قومی زبان

جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے

جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے ہمیں شہریار حیات تھے ہمیں زندگی کو ترس گئے یہ عجیب صبح بہار ہے کوئی زندگی کی کرن نہیں ہمیں خالق مہ و مہر ہیں ہمیں روشنی کو ترس گئے یہ چمن ہے کیسا چمن جہاں تہی دامنی ہی نصیب ہے یہ بہار کیسی بہار ہے کہ کلی کلی کو ترس گئے نہ کرم نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ہوں گے

جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ہوں گے ہاں وہی لوگ تمہیں چاہنے والے ہوں گے مے برستی ہے فضاؤں پہ نشہ طاری ہے میرے ساقی نے کہیں جام اچھالے ہوں گے شمع وہ لائے ہیں ہم جلوہ گاہ جاناں سے اب دو عالم میں اجالے ہی اجالے ہوں گے ان سے مفہوم غم زیست ادا ہو شاید اشک جو دامن مژگاں نے ...

مزید پڑھیے

عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا

عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا آشنا سے ہو کے بیگانہ چلا قلقل مینا سے آتی ہے صدا بھر چکا جس وقت پیمانہ چلا بے زبانوں کو بھی آئی ہے زباں بیڑی غل کرتی ہے دیوانہ چلا عشق بازی بازئ شطرنج ہے چال ناداں رہ گیا دانہ چلا شب جو آیا بزم میں وہ شعلہ رو شمع گل کرنے کو پروانہ چلا بوئے گل غنچہ سے ...

مزید پڑھیے

ساقی قدح شراب دے دے

ساقی قدح شراب دے دے مہتاب میں آفتاب دے دے ساقی باقی جو کچھ ہے لے لے باقی ساقی شراب دے دے لیلیٰ میں نے تجھے بنایا مجنوں مجھ کو خطاب دے دے پیاسا جاتا ہے نشتر یار او رگ کچھ خون ناب دے دے اس بت سے نسیم زر نہ تو مانگ جو چاہے وہ بے حساب دے دے

مزید پڑھیے

حرف روشن تھے نمایاں درد کی تحریر تھی

حرف روشن تھے نمایاں درد کی تحریر تھی اس کا چہرہ تھا کہ میرے کرب کی تفسیر تھی کچھ مری آنکھوں میں بھی تھا ڈوبتے رنگوں کا عکس اس گھڑی وہ موہنی صورت بھی کچھ دلگیر تھی ان گنت حصوں میں یوں تقسیم ہو کر رہ گئی زندگی جیسے مرے اجداد کی جاگیر تھی ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی جو بھرے بازار میں وہ ...

مزید پڑھیے

سینکڑوں سائے مگر اک آشنا چہرہ نہ تھا

سینکڑوں سائے مگر اک آشنا چہرہ نہ تھا جگمگاتے شہر میں مجھ سا کوئی تنہا نہ تھا جس نے جھانکا رات مجھ کو آئنے کی اوٹ سے جانا پہچانا لگا پہلے کبھی دیکھا نہ تھا مجھ سے پہلے بھی بہت سے اہل دل رسوا ہوئے شہر میں لیکن کبھی اتنا ترا شہرا نہ تھا ہر کلی کی آنکھ میں بھیگے دھندلکے چھا گئے وقت ...

مزید پڑھیے

ذوق پرواز کی اتنی تو پذیرائی کر

ذوق پرواز کی اتنی تو پذیرائی کر پر شکستہ ہوں جو میں حوصلہ افزائی کر دل خوش فہم کو دے پھر کوئی خوش رنگ فریب پھر کسی رسم سے تجدید شناسائی کر کوئی خورشید بھی منظر کا مقدر کر دے صرف روشن نہ یہ بجھتی ہوئی بینائی کر کون سمجھے گا ترے کرب کا مفہوم یہاں گھر کی دیواروں کو اب محرم تنہائی ...

مزید پڑھیے

آج کل

ہر سر میں امتحان کا سودا ہے آج کل ہر دل میں فیل ہونے کا دھڑکا ہے آج کل پرچوں کے آؤٹ ہونے کا چرچا ہے آج کل کوئی نہیں کسی کی بھی سنتا ہے آج کل منی کی آنکھ نم ہے تو منا کے دل میں غم بے چینیوں میں کوئی کسی سے نہیں ہے کم دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے کوئی کتاب کوئی یہ سوچتا ہے کہ اب آئے گا ...

مزید پڑھیے

ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو

ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو ابھی تو بس دعائیں لو ابھی تم عشق میں ہو بھلے اپنے ہی گھر جانا ہے پر بھولو گے رستہ کسی کو ساتھ میں رکھو ابھی تم عشق میں ہو نہیں مانے گا کوئی بھی برا بالکل ذرا بھی ابھی تم چاہے جو کہہ دو ابھی تم عشق ہو کوئی سمجھا بجھا کے راہ پر پھر لے نہ ...

مزید پڑھیے

سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے

سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہے اگر یہ صبح ہے تو رات کیا ہے حسیں ہو چاند کتنا بھی پر اس کی تمہارے سامنے اوقات کیا ہے کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول لے کر نہیں معلوم کہ خیرات کیا ہے جھٹکئے تو ذرا زلفیں یہ بھیگی یہ دل پوچھے ہے کہ برسات کیا ہے ہے جیتا دل کو بازی ہار کر بھی محبت ہے تو شہہ اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2009 سے 6203