قومی زبان

التباس

ہمیں کس نے دھکیلا اس طرف ان نور برساتی ہوئی نیلی فضاؤں سے عنابی سرخ پھولوں سے اٹی مخمل ردائی سر زمینوں سے کنار آب جو سے وہ جہاں سیال چاندی بہہ رہی تھی ہمیں کس نے جگایا گنگناتے خواب سے جس میں کسی لحن مسلسل کی حسیں تکرار سے میٹھے مدھر نغمے ابھرتے تھے وہ جادو سی جکڑ قدموں میں ...

مزید پڑھیے

سن کر میں جرم چپ تھا گناہ گار کی طرح

سن کر میں جرم چپ تھا گناہ گار کی طرح لکنت زباں میں آ گئی مے خوار کی طرح وہ کیسی صبح تھی کہ طلوع سحر کے بعد سورج کا چہرا لگتا تھا بیمار کی طرح ہاں اس کی داستان بہت دل خراش تھی خاموش تھا جو سایۂ دیوار کی طرح رکنے کا نام بھی نہیں لیتے تھے وہ کبھی اہل جنوں تھے وقت کی رفتار کی ...

مزید پڑھیے

یہ قدرت کے ہاتھوں کے دل کش صنم

یہ قدرت کے ہاتھوں کے دل کش صنم کہیں دیکھ کر بت نہ بن جائیں ہم مرا دل بڑی قیمتی چیز ہے مقیم اس میں ہے ایک عالم کا غم محبت سے خالی نہیں کوئی دل محبت ہر اک دل میں ہے بیش و کم ستم کو کرم کہہ رہا ہے جہاں ذرا دیکھیے تو جہاں کا ستم اگر دل میں رنگینیاں ہی نہ ہوں تو سیر جناں بھی ہے سیر ...

مزید پڑھیے

اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیں

اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیں تیرے نظر نواز اشارے ہمیں تو ہیں امواج حسن و عشق کا عرفاں ہمیں سے ہے دریائے زندگی کے کنارے ہمیں تو ہیں طوفان حادثات کے خالق تمہیں تو ہو طوفان جن کو پار اتارے ہمیں تو ہیں ہم سے سوا حیات کو سمجھے گا اور کون ان کی نوازشات کے مارے ہمیں تو ہیں یہ اور ...

مزید پڑھیے

میں اس دن کی روشن اور

میں اس دن کی روشن اور سفاک سحر کے ساحل پر آنکھیں ملتے دھوپ سے لڑتے بھاگ رہی ہوں جس نے مجھ پر کھلنے والے سب دروازے بھیڑ دئے ہیں چاند تراشے سب دروازے دروازوں کے پیچھے وہ جھلمل جھلمل تاروں میں ملفوف مناظر سپنا تھے منظر منظر کھلنے میں بھی کیسی نٹ کھٹ بھول بھلیاں کتنے سندر بل چھل ...

مزید پڑھیے

صدر دروازے پہ منتظر

جانے کس کی لو کا پرتو پل پل جلتی بجھتی آنکھیں جانے کس کی مدھ بھری مسکان کا حیلہ ڈاواں ڈول لرزتی بستی اک بے انت سا عالم ہے اک پیہم سی گردش ہے اک اندھا سا ہالہ ہے اور ہالے میں گم سم روحیں آگاہی کا بھاری پتھر سر پر اٹھائے عدم آگاہی کے محلوں کے در کھلنے کی آشا باندھے صدیوں سے لائن میں ...

مزید پڑھیے

کہاں

کہاں جا رہے ہو سیہ روشنی کی چکا چوند دھارا کے دوجے کنارے پہ اندھا کنواں اک قدم فاصلہ کہاں جی رہے ہو کھلی آنکھ کے دل نشیں خواب کی ایک تصویر میں جس کی تعبیر ازلوں سے معدوم ہے کہاں ہنس رہے ہو پس قہقہہ آڈیبل رینج سے بھی بہت دور نیچے کراہوں کی لہریں فنا ہو رہی ہیں کہاں دیکھتے ہو ستاروں ...

مزید پڑھیے

دھوپ کی ٹھوکر

نیند میں چلتے چلتے یک دم گر جاتے ہیں اودے پھول شٹالے کے بیر بہوٹی ساون کی دور افق پر ارض و سما کو جوڑنے والی مدھم لائن اور اسے چھونے کی دھن میں ننھے نرم گلابی پاؤں سانول شام پڑے کا منظر پھیلا چاند سمندر سارا بچپن گر جاتا ہے دھوپ کی ٹھوکر رہ جاتی ہے

مزید پڑھیے

آخری سمت میں بچھی بساط

ہمیں ہر کھیل میں ہر بات پر اے مات کے خواہاں کبھی کھینچیں گے ہم باگیں جنونی سر پھری اندھی ہواؤں کی اڑائیں گے فلک پر چاند تاروں سے بنے رتھ کو پھر آئیں گے تجھے ہم راہ کرنے سرمئی دھندلے جزیروں سے سنہری آس رنگی سر زمیں تک نئے مہروں سے پھر اپنا پرانا کھیل کھلیں گے تری ہر مات کی ہر چال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1983 سے 6203