قومی زبان

کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے

کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے وہ شخص پوچھ رہا ہے کہ دلبری کیا ہے گئے دنوں کے تبسم کی راکھ بکھری ہے ہوائے شہر مرے دل میں ڈھونڈھتی کیا ہے فصیل جسم پہ تانی ہے کرب کی چادر ہم اہل درد سے پوچھو کہ زندگی کیا ہے ستم کی لہر چلی آ مجھے گلے سے لگا مرے وجود کے آنگن میں سوچتی کیا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

میں سطح شعر پہ ابھرا ہوں آفتاب لیے

میں سطح شعر پہ ابھرا ہوں آفتاب لیے خلوص فکر شعور نظر کے خواب لیے سخن شناس بھی ہے فن سے آشنا بھی ہے وہ کل ملا تھا مجھے فیض کی کتاب لیے سکون جسم تو حاصل کبھی ہوا ہی نہیں میں جی رہا ہوں تری قربتوں کے خواب لیے جھلس رہا ہے جوانی کی لو میں میرا بدن تری تلاش میں ہوں گرمئی شباب لیے نظر ...

مزید پڑھیے

آئنہ پیار کا اک عکس ترا مانگے ہے

آئنہ پیار کا اک عکس ترا مانگے ہے دل بھرے شہر میں بس تیری صدا مانگے ہے جسم خود سر ہے کہ ہر درد سہے جاتا ہے ایسا ضدی ہے کہ جینے کی سزا مانگے ہے رات ڈھل جائے تو ہاتھوں کی لکیریں جاگیں بے سکوں ذہن ہمیشہ یہ دعا مانگے ہے خوش بدن ہو تو ذرا خود کو بچا کر رکھو موسم زرد کوئی پیڑ ہرا مانگے ...

مزید پڑھیے

اندھیری شب ہے ضرورت نہیں بتانے کی

اندھیری شب ہے ضرورت نہیں بتانے کی مری طرف سے اجازت ہے لوٹ جانے کی کوئی تو ہو جو مزاج آشنائے دلبر ہو کسی کے پاس تو چابی ہو اس خزانے کی وہ چاہتا تو مجھے سنگ دل بنا دیتا زیادتی مرے دل پر مرے خدا نے کی میں دوسروں کے گھروں کو بچا رہا ہوں مگر کسی کو فکر نہیں میرا گھر بچانے کی میں اپنے ...

مزید پڑھیے

جدا ہے تیرا سلیقہ ہے تیرا ڈھنگ الگ

جدا ہے تیرا سلیقہ ہے تیرا ڈھنگ الگ لگے ہے سارے مناظر میں تیرا رنگ الگ رواں تھا گرم لہو آہنی پرندوں میں چھڑی تھی امن پسندوں میں سرد جنگ الگ نئی دشاؤں سے مسموم آندھیاں اٹھیں تو آسماں بھی بدلنے لگا تھا رنگ الگ نشاط فن تو بہر حال اپنی قسمت ہے ہزار اپنے مسائل ہیں ان سے جنگ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ رہا ہے تن کیا کہئے

ٹوٹ رہا ہے تن کیا کہئے سوچ کا بھاری پن کیا کہئے کیا غم ہے کیسے بتلائیں کیسی ہے الجھن کیا کہئے خوشبو اور رنگوں کی دنیا خوابوں کا گلبن کیا کہئے جیبوں کے خالی موسم میں کیا کیا چاہے من کیا کہئے یادوں کی گڑیوں سے کھیلے بوڑھوں کا بچپن کیا کہئے

مزید پڑھیے

سفر پہ یوں مصر ہوں میں کہ حوصلوں میں جان ہے

سفر پہ یوں مصر ہوں میں کہ حوصلوں میں جان ہے جو لٹ چکا یقین تھا جو بچ گیا گمان ہے زمین کی کشش کا جال توڑ کر نکل گئیں مگر یہ طے ہے چیونٹیوں کی آخری اڑان ہے لہو کے نام لکھ دیے ہیں تیر ابر و باد کے زمیں ہدف بنی ہوئی ہے آسماں کمان ہے وہی جو آدھی رات کو چراغ بن کے جل اٹھا کسی کی یاد کا ...

مزید پڑھیے

پیار کا ابر کھل کے برسا ہے

پیار کا ابر کھل کے برسا ہے ٹوٹ کر میں نے تجھ کو چاہا ہے اس سے بڑھ کر جدائی کیا ہوگی اب تو آنکھوں سے خون بہتا ہے شاید اب پھر کبھی نہ مل پائیں میں نے خوابوں میں تجھ کو دیکھا ہے اک کرن کو ترس رہے ہیں ہم صحن دل میں بڑا اندھیرا ہے سب کو پھولوں کی آرزو ہے نیازؔ کون پتوں سے پیار کرتا ...

مزید پڑھیے

ہمارے نام سے ان کو محبتیں کیسی

ہمارے نام سے ان کو محبتیں کیسی جو مر گئے تو کسی سے شکایتیں کیسی اجڑ گئے ہیں حویلی کے سارے ہنگامے مچا رکھی ہیں ہوا نے قیامتیں کیسی سراپا پیار ہیں ہم تو وفا پرست بھی ہیں ہم ایسے شخص کے دل میں کدورتیں کیسی کبھی تو خود ہی رتوں کا مزاج بدلے گا ستم کے زرد دنوں سے بغاوتیں کیسی دلوں ...

مزید پڑھیے

جس کے حسن کی شہرت مجھ پہ بار گزری تھی

جس کے حسن کی شہرت مجھ پہ بار گزری تھی آج پھر وہی لڑکی راہ روکے ٹھہری تھی وہم کی نگاہوں نے کتنے حادثے دیکھے خط پیش-منظر پر ایک کالی بلی تھی سانپ سونگھ جاتا تھا جو اسے برتتا تھا دیکھنے میں وہ عورت شہد کی کٹوری تھی روح میں ابھرتی تھی تیرے قرب کی خواہش میں نے اپنے ہونٹوں پہ تیری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2112 سے 6203