تیر بھی لے آئے کیسے زنگ بھرے نہ ...

مزید پڑھیے

میری ہر فکر ہر اک سوچ کا محور تو ہے

میری ہر فکر ہر اک سوچ کا محور تو ہے بس گیا ہے مری آنکھوں میں جو منظر تو ہے یہ جو رقصاں ہے رگ و پے میں لہو کی مانند یہ کوئی اور نہیں میرے ستم گر تو ہے میں کہاں ذات میں اپنی ہوں مگر حظ قلیل مجھ میں اے جان تمنا مری اکثر تو ہے جسم پر خار لباسوں سے چھلا جاتا ہے آ مرے دوست مجھے مخملیں ...

مزید پڑھیے

وہ اگر خوش ہے تو ناشاد نہیں ہوں میں بھی

وہ اگر خوش ہے تو ناشاد نہیں ہوں میں بھی کھو کے اس کو کوئی برباد نہیں ہوں میں بھی اس کی یادوں سے چمکتے ہیں در و بام مرے کون کہتا ہے کہ آباد نہیں ہوں میں بھی کیوں کروں کوہ کنی کیوں میں اٹھاؤں تیشہ وہ کہ شیریں نہیں فرہاد نہیں ہوں میں بھی وہ بھی پابند ہوا رسم و رہ دنیا کا کچھ غم دہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2114 سے 6203