قومی زبان

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے لب ساحل سے جو ہلکا سا اشارا ہوتا تم ہی واقف نہ تھے آداب جفا سے ورنہ ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا غم تو خیر اپنا مقدر ہے سو اس کا کیا ذکر زہر بھی ہم کو بصد شوق گوارا ...

مزید پڑھیے

شعلۂ دل بجھا کے دیکھ لیا

شعلۂ دل بجھا کے دیکھ لیا آرزو کو مٹا کے دیکھ لیا اپنے ہاتھوں جسے سنوارا تھا وہ چمن بھی لٹا کے دیکھ لیا دل کا جو زخم تھا چراغ بنا آنسوؤں کو چھپا کے دیکھ لیا چارہ گر تیرے امتحاں کے لیے زخم پر زخم کھا کے دیکھ لیا مسکرائے تو ساتھ تھی دنیا اشک تنہا بہا کے دیکھ لیا

مزید پڑھیے

اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں

اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں یہ حوصلہ اب کہاں سے لاؤں ٹوٹے ہوئے آئنے میں خود کو میں دیکھ جو لوں تو ڈر نہ جاؤں زخموں سے بھرے چمن میں رہ کر پھولوں سے مہکتے گیت گاؤں اے کاش وفا کی روشنی سے امید کا اک دیا جلاؤں تجدید وفا کے آسرے پر زخموں کی چبھن بھی بھول جاؤں اپنا ہی لہو روش روش پر اے ...

مزید پڑھیے

کیا غضب تو نے اے بہار کیا

کیا غضب تو نے اے بہار کیا پتی پتی کو بے قرار کیا اب تو سچ بولنے کی رسم نہیں کس نے پھر اہتمام دار کیا آتش درد میں کمی نہ ہوئی لاکھ آنکھوں کو اشک بار کیا روشنی کی تلاش میں ہم نے بارہا ظلمتوں سے پیار کیا موج در موج تھے دکھوں کے بھنور ہم نے تنہا سبھی کو پار کیا جب بنایا تھا چاند ...

مزید پڑھیے

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ ہمدمو مر کے بھی جیے جاؤ امتحان وفا ہمیں منظور انتہائے ستم کیے جاؤ کھل نہ جائے فریب چارہ گری زخم ہر حال میں سیے جاؤ راکھ کا ڈھیر ہیں مہ و انجم راکھ میں جستجو کیے جاؤ رہروی کا یہی تقاضا ہے راہزن کو دعا دیے جاؤ

مزید پڑھیے

ان کو میرے ضبط غم سے بھی گلہ رہ جائے گا

ان کو میرے ضبط غم سے بھی گلہ رہ جائے گا مشکلیں جب ختم ہوں گی حوصلہ رہ جائے گا رفتہ رفتہ دل بھی ٹھہرا آنکھ سے آنسو رکے ہم یہ سمجھے تھے کہ یہ غم جان لے کر جائے گا ایک اک کر کے زمیں سے سب گلے مل جائیں گے جانے پہچانوں سے رشتہ یاد کا رہ جائے گا منزلوں کی خواہشیں جب توڑ دیں گی دل میں ...

مزید پڑھیے

دوستی نہ کی ہوگی کھیل ہی کیا ہوگا

دوستی نہ کی ہوگی کھیل ہی کیا ہوگا آپ نے ہمیں سوچا غیر خوش ہوا ہوگا میری روح میں کتنے زخم کھل گئے دیکھو کوئی دل کے آنگن میں درد بو گیا ہوگا جو بھی اس سے ملتا ہے خواب بننے لگتا ہے کون جانے کس کس سے اس نے کیا کہا ہوگا راستے میں پل بھر ہی وہ ہمیں ملے بس پھر شہر میں کہانی کا سلسلہ چلا ...

مزید پڑھیے

ناموس وفا کا پاس رہا شکوہ بھی زباں تک لا نہ سکے

ناموس وفا کا پاس رہا شکوہ بھی زباں تک لا نہ سکے اندر سے تو روئے ٹوٹ کے ہم پر ایک بھی اشک بہا نہ سکے ساحل تو نظر آیا لیکن طوفاں میں بلا کی شدت تھی موجوں کو منایا لاکھ مگر ہم جانب ساحل آ نہ سکے ہم کہتے کہتے ہار گئے اور دنیا نے کچھ بھی نہ سنا جب دنیا نے اصرار کیا ہم اپنا درد سنا نہ ...

مزید پڑھیے

تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں

تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں ہم غموں کے چراغ لائے ہیں تم سے اب ہم گلہ کریں بھی تو کیا ہم نے خود ہی فریب کھائے ہیں صف بہ صف روشنی کے پردے میں ظلمتوں کے مہیب سائے ہیں تم نے محلوں کی روشنی کے لیے کتنے معصوم دل جلائے ہیں قتل جب بھی ہوئے خیال مرے کیسے کیسے خیال آئے ہیں

مزید پڑھیے

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں یہ مگر ترک محبت تو نہیں میری آنکھوں میں اترنے والے ڈوب جانا تری عادت تو نہیں تجھ سے بیگانے کا غم ہے ورنہ مجھ کو خود اپنی ضرورت تو نہیں کھل کے رو لوں تو ذرا جی سنبھلے مسکرانا ہی مسرت تو نہیں تجھ سے فرہاد کا تیشہ نہ اٹھا اس جنوں پر مجھے حیرت تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2022 سے 6203