قومی زبان

کہاں ہوں میں اور کہاں نہیں ہوں

کہاں ہوں میں اور کہاں نہیں ہوں جہاں ہو تم کیا وہاں نہیں ہوں وجود سے میرے ہو نہ منکر میں اک یقیں ہوں گماں نہیں ہوں میں حوصلہ خود ہوں زندگی کا میں کوئی بار گراں نہیں ہوں نہ گوشوارے میں مجھ کو لکھو حساب سود و زیاں نہیں ہوں مرے ہی دم سے شعور ہستی فقط میں رنگ جہاں نہیں ہوں

مزید پڑھیے

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیں

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیں دیر پا بہت دل کی خواہشیں نہیں ہوتیں خود بہ خود ہی کھلتے ہیں دل میں پھول خوشیوں کے دل کو شاد رکھنے کی کاوشیں نہیں ہوتیں دوست بھی صفوں میں ہیں اور اپنے دشمن بھی کامیاب پھر کیسے سازشیں نہیں ہوتیں تخت و تاج مانگے سے کب کسی کو ملتا ہے دل کی ...

مزید پڑھیے

ہوس کسی کو ہو دیکھنے کی جو موج بے انتہائے دریا

ہوس کسی کو ہو دیکھنے کی جو موج بے انتہائے دریا تو آ کے چشموں کو دیکھے میری کہ یاں سے ہے ابتدائے دریا حباب ان کو نہ سمجھو یارو یہ اٹھتے پانی میں ہیں جو ہر دم بدن کھلا جو کسی کا دیکھا کھلے ہیں یہ دیدہ‌ ہائے دریا دورن‌ گرداب اب جو جا کر پھنسی ہے کشتی ہماری یا رب سرکش یاس اب بھی ہے ...

مزید پڑھیے

حلقۂ دیگراں میں شامل تم

حلقۂ دیگراں میں شامل تم کوچۂ قاتلاں میں شامل تم بزم احباب میں ہو تم لیکن ہو صف دشمناں میں شامل تم ہر نفس ہم کلام ہوں تم سے میرے حرف و بیاں میں شامل تم ہر گھڑی احتساب ہے میرا میرے سود و زیاں میں شامل تم میں تمہارے وجود کا حصہ پیکر جسم و جاں میں شامل تم روز محشر گزر گیا مجھ ...

مزید پڑھیے

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں وہی جو جان سے پیارے ہیں رشتے مار دیتے ہیں کبھی برسوں گزرنے پر کہیں بھی کچھ نہیں ہوتا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمحے مار دیتے ہیں کبھی منزل پہ جانے کے نشاں تک بھی نہیں ملتے جو رستوں میں بھٹک جائیں تو رستے مار دیتے ہیں کہانی ختم ہوتی ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

زندگی کے صحرا میں کچھ نشاں نہیں ملتے

زندگی کے صحرا میں کچھ نشاں نہیں ملتے راستے تو ملتے ہیں کارواں نہیں ملتے مامتا کی چھاؤں کی قدر جو نہیں کرتے دھوپ ان کو ملتی ہے سائباں نہیں ملتے عمر بھر سفر ہی تو پھر نصیب ہوتا ہے گھر سے جب نکل جائیں آشیاں نہیں ملتے اپنی اپنی دنیا میں کھو گئے ہیں ہم دونوں تم جہاں پہ ملتے ہو ہم ...

مزید پڑھیے

آخری منظر عجب آنکھوں میں ہے

آخری منظر عجب آنکھوں میں ہے جیسے صدیوں کا سفر لمحوں میں ہے لمحہ لمحہ ساز دل خاموش سا اک صدا بس گونجتی کانوں میں ہے زندگی الجھا ہوا اک سلسلہ پھانس اک چبھتی ہوئی سانسوں میں ہے ربط جاں کا جسم سے ٹوٹا ہوا چھوٹتا دامن ترا ہاتھوں میں ہے کچھ فسانے یاد کچھ بھولے ہوئے خواب سی اک شکل ...

مزید پڑھیے

درد و غم کی حکایتیں مت پوچھ

درد و غم کی حکایتیں مت پوچھ دل پہ گزری قیامتیں مت پوچھ ساری کوشش ہے بے حصول تری زخم دل کی جراحتیں مت پوچھ اک نظر میں نہ جانے کیا دیکھا ہم سے آنکھوں کی حیرتیں مت پوچھ ذرے ذرے میں ہے تری صورت ہم سے اپنی شباہتیں مت پوچھ ہم نے صدیاں گزار دیں اس میں ایک پل کی رفاقتیں مت پوچھ یاد ...

مزید پڑھیے

درد و غم کی حکایتیں مت پوچھ

درد و غم کی حکایتیں مت پوچھ دل پہ گزری قیامتیں مت پوچھ ساری کوشش ہے بے حصول تری زخم دل کی جراحتیں مت پوچھ اک نظر میں نہ جانے کیا دیکھا ہم سے آنکھوں کی حیرتیں مت پوچھ ذرے ذرے میں ہے تری صورت ہم سے اپنی شباہتیں مت پوچھ ہم نے صدیاں گزار دیں اس میں ایک پل کی رفاقتیں مت پوچھ یاد ...

مزید پڑھیے

اچانک ایسے جل تھل ہو گئے کیوں

اچانک ایسے جل تھل ہو گئے کیوں کہ صحرا سارے جنگل ہو گئے کیوں قدم اس طرح سے شل ہو گئے کیوں سہارے اتنے بوجھل ہو گئے کیوں نہیں تخفیف ان میں اک ذرا سی یہ غم اتنے مسلسل ہو گئے کیوں تری قربت کے وہ سارے زمانے سمٹ کر ایک ہی پل ہو گئے کیوں انہیں اتنے دنوں کے بعد دیکھا خوشی میں پھر یہ بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2093 سے 6203