قومی زبان

دوست ہے وہ پیٹھ پر آئے گا نیزہ تان کر

دوست ہے وہ پیٹھ پر آئے گا نیزہ تان کر بھائی ہے تو جا مری رسوائی کا سامان کر ورنہ سیدھے سے ادا کر دے شرافت کا خراج اور آزادی کی خواہش ہے تو بڑھ اعلان کر تجھ کو حق تلفی کا یہ احساس کیوں ہونے لگا سارے اندھے بانٹتے ہیں ریوڑی پہچان کر آ گلے مل درد کا رشتہ ہے اپنے درمیاں اتنے زوروں سے ...

مزید پڑھیے

جو میرے گناہوں پہ نظر رکھتے ہیں

جو میرے گناہوں پہ نظر رکھتے ہیں البم میں وہی تتلی کے پر رکھتے ہیں ظلمت کی سماعت میں کھل پڑتا ہے مظلوم کے الفاظ اثر رکھتے ہیں کس وقت کہاں کون جلاتا ہے چراغ اتنی تو پتنگے بھی خبر رکھتے ہیں ہیں آبلے کانٹوں کے لیے پیروی میں تاروں کے لیے دیدۂ تر رکھتے ہیں باتیں وہ بھلا کیسے کریں ...

مزید پڑھیے

رات کے اندھے دریچوں کو منور دیکھتے

رات کے اندھے دریچوں کو منور دیکھتے ہم کھلی آنکھوں سے جو خوابوں کے منظر دیکھتے بند رکھے خود ہمیں نے جب سبھی دیوار و در کس طرح پھر جھانک کر اس گھر کے اندر دیکھتے کب ہمارے ہاتھ آئیں خواہشوں کی تتلیاں عمر گزری بس یونہی رنگوں کے پیکر دیکھتے موجۂ طوفاں میں اترے اہل دل بے ...

مزید پڑھیے

اک خانۂ ماتم ہی یہ عالم تو نہیں ہے

اک خانۂ ماتم ہی یہ عالم تو نہیں ہے تقدیر بشر نوحۂ پیہم تو نہیں ہے نغمات مسرت بھی ہیں لمحات طرب بھی یہ شام الم ورثۂ آدم تو نہیں ہے خوشبو کا تبسم بھی ہے رنگوں کی ہنسی بھی گلشن میں فقط گریۂ شبنم تو نہیں ہے کچھ اور بھی جذبے ہیں جو دل دار ہیں دل کے اک غم ہی دل زار کا مرہم تو نہیں ...

مزید پڑھیے

شب کی آنکھوں سے جو گرا ہوگا

شب کی آنکھوں سے جو گرا ہوگا چاند بن کر چمک رہا ہوگا رت جگے دے کے عمر بھر کے ہمیں وہ حسیں خواب دیکھتا ہوگا شہر شب میں پکار کر دیکھوں کوئی انساں تو جاگتا ہوگا ایک جھنکار سی سنائی دی اک تصور بکھر گیا ہوگا سوچتا ہوں مرے لئے شاید وہ بھی راتوں میں جاگتا ہوگا وہ بھی تنہا اداس لمحوں ...

مزید پڑھیے

کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم

کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم نہ پوچھ بلبل نالاں ہمیں نہیں معلوم فراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عمر ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے ہوا ہے کون ہدیٰ خواں ہمیں نہیں معلوم تلاش خضر طریقت ہے اس لئے سالک کہاں ہے چشمۂ حیواں ہمیں نہیں ...

مزید پڑھیے

تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص

تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص کوئے جاناں میں ہمارا ہے قیام مخصوص مجتمع آج ہیں یاران سر پل سارے خلوت خاص میں ہے مجمع عام مخصوص جلسۂ عام میں دقت نہیں ہوتی ان کو جو سمجھتے ہیں اشاروں میں کلام مخصوص دل غم دیدہ ہوا ہمدم صد گونہ نشاط آج آیا ہے جو دل بر کا پیام مخصوص وہ مرا صبح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2011 سے 6203