لا تعین
عجب پیڑ تھے وہ کہ چھتنار چھایا بھی جھلسا رہی تھی وہ کیا سرزمیں تھی جو پیڑوں کے نیچے سے کھسکے چلے جا رہی تھی بہت بے تعین سی سمتیں بجھی تھیں نگاہوں کے آگے خلاؤں سی ویراں وہ کوئی فضا تھی کسی حد امکاں کا آغاز تھا یا کسی بے زمانی کی وہ انتہا تھی
عجب پیڑ تھے وہ کہ چھتنار چھایا بھی جھلسا رہی تھی وہ کیا سرزمیں تھی جو پیڑوں کے نیچے سے کھسکے چلے جا رہی تھی بہت بے تعین سی سمتیں بجھی تھیں نگاہوں کے آگے خلاؤں سی ویراں وہ کوئی فضا تھی کسی حد امکاں کا آغاز تھا یا کسی بے زمانی کی وہ انتہا تھی
یک بیک جو کسی کا خیال آ گیا روح بے خود ہوئی دل کو حال آ گیا دہر سے رسم مہر و وفا اٹھ گئی آدمیت میں کیسا زوال آ گیا کوئی دیکھے ترے حسن کی ساحری جس نے دیکھا تجھے اس کو حال آ گیا پڑ گئی جب کسی کی نگاہ کرم میرے بھوؤں میں رنگ کمال آ گیا پوچھتے کیا ہو پرویزؔ کی داستاں ان کی محفل سے ہو ...
صحرائے زندگی کے لئے نور دیدہ ہوں کانٹا سہی مگر میں گل نو دمیدہ ہوں مجھ پر کھلا ہے عہد بہار و خزاں کا راز میں اک حسین پھول کا رنگ پریدہ ہوں تجھ کو بھی زندگی نے دیا درد بے کراں میں بھی غم حیات کا لذت چشیدہ ہوں تجھ سے مرا تعلق خاطر ہے دائمی تو ہے اگر غزل تو میں تیرا قصیدہ ہوں دنیا ...
ساز آلام پہ دل نغمہ سرا ہوتا ہے اے محبت یہ ترے دور میں کیا ہوتا ہے پھیل جاتی ہے فضاؤں میں اداسی کی گھٹا عشق جب حسن سے رو رو کے جدا ہوتا ہے حوصلہ دید کا ہرگز نہ کریں اہل نظر جلوۂ حسن بہت ہوش ربا ہوتا ہے وہ ہوس ہے جو گلہ کرتی ہے رنج و غم کا عشق ہر حال میں راضی بہ رضا ہوتا ہے ان کے ...
گلشن سے آئے ہیں نہ بیاباں سے آئے ہیں دیوانے تیرے سرحد امکاں سے آئے ہیں اک ماہ وش کے حسن فروزاں کے فیض سے دل میں تجلیات کے طوفاں سے آئے ہیں آنکھوں میں ہے بہار دو عالم بسی ہوئی ہم لوگ آج محفل جاناں سے آئے ہیں کیا تیرے بس میں ان کا مداوا بھی ہے کوئی دل میں جو زخم لطف فراواں سے آئے ...
خوب تھیں میکدے کی فضائیں رہ گئیں چھٹ کے غم کی گھٹائیں موت امداد کو آ چکی ہے ان سے کہہ دو کہ وہ اب نہ آئیں شعلۂ حسن سے کیا بچے گا دامن دل کو ہم کیا بچائیں حشر ڈھاتی ہے جنبش نظر کی فتنہ گر ہیں کسی کی ادائیں سوچتے ہیں کہ اس بے وفا کو یاد رکھیں کہ ہم بھول جائیں حادثات جہاں توبہ ...
رہ طلب میں ہمیں غم پہ غم نظر آئے بقدر ذوق مگر پھر بھی کم نظر آئے وہیں وہیں مرا ذوق سجود مچلا ہے جہاں جہاں ترے نقش قدم نظر آئے مرے شعور کی آنکھوں میں آ گئے آنسو مجھے اسیر الم جب صنم نظر آئے تری تلاش میں یہ بھی مقام آیا ہے جدھر نگاہ اٹھی صرف ہم نظر آئے وہ جلوہ بار ہیں دل کے نگار ...
نہ اہل دل سے نہ اہل نظر سے ملتا ہے شعور ذات فقط اپنے در سے ملتا ہے تمہارے فیض سے کھلتے ہیں زندگی میں گلاب جنوں کو رنگ تمہاری نظر سے ملتا ہے بکھر رہی ہیں ضیائیں نکھر رہی ہے فضا تمہارا حسن جمال سحر سے ملتا ہے فروغ شوق ہے یا ارتقائے جذب دروں پتا اب اپنا تمہاری خبر سے ملتا ہے وہی ...
کسی نے رکھا ہے بازار میں سجا کے مجھے کوئی خرید لے قیمت مری چکا کے مجھے اسی کی یاد کے برتن بنائے جاتا ہوں وہی جو چھوڑ گیا چاک پر گھما کے مجھے ہے میرے لفظوں کو مجھ سے مناسبت کتنی میں کیسا نغمہ ہوں پہچان گنگنا کے مجھے میں ایسی شاخ ہوں جس پر نہ پھول پتے ہیں تو دیکھ لیتا کبھی کاش ...
تقسیم تذکرے کو میں کیسے رقم کروں تنہائیوں میں بیٹھوں کہ آنکھوں کو نم کروں حرص و ہوس کے ساتھ بھی فانی ہے زندگی کیا اس کے واسطے کوئی ساماں بہم کروں بڑھنے لگا ہے سلسلۂ اعتماد پھر اس سلسلے کو اور بڑھاؤں کہ کم کروں تو پھر سے آ گیا ہے مری زندگی میں دوست اس بات کا میں لطف اٹھاؤں کہ ...