قومی زبان

سب کو خود سے بچا رہا ہوں میں

سب کو خود سے بچا رہا ہوں میں اپنا نقشہ مٹا رہا ہوں میں دل کا تیرے ہوا میں جان جاں پرزہ پرزہ اڑا رہا ہوں میں یا سجاتا ہوں تیری ڈولی یا اپنی میت سجا رہا ہوں میں تاکہ پھر شعر کا دھماکہ ہو روز بارود کھا رہا ہوں میں دل کے میں نے بڑھائے دام بہت جان سستی بنا رہا ہوں میں ڈھونگ ہے یہ ...

مزید پڑھیے

بے قراری کو بے قراری ہے

بے قراری کو بے قراری ہے کس کے گھر جاؤں کس کی باری ہے ساری دنیا کا دل دکھانے کی جان من تیری ذمہ داری ہے دل پھر اپنا انہیں کو دے بیٹھے موت کا انتظام جاری ہے حکم ہوتے ہی میں اچھلتا ہوں ساری دنیا مری مداری ہے میں کسی کو نظر نہیں آتا کس نے میری نظر اتاری ہے چیخ جو نئیں ابھی سنائی ...

مزید پڑھیے

پلک سے اک اشارہ بس کئے جاتے تو رک جاتے

پلک سے اک اشارہ بس کئے جاتے تو رک جاتے نکلتے دم خفا ہو کر نہیں آتے تو رک جاتے ستایا ہی نہیں تم نے ذرا سا بھی کبھی ہم کو مہرباں تم کبھی ہم پر ستم ڈھاتے تو رک جاتے سنا ہم نے تمہیں اکثر عجب سے گیت گاتے بس کسی دن کے کنارے اک غزل گاتے تو رک جاتے ہمیں محفل میں رکنے کا تو تھا بس ایک ہی ...

مزید پڑھیے

ساتھی سے

میں خود ہی اپنی بہار سے روٹھنے لگوں گر تو تم مجھے روٹھنے نہ دینا جو وار لمحے کا ہو وہ سہنا یہ سوچ لینا کہ ایک لمحہ گریز کا کیسے محبتوں کی اک عمر پامال کر کے گزر رہا ہے

مزید پڑھیے

آئینہ

میں آئینہ ہوں اور ہر آنے والے کو وہی چہرہ دکھاتا ہوں جو میرے سامنے لائے مگر اب تھک گیا ہوں چاہتا ہوں کوئی مجھ کو اس طرح دیکھے کہ چکنا چور ہو جاؤں

مزید پڑھیے

سچا جھوٹ

میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹے آؤ چلو تنہا ہو جائیں کون مریض اور کون مسیحا اس دکھ سے چھٹکارا پائیں آنکھیں اپنی خواب بھی اپنے اپنے خواب کسے دکھلائیں اپنی اپنی روحوں میں سب اپنے اپنے کوڑھ سجائیں اپنے اپنے کندھوں پر سب اپنی اپنی لاش اٹھائیں بیٹھ کے اپنے اپنے گھر میں اپنا اپنا جشن ...

مزید پڑھیے

آئیڈیل

میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزو وہ میرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھی ایسا موسم جیسے مے پی کر چھلک جاؤں کبھی یا کوئی ہے خواب جو دیکھا تھا لیکن پھر مجھے یاد کرنے پر بھی یاد آیا نہ تھا دل یہ کہتا ہے وہی ہے ہو بہو جس کو دیکھا تھا کبھی اور سامنے پایا نہ تھا گفتگو اس سے ہے اور ہے ...

مزید پڑھیے

میں زندہ ہوں

آخری رات تھی وہ میں نے دل سے یہ کہا حرف جو لکھے گئے اور جو زباں بولی گئی سبھی بیکار گئے میں بھی اب ہار گیا یار بھی سب ہار گئے کوئی چارہ نہیں جز ترک تعلق اے دل اک صدا اور سہی آخری بار جسم سے چھیڑا اسے روح سے چھو لے اسے آخری بار بہے ساز بدن سے کوئی نغمہ کوئی لے آخری رات ہے یہ آخری بار ...

مزید پڑھیے

نمو

میں وہ شجر تھا کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں کہ میں اک آواز کا سفر تھا عجب شجر تھا کہ اس مسافر کا منتظر تھا جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو ...

مزید پڑھیے

چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں یہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیں بجھے ہوئے سے چراغ جیسے جو پھر سے چلنے کے منتظر ہوں وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں وہ مہرباں سایہ دار زلفیں جنہوں نے پیماں کیے تھے مجھ سے رفاقتوں کے محبتوں کے کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہ وفا کے جہاں بھی جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2073 سے 6203