قومی زبان

شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہے

شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہے ابھی تو کتنے خداؤں کی واں خدائی ہے گمان تیرگی رخشندگی پہ ہونے لگا دیار شب نے عجب داستاں سنائی ہے اب اس پہ دور نکل آئے تو خفا کیوں ہو یہ راہ بھی تو تمہی نے ہمیں دکھائی ہے کبھی جو مجھ سے ملے وہ رہے خموش مگر پس سکوت زباں خوب ہم نوائی ہے ہر ایک فکر ...

مزید پڑھیے

ہے آج اندھیرا ہر جانب اور نور کی باتیں کرتے ہیں

ہے آج اندھیرا ہر جانب اور نور کی باتیں کرتے ہیں نزدیک کی باتوں سے خائف ہم دور کی باتیں کرتے ہیں تعمیر و ترقی والے ہیں کہیے بھی تو ان کو کیا کہیے جو شیش محل میں بیٹھے ہوئے مزدور کی باتیں کرتے ہیں یہ لوگ وہی ہیں جو کل تک تنظیم چمن کے دشمن تھے اب آج ہمارے منہ پر یہ دستور کی باتیں ...

مزید پڑھیے

نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزل

نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزل حصار ذات سے باہر بلا رہی ہے غزل یہ کون ہے جو بہت بے قرار ہے مجھ میں یہ کس کے قرب میں یوں کسمسا رہی ہے غزل وہ خول جس میں مقید ہوں ٹوٹنے کو ہے مجھے بہار کا مژدہ سنا رہی ہے غزل وجود کا ہوا جاتا ہے فلسفہ پانی رموز ذات سے پردے اٹھا رہی ہے غزل جو معترض ...

مزید پڑھیے

ہم برا کرتے یا بھلا کرتے

ہم برا کرتے یا بھلا کرتے سوچ کر کوئی فیصلہ کرتے تم تعلق کا پاس تو رکھتے خوش نہ کرتے ہمیں خفا کرتے دوستو کاش دکھ کے لمحوں میں تم دوا کرتے ہم دعا کرتے کر دی دشوار رہ گزار زیست اور کیا کام رہنما کرتے رکھتے رشتوں میں یوں توازن ہم کچھ وفا کرتے کچھ جفا کرتے سر اٹھاتے قبولیت کے ...

مزید پڑھیے

اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیا

اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیا خود بینیوں نے ہم کو سنورنے نہیں دیا حالات نے اگرچہ سجھائی گداگری میری انا نے مجھ کو بکھرنے نہیں دیا طوفاں سے کھیلنے کا رہا شوق عمر بھر ساحل پہ جس نے مجھ کو اترنے نہیں دیا المایوں میں قید رہا اپنا سارا علم قلب و نظر کو ہم نے نکھرنے نہیں دیا دنیا ...

مزید پڑھیے

گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہے

گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہے راستہ زیست کا آسان ہوا جاتا ہے اک طرف روح کہ پرواز کو جیسے تیار اک طرف جسم کہ بے جان ہوا جاتا ہے دشت غربت ہے کہ آباد ہمارے دم سے گھر کا آنگن ہے کہ ویران ہوا جاتا ہے کیوں نہ پھر دھوپ بھی بن جائے گھٹا جب ہم پر آپ کا سایۂ مژگان ہوا جاتا ہے کہہ دیا آپ ...

مزید پڑھیے

پہلے کچھ دن مرے زخموں کی نمائش ہوگی

پہلے کچھ دن مرے زخموں کی نمائش ہوگی پھر مرے حال پہ اس بت کی نوازش ہوگی ہاں بظاہر تو دھرا جائے گا قاتل لیکن پس پردہ اسی قاتل کی سفارش ہوگی پیاسی دھرتی یوں ہی پیاسی ہی رہے گی یارو اور دریا پہ مسلسل یہاں بارش ہوگی جس طرح ٹوٹے ہوئے پتے بکھر جاتے ہیں ہم بکھر جائیں اسی طور یہ سازش ...

مزید پڑھیے

کہانی کچھ بھی نہیں تھی بیاں زیادہ تھا

کہانی کچھ بھی نہیں تھی بیاں زیادہ تھا ذرا سی آگ لگی تھی دھواں زیادہ تھا وہ کارواں میں نہ تھا ایسی کوئی بات نہیں بچھڑ گیا تھا کہ وہ بد گماں زیادہ تھا بس اس سبب سے نہ راس آ سکی ہمیں یہ زمیں کہ اپنے ذہن میں یہ آسماں زیادہ تھا میں اس کے ساتھ سفر کر سکا نہ دور تلک کہ لفظ لفظ وہ مجھ پر ...

مزید پڑھیے

رہ سفر میں رہے اور حیات سے گزرے

رہ سفر میں رہے اور حیات سے گزرے کہ ایک رنگ میں کتنے جہات سے گزرے بڑے سکون سے ہم احتیاط سے گزرے قدم جما کے چلے کائنات سے گزرے ہے کوئی عزم جواں اور نہ کچھ جنوں خیزی بے دست و پا ہی رہے ممکنات سے گزرے یقین دل میں رہا تیری دل ربائی کا سو جاگ جاگ کے ہم ساری رات سے گزرے کوئی نتیجہ کہاں ...

مزید پڑھیے

فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیا

فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیا مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا چھٹ آہ پچھے کون مرے درد کا احوال مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غم خوار نہ آیا جانے ہے وفادار مجھے دل منے لیکن دہشت سے رقیباں کی وہ ناچار نہ آیا آرام گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2057 سے 6203