مسافرت مری ہر جستجو سے خالی ہے
مسافرت مری ہر جستجو سے خالی ہے
بس اک مدار میں پھرنے کی خو بنا لی ہے
تمام وقت میں شہر گماں میں رہتا ہوں
سکوں سے رہنے کی منطق نئی نکالی ہے
حریص آریوں کی بھینٹ چڑھ گیا چپ چاپ
شجر پہ اب کوئی پتا نہ کوئی ڈالی ہے
ہوا میں بھر گئی ہے بوئے اشتہا ہر سو
کسی غریب نے اپنی ردا اچھالی ہے
لبوں پہ چاشنی اور دل میں نفرتوں کا زہر
یہ آب و نار کی سنگت بڑی نرالی ہے
بتا رہا ہے یہ پتوں کا ماتمی سا شور
چمن سے جلد ہی آندھی گزرنے والی ہے