سب کو خود سے بچا رہا ہوں میں
سب کو خود سے بچا رہا ہوں میں اپنا نقشہ مٹا رہا ہوں میں دل کا تیرے ہوا میں جان جاں پرزہ پرزہ اڑا رہا ہوں میں یا سجاتا ہوں تیری ڈولی یا اپنی میت سجا رہا ہوں میں تاکہ پھر شعر کا دھماکہ ہو روز بارود کھا رہا ہوں میں دل کے میں نے بڑھائے دام بہت جان سستی بنا رہا ہوں میں ڈھونگ ہے یہ ...