قومی زبان

تمہارا غم نہ ہو تو زندگی اچھی نہیں لگتی

تمہارا غم نہ ہو تو زندگی اچھی نہیں لگتی خموشی سے بہے جو وہ ندی اچھی نہیں لگتی پڑے ہو عشق میں تو عشق کی تہذیب بھی سیکھو کسی عاشق کے چہرے پر ہنسی اچھی نہیں لگتی یہ من کرتا ہے بادل آ کے ڈھک لیں چاند کو پورا ہوں جب وہ پاس تو پھر چاندنی اچھی نہیں لگتی کہا اس نے ہمیں کب وصل سے انکار ہے ...

مزید پڑھیے

تیرا قول و قرار باقی ہے

تیرا قول و قرار باقی ہے اور مرا انتظار باقی ہے اب بھی چاہو تو تم پلٹ آؤ اب بھی تھوڑی بہار باقی ہے چاند کھڑکی پہ جب آ کے پوچھ رہا اور کتنا سنگار باقی ہے ایسا ویرانا کیسے چھوڑیں ہم اب بھی اجڑا دیار باقی ہے دل دیا جاں بھی دی مگر پھر بھی اور تھوڑا ادھار باقی ہے نبض مدھم ہے سانس ہے ...

مزید پڑھیے

شیشے کی دیوار تھی حائل قرب کی ایسی صورت تھی

شیشے کی دیوار تھی حائل قرب کی ایسی صورت تھی کچھ اپنی بھی مجبوری تھی کچھ اس کی بھی ضرورت تھی ساتھی اور کسی کا میرا ہم ذوق و ہم رنگ سخن اس کی تنہائی کو شاید کچھ میری بھی ضرورت تھی پہلی نظر نے کتنی حیرت سے اس شکل کو دیکھا تھا میری سوچ کی تصویروں سے ملتی جلتی مورت تھی زرد ہوا کا ...

مزید پڑھیے

صدیوں سے مسافر ہوں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں

صدیوں سے مسافر ہوں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں میں آج بھی حیرت کے دوراہے پہ کھڑا ہوں بے چہرہ اندھیروں کو منور بھی کیا ہے اور اپنے ہی سائے سے کبھی خود بھی ڈرا ہوں اک عمر جو ظلمات کا زہراب پیا ہے تب جا کے کہیں نور کے سانچے میں ڈھلا ہوں تکمیل ہوئی میری خود اپنی ہی فنا سے پھوٹی جو کرن صبح کی ...

مزید پڑھیے

گلے سے شب کو لگایا سحر کے دھوکے میں

گلے سے شب کو لگایا سحر کے دھوکے میں ہم آ گئے ہیں خود اپنی نظر کے دھوکے میں ادھر ہے آگ کا دریا ادھر لہو کی ندی کہاں پہنچ گئے ہم راہبر کے دھوکے میں کبھی چلے تھے جہاں سے اسی مقام پہ ہیں تھے دائروں میں رواں ہم سفر کے دھوکے میں فریب حسن نظر ہے کہ سادگی دل کی ہمیشہ سنگ چنے ہیں گہر کے ...

مزید پڑھیے

میں اندھیروں کے نگر سے بھی گزر آیا تو کیا

میں اندھیروں کے نگر سے بھی گزر آیا تو کیا بجھ گئیں آنکھیں مری وہ اب نظر آیا تو کیا کھو گئے دن کے اجالوں میں مرے خوابوں کے چاند عرش سے اب چاند بھی کوئی اتر آیا تو کیا میں تو اک گہرے سمندر میں اتر جانے کو ہوں تو خراج اشک لے کر اب اگر آیا تو کیا گھر سے آنے والے تیروں کا نشانہ بن ...

مزید پڑھیے

سسک رہی ہے اندھیروں میں شام تنہائی

سسک رہی ہے اندھیروں میں شام تنہائی کوئی چراغ جلاؤ بنام تنہائی سدا رہے یوں ہی آباد شہر شیشہ گراں کہ میرے نام کیا وقف جام تنہائی روش روش جو ہیں ٹوٹے ہوئے کچھ آئینے قدم قدم ہے نشان خرام تنہائی یہ کس خیال سے روشن ہے روئے شام فراق یہ کیسی لو سے دمکتا ہے بام تنہائی سجائی ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

نکہتوں میں نغمگی ہے رنگ میں جھنکار ہے

نکہتوں میں نغمگی ہے رنگ میں جھنکار ہے اے مرے احساس تو کتنا بڑا فن کار ہے آپ آ جاتا ہوں میں اپنے مقابل اور پھر سوچتا ہوں سامنے یہ کون سی دیوار ہے سامنے آئے تو سینے سے لگا لوں میں اسے میرے اندر مجھ سے ہی جو برسر پیکار ہے جانے کیسا حادثہ گزرا ہے اس بستی پہ آج سونی سونی ہر گلی سنسان ...

مزید پڑھیے

پتھروں نے یہ تماشا تو کبھی دیکھا نہ تھا

پتھروں نے یہ تماشا تو کبھی دیکھا نہ تھا اتنی خاموشی سے کوئی آئنہ ٹوٹا نہ تھا درد کے ساگر میں لہریں اس طرح مچلی نہ تھیں غم کی پیشانی پہ کوئی چاند یوں چمکا نہ تھا سونی گلیوں میں بھٹکتی پھر رہی تھی چاندنی شہر شب کے راستوں پر ایک میں تنہا نہ تھا جس نے روشن کر دئے بجھتی امیدوں کے ...

مزید پڑھیے

مرے لیے تو یہ سانحہ بھی نیا نہیں تھا

مرے لیے تو یہ سانحہ بھی نیا نہیں تھا مسافت جاں کا ہم سفر بھی مرا نہیں تھا لبوں پہ پہنچے تو نیم جاں تھے حروف سارے سماعتوں کا کوئی دریچہ کھلا نہیں تھا نہ مل سکی اس کو روشنی کی کوئی بشارت کہ تیرگی کا عذاب اس نے سہا نہیں تھا نگاہ گلشن میں جو کھٹکتا تھا خار بن کے گلے لگا کر اسے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2010 سے 6203