قومی زبان

عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتا

عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتا کسی کم ظرف کا احسان لے کر جی نہیں سکتا کبھی جی چاہتا ہے نام لے کر زور سے چیخوں نہ جانے نام کیوں ظالم کا پھر لے بھی نہیں سکتا مرے دل نے زمانے میں کچھ اتنے زخم کھائے ہیں مسیحا بھی دل صد چاک کو اب سی نہیں سکتا مری تشنہ لبی پر نورؔ یہ بھی طنز ...

مزید پڑھیے

یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھا

یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھا کانٹوں پہ چلے اور بیاباں نہیں دیکھا اس شمع پہ جلنے کو تڑپتے ہیں پتنگے جس شمع کو آنکھوں سے فروزاں نہیں دیکھا رقصاں ہے یہاں نور بکف جلوۂ جاناں کیا تو نے ابھی دیدۂ حیراں نہیں دیکھا ہونے کو تو تھا نورؔ کے دل میں بھی بڑا درد لیکن کبھی چہرے سے ...

مزید پڑھیے

میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گا

میں نے سوچا ہی نہیں مر کے کدھر جاؤں گا میں تو مانند صبا یاں سے گزر جاؤں گا سیر گلشن کا یہ انجام کہاں سوچا تھا لے کے اس بزم سے اک زخم جگر جاؤں گا جب سے مانوس ترے غم سے ہوا ہوں اے دوست ایسا لگتا ہے کہ ہر غم سے گزر جاؤں گا حسن کی آنچ نہ دو عشق زدہ دل کو مرے نقش پوشیدہ کی مانند ابھر ...

مزید پڑھیے

ہم سفر ہے نہ ہم نوا کوئی

ہم سفر ہے نہ ہم نوا کوئی ہوگا ہم سا شکستہ پا کوئی اک نظر کیا ملا گیا کوئی اک قیامت اٹھا گیا کوئی دیکھو نظریں چرا کے مت جاؤ تم کو کہہ دے نہ بے وفا کوئی درد دیتے ہو دو مگر ایسا جس کی پھر ہو نہ انتہا کوئی جس رہ عشق پر چلا ہوں میں ابتدا ہے نہ انتہا کوئی سر تو خود جھک گیا ہے سجدے ...

مزید پڑھیے

گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگا

گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگا سزائے گل پہ غنچوں کو ہنسی آئی تو کیا ہوگا کہیں بیداد گلچیں سے پریشاں ہو کے غنچوں نے گلستاں میں نہ کھلنے کی قسم کھائی تو کیا ہوگا یہ میرے اشک میرے رازداں ہیں مجھ سے کہتے ہیں اگر ہو بھی گئی بالفرض رسوائی تو کیا ہوگا یہ نا ممکن نہیں مل جائیں ...

مزید پڑھیے

یاد عہد گل میں باقی ہیں ابھی رعنائیاں

یاد عہد گل میں باقی ہیں ابھی رعنائیاں تیرتی ہیں غم کی گہرائی میں کچھ پرچھائیاں دیر تک تنہا کھڑا دیکھا کیا اس موڑ پر جا چکی تھیں جس طرف بجتی ہوئی شہنائیاں سختیٔ دور خزاں کو چار دن بیتے نہیں پھر وہی بلبل کے نغمے پھر چمن آرائیاں خود سے بھی خلوت میں ملنے کو ترس جاتا ہوں میں لپٹی ...

مزید پڑھیے

ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اور

ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اور پر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اور یہ دیر سے بد ظن وہ گریزاں ہے حرم سے جیسے کہ حقیقت ہو یہاں اور وہاں اور رہ جائے نہ پھر شکوۂ بیداد کا امکاں سینہ جو ہوا چاک تو کٹ جائے زیاں اور ہم کون ہیں کیا ہیں یہ نہیں جانتے خود بھی ہم سا بھی کوئی ...

مزید پڑھیے

تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہو

تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہو لگی ہو آگ سینے میں مگر اس میں دھواں کیوں ہو لٹا دی اپنے ہاتھوں جب متاع سیم و زر میں نے تو پھر اب سنگ ریزوں پر غم سود و زیاں کیوں ہو نگاہ اولیں تو انتہائی کیف پرور تھی وہی دل میں اتر کر عمر بھر کو نیش جاں کیوں ہو عطائے غم میں بھی تفریق کی ...

مزید پڑھیے

جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتا

جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتا میں سمجھتا ہوں مرے حق میں یہ اچھا ہوتا اس قدر شدت غم پر تو یہی لازم تھا دل نہ ہوتا مرا پتھر کا کلیجہ ہوتا بے خودی ہے کہ تری بزم میں لے آئی ہے ہوش ہوتا تو یہاں کس لیے رسوا ہوتا اک نظر دیکھ کے کچھ اور بڑھا دی وحشت اس سے اچھا تو یہی تھا کہ نہ دیکھا ...

مزید پڑھیے

چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیں

چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیں یہ میری رسم عبادت بھی بندگی تو نہیں بغیر وجہ یہ ساقی کی بے رخی تو نہیں میں سوچتا ہوں کہیں کچھ خطا ہوئی تو نہیں میں مطمئن ہوں مگر صرف یہ بتا دیجے یہ غم جو آپ نے بخشا ہے عارضی تو نہیں سبھی کے دل میں محبت کی آگ ہوتی ہے سبھی کو راس بھی آئے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2046 سے 6203