قومی زبان

اندر باہر اوپر نیچے خواب ہی خواب

اندر باہر اوپر نیچے خواب ہی خواب دائیں بائیں آگے پیچھے خواب ہی خواب خوشبو شبنم رنگ کی دنیا ایک فریب غنچے گل بوٹے باغیچے خواب ہی خواب آنکھیں چہرے چاند ستارے رات ہی رات دروازے دیوار دریچے خواب ہی خواب حسرت ٹہنی ٹہنی نیند میں ڈوبی تھی بکھرے تھے پیڑوں کے پیچھے خواب ہی خواب کاش ...

مزید پڑھیے

برگد کا بوڑھا پیڑ

برگد کا یہ بوڑھا پیڑ جس کے جسم کی کھال تک اب تو سوکھ گئی ہے اس کے سائے میں جانے کتنے رومان پلے ہیں جانے کتنے پیمان بندھے ہیں اس برگد کے پیڑ کو سب ہم راز بنا کر جیون ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتے تھے اس برگد کے سائے میں کتنی چھیل چھبیلی سندر ناری میت سے ملنے کی آشا میں پہروں بیٹھی رہتی ...

مزید پڑھیے

سیاہئ شب

سیاہئ شب مجھے کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی سیاہ ناگن کرن کی دہلیز پر کھڑی ہو اگر وہ باہر قدم نکالے تو اس کو ڈس کر ہلاک کر دے کرن اندھیرے سے اتنی خائف کہ جیسے کوئی حسین ہرنی کسی درندے کے ڈر سے جا کر گھنے درختوں میں چھپ گئی ہو وہ خوف سے تھرتھرا رہی ہو کہ جیسے طوفاں سے شاخ ...

مزید پڑھیے

احساس فراق

ماہ و انجم کنول ستارے سنو جب وہ مہ وش نہیں ہے اپنے پاس باد ابر بہار ہے بے کیف چاندنی مضمحل ہے چاند اداس اس کی فرقت کا کس قدر احساس ہلکی ہلکی پھوار سے گویا بھیگتا جا رہا ہے شب کا لباس ہجر کی رات یہ فضائے حسیں اور کچھ بڑھ گئی ہے دل کی یاس اس کی فرقت کا کس قدر احساس مہکی مہکی ہوائیں ...

مزید پڑھیے

ان کے گھر میں چاند اور تارے اپنے گھر میں آگ

ان کے گھر میں چاند اور تارے اپنے گھر میں آگ اپنی اپنی قسمت پیارے اپنا اپنا بھاگ آج وہ شاید میرے گھر میں رات گئے تک آئیں بھور سمے سے چھت پر اپنی بول رہا ہے کاگ یہ جگ تو کل جگ ہے پیارے اس جگ میں آنند کہاں جتنی جلدی بھاگ سکے تو اس دھرتی سے بھاگ بوڑھی دھرتی ایسی ناری جس کے سو سو ...

مزید پڑھیے

مثال آئینہ یارو نکھر گیا کل شب

مثال آئینہ یارو نکھر گیا کل شب عجیب سانحہ دل پہ گزر گیا کل شب بساط دشت پہ یوں چاندنی تھی رقص کناں کہ جیسے چاند کا ہر زخم بھر گیا کل شب سیاہ رات کا وہ راہب چراغ بکف سنو وہ کرمک شب تاب بھر گیا کل شب کچھ اتنا چہرہ بھیانک تھا خواب میں اس کا کہ اپنے آپ سے پاشاؔ بھی ڈر گیا کل شب

مزید پڑھیے

شہر آشوب میں گل ہائے وفا کس کو دوں

شہر آشوب میں گل ہائے وفا کس کو دوں کون مخلص ہے میں الزام وفا کس کو دوں شہر کے شور میں صحراؤں کا سناٹا ہے دیر سے سوچ رہا ہوں کہ صدا کس کو دوں وہ تو یوسف تھا مگر کوئی بھی یعقوب نہیں خوں میں ڈوبی ہوئی میں اس کی قبا کس کو دوں شہر میں ویسے مہربان بہت سارے تھے کون قاتل تھا مرا ہائے دعا ...

مزید پڑھیے

برفانی ہواؤں پہ ترا شک ہوا کیسے

برفانی ہواؤں پہ ترا شک ہوا کیسے احساس صدا موجب دستک ہوا کیسے کیا شہر وفا مستقر بو الہوساں ہے چہرہ پری چہروں کا بھیانک ہوا کیسے اے لالہ رخو عشوہ گرو تنگ قباؤ یہ لطف و کرم ہم پہ اچانک ہوا کیسے شیوہ تو ترا صرف ستم تھا ستم ایجاد اخلاص و مروت ترا مسلک ہوا کیسے اب جاں سے گزر جا کہ ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص جو محفل میں بولتا تھا بہت

وہ ایک شخص جو محفل میں بولتا تھا بہت سنا ہے اہل نظر سے وہ کھوکھلا تھا بہت ردائے شب سے لپٹ کے سواد شام کے بعد کسی کے بارے میں پہروں میں سوچتا تھا بہت اس اجنبی نے بالآخر پلٹ کے دیکھ لیا طلسمی شہر میں کوئی پکارتا تھا بہت ابھی جو پاس سے نظریں چرا کے گزرا ہے گئی رتوں میں وہی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

اگرچہ منہ سے وہ کہتا نہیں ہے

اگرچہ منہ سے وہ کہتا نہیں ہے مگر حال اس کا کچھ اچھا نہیں ہے مقابل آئینہ ہے سوچتا ہوں یہ چہرہ تو مرا چہرہ نہیں ہے وہاں کرتے رہے صحرا نوردی جہاں کوسوں کوئی سایا نہیں ہے سنو کہ زرد موسم کے اثر سے گلوں کا حال کچھ اچھا نہیں ہے جلے سپنے بجھی چشم تمنا مگر اب تک کوئی آیا نہیں ہے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1980 سے 6203