قومی زبان

کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے

کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے ہم نئے مہ وشوں کو ڈھونڈیں گے جو ترے پیار کا بدل نہ بنیں پھر انہی حسرتوں کو ڈھونڈیں گے نیم جاں لوگ چیونٹیوں کی طرح رزق کے مخزنوں کو ڈھونڈیں گے شہر والے تو کب کے سو بھی گئے کس لئے قہقہوں کو ڈھونڈیں گے بے سکوں شخص کھوجیوں کی طرح اپنے اپنے گھروں کو ...

مزید پڑھیے

قلت خلوص کی ہے محبت کا کال ہے

قلت خلوص کی ہے محبت کا کال ہے اس شہر نا سپاس میں جینا محال ہے پیڑوں پہ چاندنی کے ہیولے ہیں محو رقص کمرے میں تیرگی کی لکیروں کا جال ہے سانسوں کا ربط جیسے مسلسل عذاب ہو وہ شخص کیا جئے جسے تیرا خیال ہے لمحوں نے چھین لی ہے رتوں سے شگفتگی یہ سال موسموں کے تغیر کا سال ہے اب تو شکست ...

مزید پڑھیے

اگر کسی نے بدن کا سکون پایا ہے

اگر کسی نے بدن کا سکون پایا ہے وہ شخص روح کی تاریکیوں میں الجھا ہے خیال ہے کوئی میری تلاش میں ہی نہ ہو طلسم شب کسی آواز پا سے ٹوٹا ہے یہ کس کی چاپ در دل پہ روز سنتا ہوں یہ کس کا دھیان مجھے رات بھر ستاتا ہے کچھ اس طرح سے مقید ہوں اپنی ہستی میں کہ جیسے میں ہوں فقط میں ہوں اور دنیا ...

مزید پڑھیے

رک رک کے کبھی مڑ کے تجھے دیکھ رہا ہوں

رک رک کے کبھی مڑ کے تجھے دیکھ رہا ہوں میں تیری جدائی سے بہت خوف زدہ ہوں اس شخص سے ملنے کی جسارت ہی نہیں کی خوابوں کے دریچے سے جسے جھانک رہا ہوں میں تندئ حالات سے خائف نہیں ہوتا اے خاک نشینو میں بگولوں میں پلا ہوں دوری کی کوئی لہر نہ لے جائے بہا کر چاہت کے سمندر میں سفر کر تو رہا ...

مزید پڑھیے

تن نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی

تن نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی بہت دنوں سے خدا سے دعا نہیں مانگی خود اپنی لاش کو اپنے لہو سے ڈھانپا ہے ہری رتوں سے گلوں کی قبا نہیں مانگی چھتوں پہ پیاس پڑاؤ کیے رہی لیکن سیاہ بخت گھروں نے گھٹا نہیں مانگی کوئی شجر نہ خریدا خلوص جاں کے عوض شدید دھوپ میں ٹھنڈی ہوا نہیں ...

مزید پڑھیے

اچھے لفظوں سے نوازے یا وہ رسوائی کرے

اچھے لفظوں سے نوازے یا وہ رسوائی کرے اس کو حق ہے کہ برائی کرے اچھائی کرے پیار تو سوچ کی دیوار ہلا دیتا ہے کون اس ذہن کے دشمن سے شناسائی کرے ہاتھ سے ہاتھ جھٹک دے کہ اسے تھامے رکھے اس کو آزادی ہے جب چاہے وہ جی آئی کرے کیا خبر خود کو ہی اب بیچنا پڑ جائے یہاں کس کو معلوم ستم کیسے یہ ...

مزید پڑھیے

جنون شوق کی سرگردیاں کہاں تک ہیں

جنون شوق کی سرگردیاں کہاں تک ہیں فریب حسن تری بستیاں کہاں تک ہیں کسی کی یاد ہے دل میں نہ کوئی عکس جمیل زہے نصیب یہ محرومیاں کہاں تک ہیں کٹھن ہے ضبط کہے تو ہے خوف رسوائی دل غریب کی مجبوریاں کہاں تک ہیں اسے یہ شوق سہارا ہو عمر بھر میرا مجھے یہ فکر یہ ہمدردیاں کہاں تک ہیں یہ قہر ...

مزید پڑھیے

اس قدر کیں جذبۂ الفت کی پردہ پوشیاں

اس قدر کیں جذبۂ الفت کی پردہ پوشیاں ڈس رہی ہیں آج خود مجھ کو مری خاموشیاں کون سے صحرا کے کانٹے بچھ گئے ہیں راہ میں کون سی منزل پہ آ کر لٹ گئیں گل پوشیاں کیا ہوا وہ سوز فرقت اور سرور انتظار دل سے تیری یاد کی دن رات ہم آغوشیاں ہر اک آہٹ پر ترے آنے کا ہوتا تھا گماں خاک میں سب مل ...

مزید پڑھیے

کوئی آسیب ہے سایہ ہے کہ جادوگر ہے

کوئی آسیب ہے سایہ ہے کہ جادوگر ہے جانے کیا بات ہے ہر شخص کے دل میں ڈر ہے ایک ہی ریلے میں بہہ جائے گی خستہ بنیاد سیل بے مہر کے شانوں پہ ہمارا گھر ہے تیرے دل میں بھی محبت کی حرارت نہ رہی میرا سرمایۂ احساس بھی مٹھی بھر ہے سانحہ ہے کہ ہمیں لوٹا گیا ہے پھر بھی شہر لٹ جانے کا الزام ...

مزید پڑھیے

رنگ جذبات میں بھر جانے کو جی چاہتا ہے

رنگ جذبات میں بھر جانے کو جی چاہتا ہے کام اک پیارا سا کر جانے کو جی چاہتا ہے دشت تاریک تو اک عمر ہوئی چھان لیا اب تو سورج کے نگر جانے کو جی چاہتا ہے روح میں خواہشیں اتنی ہیں کہ جینا چاہوں کرب اتنا ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے خوف احساس ندامت کو مٹانے کے لئے رات ڈھل جائے تو گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2113 سے 6203