قومی زبان

دیر و حرم کے بیچ اگر میکدہ نہ ہو

دیر و حرم کے بیچ اگر میکدہ نہ ہو انسانیت کے نام کا روشن دیا نہ ہو اک ایک حرف شعر کا گر بولتا نہ ہو دنیائے شاعری میں کوئی معجزہ نہ ہو تعمیر قصر دل ہو کہ تسخیر کائنات ہمت سے کام لو تو کوئی کام کیا نہ ہو وہ بت پرست ہو کہ مسلمان سچ بتا ایسا بھی کوئی ہے جو تجھے چاہتا نہ ہو مجھ کو عطا ...

مزید پڑھیے

لفظ گونگے ہیں انہیں شعلہ بیانی دے دے

لفظ گونگے ہیں انہیں شعلہ بیانی دے دے مثل صرصر مرے خامے کو روانی دے دے پھر وہی جھوٹ کا لشکر ہے مرے چاروں طرف پھر مجھے حوصلۂ صدق بیانی دے دے میرے گلشن کی طرف بھیج کوئی ابر بہار ہونٹ سوکھے ہیں گلوں کے انہیں پانی دے دے زندگانی مری بے کیف ہوئی جاتی ہے کوئی کردار نیا کوئی کہانی دے ...

مزید پڑھیے

رنگ چہرے پہ گھلا ہو جیسے

رنگ چہرے پہ گھلا ہو جیسے آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں شاخ سے پھول جدا ہو جیسے ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب زندگی کوئی خطا ہو جیسے یوں جگا دیتی ہے دل کی دھڑکن اس کے قدموں کی صدا ہو جیسے زندگی یوں ہے گریزاں ثروتؔ ہم نے کچھ مانگ لیا ہو جیسے

مزید پڑھیے

یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں

یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں ایک مدت میں یہ ہوا معلوم میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ ہے مگر اتنا تند خو بھی ...

مزید پڑھیے

نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے میں دشت تمنا میں بس اک بار گئی تھی اس وقت سے رستے ہیں مرے پاؤں ...

مزید پڑھیے

کہیں زمین کہیں آسمان چھوڑ آئے

کہیں زمین کہیں آسمان چھوڑ آئے دیار کرب میں اپنا مکان چھوڑ آئے نئے سفر پہ نئے موسموں نے دی آواز کڑی تھی دھوپ مگر سائبان چھوڑ آئے یہ جان کر بھی کہ نا‌ مہربانیاں ہوں گی پرانے شہر میں سب مہربان چھوڑ آئے تلاطم غم دوراں میں بہہ گئے پتوار ہوا کے ہاتھ میں ہم بادبان چھوڑ آئے جہاں سے ...

مزید پڑھیے

اپنے جذبے نثار مت کرتے

اپنے جذبے نثار مت کرتے وقت کا اعتبار مت کرتے داغ زخموں کے ان گنت ہوں گے آبلوں کا شمار مت کرتے درمیاں فاصلوں کے صحرا ہیں اب مرا انتظار مت کرتے اجنبی دیس اڑ گئے پنچھی اپنے بچوں سے پیار مت کرتے نفرتوں کے قمار خانے میں پیار کا کاروبار مت کرتے پیر تو پتھروں کے عادی ہیں طے کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ ازخود رفتگی بالکل نئی تھی

یہ ازخود رفتگی بالکل نئی تھی کہ تفسیر حدیث دل نئی تھی سرابوں کی سرشت نارسائی تمنا کے لئے منزل نئی تھی وہ پہلے بھی جنوں سے آشنا تھے یہ گرمی خون میں شامل نئی تھی نیا تھا درد کے رشتوں سے ناطہ نئی کونپل تھی آب و گل نئی تھی کنارے موج سے ملتے رہے تھے مگر اب مستیٔ ساحل نئی تھی نئے ...

مزید پڑھیے

زندگی ہاتھ مل رہی ہے کیا

زندگی ہاتھ مل رہی ہے کیا اپنا چہرہ بدل رہی ہے کیا اب ہوا سسکیاں سی لیتی ہے وہ بھی کانٹوں پہ چل رہی ہے کیا ہجر کے سب عذاب جاگ اٹھے شب مہتاب ڈھل رہی ہے کیا پھر سے ساحل کا کھل اٹھا چہرہ موج طوفان ٹل رہی ہے کیا اب خزاں کے مزاج بپھرے ہیں وہ گلوں کو مسل رہی ہے کیا پھر تمنا نے بال و پر ...

مزید پڑھیے

زندگی تھوڑی سی مہلت تو کبھی دی ہوتی

زندگی تھوڑی سی مہلت تو کبھی دی ہوتی زندہ رہنے کی اجازت تو کبھی دی ہوتی چاند نے ہاتھ مرا پیار سے تھاما ہوتا چاندنی چھونے کی مہلت تو کبھی دی ہوتی کتنے کھوئے ہوئے لمحوں کا خیال آتا ہے ڈھونڈنے کی کوئی رخصت تو کبھی دی ہوتی آپ کے شکوۂ بے جا کا گلہ کیا کرنا آپ نے اپنی محبت تو کبھی دی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2106 سے 6203