قومی زبان

گھر ہے پتھر کا خدا خیر کرے

گھر ہے پتھر کا خدا خیر کرے اب مرے سر کا خدا خیر کرے پیاس نے توڑ دی ہے ساری حدیں اب سمندر کا خدا خیر کرے روز دیواروں کے باہم جھگڑے ایسے میں گھر کا خدا خیر کرے ہر زباں تیغ ہر اک ہاتھ چھری آج منظر کا خدا خیر کرے شیش محلوں کی نمائش ہے عزیزؔ سنگ مرمر کا خدا خیر کرے

مزید پڑھیے

مردوں کی زندگی کے لیے کیا دعا کریں

مردوں کی زندگی کے لیے کیا دعا کریں اس پست آگہی کے لیے کیا دعا کریں از خود ہمیں نہیں ہے میسر نظر صدا ایسے میں ہم کسی کے لیے کیا دعا کریں بے ربط بد حواس کمر سے الگ تھلگ ہم ایسی چاندنی کے لیے کیا دعا کریں ملنے تھے جو بھی درد مسرت سو مل گئے اب وقت آخری کے لیے کیا دعا کریں گویا زمین ...

مزید پڑھیے

ایک دنیا نئی بنائیں گے

ایک دنیا نئی بنائیں گے ہو بہ ہو آپ سی بنائیں گے اپنے آنسو سنبھال کر رکھنا اک سمندر کبھی بنائیں گے ہم سنیں گے کہانیاں پہلے پھر تجھے جل پری بنائیں گے تیرا کردار بس ذرا سا ہے ہم تجھے مرکزی بنائیں گے کینوس پر بنا کے رادھا شیام ساتھ اک بانسری بنائیں گے اک جگہ ہم بنائیں گے دریا اک ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ بیٹھ کے بے اختیار ڈھونڈھتا ہوں

زمیں پہ بیٹھ کے بے اختیار ڈھونڈھتا ہوں میں آسمان کا گرد و غبار ڈھونڈھتا ہوں مجھے پتہ ہے کسی میں یہ شے نہیں موجود ہر ایک شخص میں کیوں اعتبار ڈھونڈھتا ہوں اکیلا بیٹھ کے مسجد کے ایک کونے میں کمال کرتا ہوں پروردگار ڈھونڈھتا ہوں کہ آئنے میں کئی آئینے کئے تخلیق سو ایک چہرے میں چہرے ...

مزید پڑھیے

ذہن میرا قیاس پہنے ہوئے

ذہن میرا قیاس پہنے ہوئے دل ہے خوف و ہراس پہنے ہوئے اس کی آنکھوں میں سات دریا ہیں اور مرے ہونٹ پیاس پہنے ہوئے بھیڑیے نے عجیب چال چلی چھپ گیا سبز گھاس پہنے ہوئے بیٹھ جاتے ہیں بام و در اکثر آئنے آس پاس پہنے ہوئے ہیں جو منہ بولے کچھ فقیر میاں یہ لبادے ہیں خاص پہنے ہوئے بات کرتا ...

مزید پڑھیے

عجیب رات تھی وہ رات میں نہیں آیا

عجیب رات تھی وہ رات میں نہیں آیا کہ میرے خواب طلسمات میں نہیں آیا وہ اس لئے ہی تو آیا تھا پھول کھل جائیں پھر اس کے بعد وہ باغات میں نہیں آیا میں چاہتا تھا اسے چھو کے دیکھ لوں لیکن وہ آسمان مرے ہات میں نہیں آیا وگرنہ تم سے تعلق میں ختم کر دیتا پہ انتشار بیانات میں نہیں آیا گنہ ...

مزید پڑھیے

جب روشنی چمکی تو اٹھایا سر ساحل

جب روشنی چمکی تو اٹھایا سر ساحل مٹی کے پیالے میں تھا سونا سر ساحل پانی پہ مکاں جیسے مکیں اور کہیں غم کچھ ایسے نظر آئی تھی دنیا سر ساحل جب طے ہو ملاقات اس آشفتہ سری سے تم اور ہی کچھ رنگ پہننا سر ساحل کشتی میں نظر آئی تھی جنت کی تجلی پتوار اٹھاتے ہی میں بھاگا سر ساحل اب قوم اتارے ...

مزید پڑھیے

عجیب رات تھی وہ رات میں نہیں آیا

عجیب رات تھی وہ رات میں نہیں آیا کہ میرے خواب طلسمات میں نہیں آیا کھلے کواڑ مرے گھر کے بین کرتے رہے کوئی بھی ہاتھ مرے ہاتھ میں نہیں آیا وہ اس لیے ہی تو آیا تھا پھول کھل جائیں پھر اس کے بعد وہ باغات میں نہیں آیا گنہ معاف میں اس کو خدا بنا بیٹھا خدا خیال ملاقات میں نہیں آیا میں ...

مزید پڑھیے

اپنے تصورات سے آگے نکل گیا

اپنے تصورات سے آگے نکل گیا کل شب میں کائنات سے آگے نکل گیا سورج کو دیکھنے کے لئے میں دم سحر بے اختیار رات سے آگے نکل گیا وہ پتھروں کو کرنے لگا آئینہ صفت میں حد ممکنات سے آگے نکل گیا منظر بہت کھلے مری آنکھوں کے سامنے لیکن میں واقعات سے آگے نکل گیا میں ہاں اور اک نہیں کے ابھی ...

مزید پڑھیے

میں نے سن رکھی ہے صاحب ایک کہانی دریا کی

میں نے سن رکھی ہے صاحب ایک کہانی دریا کی شام کنارے بیٹھ کے اک دن وہ بھی زبانی دریا کی ورنہ ہم بھی آئینے کے بھید سے واقف ہو جاتے ہم نے اپنی من مانی کی ایک نہ مانی دریا کی ریت کے چھوٹے ٹکڑے پر ہی آبادی مقصود ہوئی اسی بہانے چاروں جانب ہے سلطانی دریا کی آنکھیں ہی اظہار کریں تو شاید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2065 سے 6203