شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہے
شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہے ابھی تو کتنے خداؤں کی واں خدائی ہے گمان تیرگی رخشندگی پہ ہونے لگا دیار شب نے عجب داستاں سنائی ہے اب اس پہ دور نکل آئے تو خفا کیوں ہو یہ راہ بھی تو تمہی نے ہمیں دکھائی ہے کبھی جو مجھ سے ملے وہ رہے خموش مگر پس سکوت زباں خوب ہم نوائی ہے ہر ایک فکر ...