قومی زبان

یوں تو زحمت سے لکھے جاتے ہیں ہم

یوں تو زحمت سے لکھے جاتے ہیں ہم خیر مصرعوں میں کہاں آتے ہیں ہم ذہن میں چیخیں رکھا کرتے ہیں پر اس کی خاموشی سے گھبراتے ہے ہم اب کریں جھگڑا مناسب ہی نہیں عشق میں بوڑھے ہوئے جاتے ہیں ہم ہوش میں آتے ہی ہو جاتے ہیں چپ اور بے ہوشی میں چلاتے ہیں ہم کس طرح کی وسعتیں رکھتا ہے تو کس طرح ...

مزید پڑھیے

دماغ پھر سا گیا ہے کچھ ایک سالوں سے

دماغ پھر سا گیا ہے کچھ ایک سالوں سے خیال بھی نہیں ملتے ہیں ہم خیالوں سے رہا ہوا جو میں زنجیر کار دنیا سے تو کھیلتا رہا شب بھر کسی کے بالوں سے مرا حبیب اداسی کی اور بڑھتا گیا وہ مطمئن ہی نہیں تھا مری مثالوں سے کوئی جواب نہیں ان اداس آنکھوں کا مجھے بھی بھاگنا پڑتا ہے ان سوالوں ...

مزید پڑھیے

غنیمت ہے کسی کے سر نہیں ہوں

غنیمت ہے کسی کے سر نہیں ہوں ابھی تک گھر سے میں بے گھر نہیں ہوں ابھی دیوار سے گزرا تو جانا میں اپنے جسم کے اندر نہیں ہوں یہ اچھی بات ہے تم سامنے ہو میں یعنی خواب سے باہر نہیں ہوں میں چاروں اور سے ہوں بند کمرہ فقط دیوار ہوں میں در نہیں ہوں اگر ہوتا تو خود کو پھر بناتا مگر افسوس ...

مزید پڑھیے

رابطہ

ایک رجعت کے مرحلے میں رہوں میں پلٹنے کے مشغلے میں رہوں یہ تقاضہ تھا جانے والوں کا بچھڑی نسلوں سے رابطے میں رہوں میں کڑی ہوں گئے زمانوں کی شہر ماضی کے خاک دانوں کی راکھ ہوتے ہوئے جہانوں کی بھولے بسرے ہوئے فسانوں کی سہہ سکے گا نہ اب مزاج اپنا نیش وحشت کی درد انگیزی اپنی اقدار سے ...

مزید پڑھیے

اجالے کی لکیر

اک نئی صبح درخشاں کا روپہلا آنچل اپنے ہم راہ لئے عزم جواں کی تنویر ساقیٔ وقت کے رخسار پہ لہرایا ہے یہ ہے تاریک فضاؤں میں اجالے کی لکیر راستے پر کئی خورشید نئے جل اٹھے روشنی دیکھیے تا حد نظر پھیل گئی آسمانوں کو زمینوں کو نئے رنگ ملے اور فضا نکہت و رعنائی سے معمور ہوئی ہر نفس ...

مزید پڑھیے

دونوں کو آ سکیں نہ نبھانی محبتیں

دونوں کو آ سکیں نہ نبھانی محبتیں اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھلانی محبتیں سب سر بسر فریب ہیں کیا ان کا اعتبار یہ پیار حسن عشق جوانی محبتیں جانے وہ آج کون سے رستے سے آئے گھر ہر موڑ ہر گلی میں بچھانی محبتیں کن کن رفاقتوں کے دئے واسطے مگر اس کو نہ یاد آئیں پرانی محبتیں گزری رتوں کے زخم ...

مزید پڑھیے

طے نیم جاں کا آج بھی جھگڑا نہ ہو سکا

طے نیم جاں کا آج بھی جھگڑا نہ ہو سکا تجھ سے ستم بھی اے ستم آرا نہ ہو سکا جب درد دل کا تم سے مداوا نہ ہو سکا پھر کچھ بھی تم سے حضرت عیسیٰ نہ ہو سکا اللہ رے روانیٔ چشم شب فراق یوں تیز رو کبھی کوئی دریا نہ ہو سکا اندھیر ہے کہ موت بھی معشوق بن گئی ہر چند چاہا رات کو مرنا نہ ہو سکا کس ...

مزید پڑھیے

نظر سے ہو کے وہ دل میں اترنا چاہتا ہے

نظر سے ہو کے وہ دل میں اترنا چاہتا ہے پھر اس کے بعد لہو میں بکھرنا چاہتا ہے خبر کرو یہ سیہ رات کے اسیروں کو سحر قریب ہے سورج ابھرنا چاہتا ہے جو روشنی و محبت کا استعارہ ہے اسی پرند کے وہ پر کترنا چاہتا ہے نگار خانے سے کہئے ذرا سنبھل کے رہے وہ آئنے کے مقابل سنورنا چاہتا ہے زمیں ...

مزید پڑھیے

چاند نکلا گگن میں کیا کیا کچھ

چاند نکلا گگن میں کیا کیا کچھ درد چمکا بدن میں کیا کیا کچھ چاند سورج زمین سیارے ڈھل رہے ہیں سخن میں کیا کیا کچھ دشت میداں ندی پہاڑ گپھا ہے اسی اک بدن میں کیا کیا کچھ نام اس کا زباں پر آتے ہی گدگدایا بدن میں کیا کیا کچھ کون آیا برائے سیر چمن پھول مہکے چمن میں کیا کیا کچھ شاخ پر ...

مزید پڑھیے

وہ زمیں پر نہ آسمان میں تھا

وہ زمیں پر نہ آسمان میں تھا آگ پانی کے درمیان میں تھا جسم و جاں میں عجب رقابت تھی عشق بے چارہ امتحان میں تھا سر بکف میں بھی تھا سر مقتل تیر وہ بھی لئے کمان میں تھا سامنے برف کی ندی تھی مگر بند آنکھیں کیے وہ دھیان میں تھا پر سمیٹے ہوئے جو بیٹھا ہے وہ پرندہ کبھی اڑان میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2105 سے 6203