یوں تو زحمت سے لکھے جاتے ہیں ہم
یوں تو زحمت سے لکھے جاتے ہیں ہم خیر مصرعوں میں کہاں آتے ہیں ہم ذہن میں چیخیں رکھا کرتے ہیں پر اس کی خاموشی سے گھبراتے ہے ہم اب کریں جھگڑا مناسب ہی نہیں عشق میں بوڑھے ہوئے جاتے ہیں ہم ہوش میں آتے ہی ہو جاتے ہیں چپ اور بے ہوشی میں چلاتے ہیں ہم کس طرح کی وسعتیں رکھتا ہے تو کس طرح ...