قومی زبان

کیا نظر آئے گا ناظر میرے

کیا نظر آئے گا ناظر میرے زخم غائب ہیں بظاہر میرے پھر مجھے دوست ملے پتھر کے آئنے ٹوٹ گئے پھر میرے ان میں کس کو نظر انداز کروں سامنے ہیں جو مناظر میرے دشمنوں سے مجھے پہچان ملی کام آئے وہی آخر میرے عشق کی راہ میں خطرے ہیں بہت سوچ لینا یہ مسافر میرے درد سینہ میں جو پوشیدہ تھے اشک ...

مزید پڑھیے

حسن پابند جفا ہو جیسے

حسن پابند جفا ہو جیسے یہ کوئی خاص ادا ہو جیسے یوں تری یاد ہے مرے دل میں کسی مرگھٹ میں دیا ہو جیسے ہو گیا سوکھ کے کانٹا ہر پھول یہ مہکنے کی سزا ہو جیسے میری فرقت کا غم آگیں عالم چھپ کے تو دیکھ رہا ہو جیسے کشتیاں غرق ہوئی جاتی ہیں ناخدا ہو نہ خدا ہو جیسے اللہ اللہ ترا انداز ...

مزید پڑھیے

محو ہے حسن کی اداؤں میں

محو ہے حسن کی اداؤں میں عشق رہتا ہے کن ہواؤں میں مے کشی کیا خطا خطاؤں میں جا پڑی بات پارساؤں میں بار احساں بڑھا دیا مجھ پر اور کیا ہے تری عطاؤں میں اور کیا ہے تری عطاؤں میں نفرتوں کا غبار دیکھو گے حسن اخلاص کی رداؤں میں گم نہ ہو جائیں ولولے دل کے زیست کے پر خطر خلاؤں میں رقص ...

مزید پڑھیے

پیار کے بندھن کاٹ رہے ہیں پریم کا رشتہ توڑ رہے ہیں

پیار کے بندھن کاٹ رہے ہیں پریم کا رشتہ توڑ رہے ہیں شہر محبت کے باشندے شہر محبت چھوڑ رہے ہیں ارمانوں کے رہواروں کو جانب دنیا موڑ رہے ہیں الفت کا دم بھرنے والے الفت کا دل توڑ رہے ہیں اتنا ہم کو علم نہیں تھا ہجر کے صدمے سہنے ہوں گے یہ قطعاً احساس نہیں تھا کس سے ناطہ جوڑ رہے ہیں اس ...

مزید پڑھیے

دل میں اک درد نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل میں اک درد نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے سیل جذبات رواں ہو تو غزل ہوتی ہے غم کا احساس جواں ہو تو غزل ہوتی ہے عشق مائل بہ فغاں ہو تو غزل ہوتی ہے ان پہ جب اپنا گماں ہو تو نکھرتا ہے شعور خود پہ جب ان کا گماں ہو تو غزل ہوتی ہے میرے دل میں جو نہاں ہے وہ غم بے پایاں تیری آنکھوں سے عیاں ہو تو ...

مزید پڑھیے

شام فرقت ملا یہ سہارا مجھے

شام فرقت ملا یہ سہارا مجھے بارہا بے کسی نے پکارا مجھے آ گیا ہاتھ میں جام کیف آفریں مل گیا ہجر غم کا کنارا مجھے کر گیا بے نیاز غم این و آں ان کی دل کش نظر کا اشارا مجھے انقلاب محبت یہ کیا ہو گیا ان کا غم بھی نہیں اب گوارا مجھے تیرے جلوؤں کو تھی جب مری جستجو یاد ہے آج تک وہ نظارا ...

مزید پڑھیے

کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں

کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں ہر جیت اس کو حاصل ہر مات میرے حق میں تقسیم ہو گیا ہے دونوں میں ایک رہبر اک ہاتھ اس کے حصہ اک ہات میرے حق میں مدت سے نم ہے دامن آخر دکھائیں کس کو اک روز ہو گئی تھی برسات میرے حق میں ہیں رونقیں کہیں تو بیداریاں کہیں ہیں جو رات اس کے حق میں وہ رات ...

مزید پڑھیے

حیرت ہے جنہیں میری ترقی پہ جلن بھی

حیرت ہے جنہیں میری ترقی پہ جلن بھی ہیں ان میں نئے دوست بھی یاران کہن بھی ہوتی تھی کبھی محفل احباب میں رونق طاری ہے وہاں اب تو اداسی بھی گھٹن بھی ساتھ اس کا نبھاتا ہوں تو یہ میرا ہنر ہے وہ شخص بیک وقت ہے پانی بھی اگن بھی ہنستے ہوئے چہرہ پہ بھی آتی ہے اداسی ہے چاند کی تقدیر میں ...

مزید پڑھیے

کہیں تو انتہا بھی ہو کسی کے انتظار کی

کہیں تو انتہا بھی ہو کسی کے انتظار کی جئیں گے اور کب تلک یہ زندگی ادھار کی ملے گی فتح یا شکست وقت ہی بتائے گا میں لڑ رہا ہوں زندگی سے جنگ آر پار کی بھٹک رہے تھے مدتوں سے ہم بھی جسم و جاں لیے اسے بھی ایک عمر سے تلاش تھی شکار کی سمجھ سکے نہ ہم کبھی کسی کی بے یقینیاں بھری ہوئی تھی ...

مزید پڑھیے

ایک لہراتی ہوئی ندی کا ساحل ہوا میں

ایک لہراتی ہوئی ندی کا ساحل ہوا میں پھر ہوا یہ کہ ہر اک لہر سے گھائل ہوا میں اب بناتے ہیں مرے دوست نشانہ مجھ کو تجھ کو پانے کی طلب میں کسی قابل ہوا میں دل میں اس راز کو تا عمر چھپا کر رکھا کس کی چاہت میں تھا شامل کسے حاصل ہوا میں آ گیا عشق کا مفہوم سمجھ میں اس کی اس کے خوابوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1985 سے 6203