تو نے صورت جو اپنی دکھلائی
تو نے صورت جو اپنی دکھلائی مٹ گئی ساری یہ من و مائی اس سے ثابت ہے تو ہے ہرجائی خود تماشا و خود تماشائی
تو نے صورت جو اپنی دکھلائی مٹ گئی ساری یہ من و مائی اس سے ثابت ہے تو ہے ہرجائی خود تماشا و خود تماشائی
آپ ہیں محو حسن و رعنائی ہم کو اپنا کیا ہے سودائی دیکھ راز و نیاز کو ساقی خود تماشا و خود تماشائی
جس سے تیری ہوئی ہے یکتائی اس نے وحدت سے آگہی پائی آپ وحدت ہے آپ کثرت ہے خود تماشا و خود تماشائی
دوست ہے وہ پیٹھ پر آئے گا نیزہ تان کر بھائی ہے تو جا مری رسوائی کا سامان کر ورنہ سیدھے سے ادا کر دے شرافت کا خراج اور آزادی کی خواہش ہے تو بڑھ اعلان کر تجھ کو حق تلفی کا یہ احساس کیوں ہونے لگا سارے اندھے بانٹتے ہیں ریوڑی پہچان کر آ گلے مل درد کا رشتہ ہے اپنے درمیاں اتنے زوروں سے ...
جو میرے گناہوں پہ نظر رکھتے ہیں البم میں وہی تتلی کے پر رکھتے ہیں ظلمت کی سماعت میں کھل پڑتا ہے مظلوم کے الفاظ اثر رکھتے ہیں کس وقت کہاں کون جلاتا ہے چراغ اتنی تو پتنگے بھی خبر رکھتے ہیں ہیں آبلے کانٹوں کے لیے پیروی میں تاروں کے لیے دیدۂ تر رکھتے ہیں باتیں وہ بھلا کیسے کریں ...
رات کے اندھے دریچوں کو منور دیکھتے ہم کھلی آنکھوں سے جو خوابوں کے منظر دیکھتے بند رکھے خود ہمیں نے جب سبھی دیوار و در کس طرح پھر جھانک کر اس گھر کے اندر دیکھتے کب ہمارے ہاتھ آئیں خواہشوں کی تتلیاں عمر گزری بس یونہی رنگوں کے پیکر دیکھتے موجۂ طوفاں میں اترے اہل دل بے ...
اک خانۂ ماتم ہی یہ عالم تو نہیں ہے تقدیر بشر نوحۂ پیہم تو نہیں ہے نغمات مسرت بھی ہیں لمحات طرب بھی یہ شام الم ورثۂ آدم تو نہیں ہے خوشبو کا تبسم بھی ہے رنگوں کی ہنسی بھی گلشن میں فقط گریۂ شبنم تو نہیں ہے کچھ اور بھی جذبے ہیں جو دل دار ہیں دل کے اک غم ہی دل زار کا مرہم تو نہیں ...
شب کی آنکھوں سے جو گرا ہوگا چاند بن کر چمک رہا ہوگا رت جگے دے کے عمر بھر کے ہمیں وہ حسیں خواب دیکھتا ہوگا شہر شب میں پکار کر دیکھوں کوئی انساں تو جاگتا ہوگا ایک جھنکار سی سنائی دی اک تصور بکھر گیا ہوگا سوچتا ہوں مرے لئے شاید وہ بھی راتوں میں جاگتا ہوگا وہ بھی تنہا اداس لمحوں ...
کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم نہ پوچھ بلبل نالاں ہمیں نہیں معلوم فراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عمر ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے ہوا ہے کون ہدیٰ خواں ہمیں نہیں معلوم تلاش خضر طریقت ہے اس لئے سالک کہاں ہے چشمۂ حیواں ہمیں نہیں ...
تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص کوئے جاناں میں ہمارا ہے قیام مخصوص مجتمع آج ہیں یاران سر پل سارے خلوت خاص میں ہے مجمع عام مخصوص جلسۂ عام میں دقت نہیں ہوتی ان کو جو سمجھتے ہیں اشاروں میں کلام مخصوص دل غم دیدہ ہوا ہمدم صد گونہ نشاط آج آیا ہے جو دل بر کا پیام مخصوص وہ مرا صبح ...