قومی زبان

جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگا

جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگا جس کا وہ بھی نہ ہو تو کیا ہوگا حاصل مرگ اور کیا ہوگا اک نئے غم کا سلسلہ ہوگا آپ منہ پھیر کے ہوئے رخصت یہ نہ سوچا کہ میرا کیا ہوگا جس نے دی ہے تمہیں دعائے عشق کوئی مجھ سا ہی دل‌ جلا ہوگا لاکھ سوچوں نہ کہہ سکوں گا کچھ جب کبھی ان کا سامنا ہوگا میں نے کیا ...

مزید پڑھیے

میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوا

میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوا یہ تو پتھر ہوا خدا نہ ہوا دیکھ لو آج آ کے بسمل کو کون جانے یہ کل ہوا نہ ہوا ترک الفت کا ایک ہی غم ہے یہ ارادہ بھی دیر پا نہ ہوا ترچھی چتون اتر گئی دل میں تیر کج تھا مگر خطا نہ ہوا جذبۂ شوق ہو گیا دشمن مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا وقف گردش ہوں صورت پرکار دور ...

مزید پڑھیے

وہ ملا کے نظر اس ادا سے چلا

وہ ملا کے نظر اس ادا سے چلا جیسے ملنے کسی اپسرا سے چلا کون کہتا ہے صاحب دوا سے چلا وہ ہماری تمہاری دعا سے چلا سر جھکانے کی اس نے ادا سیکھ لی جو ہمیشہ رضائے خدا سے چلا اس دیے کی حماقت ذرا دیکھیے آج لڑنے وہ بہتی ہوا سے چلا اس کو جنت ملے گی یہ طے ہو گیا نیک راہوں پہ جو بھی سدا سے ...

مزید پڑھیے

کیوں تیرگی سی چھائی چراغوں کے درمیاں

کیوں تیرگی سی چھائی چراغوں کے درمیاں کیا حسن چھپ گیا ہے نقابوں کے درمیاں ناسور بن گیا کئی سالوں کے درمیاں اک زخم جانے کیسا ہے چھالوں کے درمیاں وہ نیند میں بھی آنکھ سے اوجھل نہ ہو جناب اس کو بسا لیا ہے نگاہوں کے درمیاں شدت ہے پیاس میں تو سروور کے جا قریب کب تشنگی مٹی ہے سرابوں ...

مزید پڑھیے

کبھی سب چھین لیتا ہوں کبھی نعمت لٹاتا ہوں

کبھی سب چھین لیتا ہوں کبھی نعمت لٹاتا ہوں مجھے سب وقت کہتے ہیں میں انگلی پر نچاتا ہوں نہ میں کعبہ میں رہتا ہوں نہ میں کاشی میں رہتا ہوں گریباں جھانک کر دیکھو میں تیرے دل میں بستہ ہوں اکیلا چھوڑ کر مجھ کو یکایک چل دیے سارے سہارا جب خدا کا ہے کہے گا کون تنہا ہوں گرجتی ہے گھٹا تو ...

مزید پڑھیے

اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہے

اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہے نگاہ پڑھنے میں ہم ہیں ماہر اسے یہ شاید پتا نہیں ہے قدم تلے ہے زمین غائب کہیں پہ چھت کا پتا نہیں ہے یہ بھید کیوں ہے سمجھ سکے جو ابھی تلک تو ملا نہیں ہے گزر رہی زندگی یہ کیسی جو پوچھتے ہو تو کیا بتاؤں خدا سے مجھ کو گلہ نہیں ہے مگر جو ...

مزید پڑھیے

نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میں

نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میں یہ بات آج کھلنے لگی تیرے شہر میں جو آشنا تھے کل مرے سب گم کہاں ہوئے ہجرت کی چاہ پلنے لگی تیرے شہر میں مرنے کا مارنے کا یہ کیا دور آ گیا جینے کی آس ٹلنے لگی تیرے شہر میں میرا یہاں سے ٹھور ٹھکانہ اجڑ گیا آندھی عجیب چلنے لگی تیرے شہر میں ہر دل میں ...

مزید پڑھیے

زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاں

زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاں منزلوں کا راستہ دشوار ہوتا ہے یہاں جو سفر کے لطف کا اندازہ کر سکتا نہیں خوش سفر میں رہنے سے لاچار ہوتا ہے یہاں آندھیاں پر خار رستے سنگ روکیں کس طرح جن کو گلشن کی کلی سے پیار ہوتا ہے یہاں اپنی قسمت سے ہوا شہہ مات کا ہر فیصلہ ڈوبتا بیڑا کبھی ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ نہ نکلے تو سفر کون کرے گا

ہم لوگ نہ نکلے تو سفر کون کرے گا دنیا کو حقیقت کی خبر کون کرے گا پھر کوہ کنی کا ہے تقاضا کوئی آئے اک کام ہے کرنے کا مگر کون کرے گا ہم نے تو چراغوں کی طرح فرض نبھایا اب رات کی کالک کو سحر کون کرے گا الفاظ کی بوچھاڑ ہے اور گوش سماعت کیا جانیے پتھر پہ اثر کون کرے گا بے رحمیٔ حالات ...

مزید پڑھیے

وہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائے

وہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائے ملے تو حاصل عمر رواں کہا جائے انہیں سے روح کو فرحت انہیں سے دل کو قرار وہ حادثات جنہیں جاں ستاں کہا جائے اسی میں چند محبت کے دن بھی شامل ہیں تمام عمر کو کیوں رائیگاں کہا جائے مرے نصیب میں لکھے نہ جا سکے تم سے وہ چار تنکے جنہیں آشیاں کہا جائے مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2047 سے 6203