قومی زبان

درد کی اک کتاب ہے کوئی

درد کی اک کتاب ہے کوئی زندگی اضطراب ہے کوئی تیرگی کی ادا بتاتی ہے داؤں پر ماہتاب ہے کوئی ہو گیا جس کو وہ ہوا تنہا عشق بھی اک عذاب ہے کوئی تیری جانب ہی کھینچ لاتی ہے یاد جیسے سراب ہے کوئی اس کا خاموش دیکھنا بھر ہی اک مکمل جواب ہے کوئی جی رہا ہے مگر نہیں جیتا یوں بھی خانہ خراب ...

مزید پڑھیے

یہی اک مختصر سی داستاں سب کو سنانی ہے

یہی اک مختصر سی داستاں سب کو سنانی ہے ہر اک موسم میں خوش رہنا یہی تو زندگانی ہے مرے دل پر ہوئی دستک نہ جانے کون آیا ہے فضا کی آہٹوں میں آج خوشبو زعفرانی ہے تمہیں جب مجھ سے ملنا ہو تو اپنے آپ سے مل لو تمہارے دل میں رہتا ہوں تمہاری بات مانی ہے کہیں بالو کہیں پتھر کہیں کٹتے کنارے ...

مزید پڑھیے

سونی دل کی گلی نہ ہو جائے

سونی دل کی گلی نہ ہو جائے دل سے اب بے دلی نہ ہو جائے زندگی کر رہا ہوں تنگ اتنی یار یہ خودکشی نہ ہو جائے دوستی تو نقاب ہے اس کا اجنبی اجنبی نہ ہو جائے وقت اتنا بھی کر نہ دے بے بس دودھ جم کر دہی نہ ہو جائے اب دعا بھی اثر نہیں کرتی بد دعا شاعری نہ ہو جائے دھندھ کی پیروی بہت ہے ...

مزید پڑھیے

سیکھ لو زندگی امر کرنا

سیکھ لو زندگی امر کرنا پیار کے بیج کو شجر کرنا کام یہ سخت ہے مگر کرنا اپنی ہستی کو معتبر کرنا رخ ہواؤں کا بھانپ کر کرنا آسمانوں پہ جب سفر کرنا عشق گونگا ہے جب کہ خواہش تھی اس کی آواز پہ سفر کرنا ایک دن غم ہمیں سکھا دے گا اپنے الفاظ میں اثر کرنا تیر کھائے ہیں سب کلیجہ پر ہم نے ...

مزید پڑھیے

نیند سے رشتہ کوئی جوڑا نہیں

نیند سے رشتہ کوئی جوڑا نہیں خواب تو ہم نے کبھی دیکھا نہیں منزلیں ہیں منتظر جس موڑ پر راستہ اس موڑ تک جاتا نہیں جھوٹ کے لشکر کہاں ٹک پائے ہیں اور جو سچ ہے کبھی مرتا نہیں وقت نے اک یہ سبق ہم کو دیا سوچتے ہیں جو کبھی ہوتا نہیں اس قدر دل کو ہے جس کی آرزو اس کے آگے کچھ کہا جاتا ...

مزید پڑھیے

مجھے اس چمن کا بھلا چاہیئے

مجھے اس چمن کا بھلا چاہیئے ہر اک پھول مجھ کو کھلا چاہیئے سبھی کی امیدوں کے صحرا کو اب بہاروں کا اک سلسلہ چاہیئے زمیں دیجیے یا خلا دیجیے میں مجرم ہوں اب فیصلہ چاہیئے شجر کی اسیری سہوں کب تلک پروں کو مرے حوصلہ چاہیئے میں خود کو بجھا دوں بھلے دوستو مگر ہر چراغاں جلا چاہیئے غم ...

مزید پڑھیے

دل کو آہستہ جلایا کیجیے

دل کو آہستہ جلایا کیجیے مسکرا کر زخم کھایا کیجیے دوستی سے کیا نکھر پائیں گے آپ دشمنی کو آزمایا کیجیے دل میں رکھتے ہیں جو ہر دم آپ کو ان کو بھی دل میں بلایا کیجیے لاج طوفانوں کی رکھنے کے لیے ساحلوں پر ڈوب جایا کیجیے آخری لمحوں کی خاطر ہی سہی سچ کبھی تو بول جایا کیجیے راستہ ...

مزید پڑھیے

ہاتھ سے ریت سی پھسلتی ہے

ہاتھ سے ریت سی پھسلتی ہے زندگی جب ذرا سی ملتی ہے خاکساری ہو جس کی فطرت میں اس کو شہرت بھی خوب ملتی ہے قربتوں فاصلوں میں گم ہو کر زندگی پھر کہاں سنبھلتی ہے آج بے شک خزاں کے جلوہ ہوں باغ میں پھر کلی بھی کھلتی ہے رات کہیے کہ شمع کہیے اسے رفتہ رفتہ یہ عمر ڈھلتی ہے لوگ ناداں ہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو پیاس بجھانی ہے

مجھ کو پیاس بجھانی ہے اس میں کیا حیرانی ہے اس کی باتوں پر مت جا اس کو آگ لگانی ہے اپنے پن کی بات نہ کر میرے لیے بے معنی ہے آہٹ سے اڑ جاتی ہے تتلی خوب سیانی ہے جلنے والا جانے کیوں اب تک پانی پانی ہے

مزید پڑھیے

حسرتوں کا سلسلہ ہے زندگی بھر کے لیے

حسرتوں کا سلسلہ ہے زندگی بھر کے لیے عشق کیا ہے مسئلہ ہے زندگی بھر کے لیے وہ یہ بولا جانے کب تک ساتھ میرے تم رہو میں یہ بولی یہ بلا ہے زندگی بھر کے لیے ہم نہ دے پائے کسی کو غم نہ دے پائے سکوں خود سے بس یہ ہی گلہ ہے زندگی بھر کے لیے لے کے حق کی بات اٹھیں کٹ کٹ کے میداں میں گریں زندگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1967 سے 6203