قومی زبان

بھول گئے تم

ہم ہنس کر ہی رہ جاتے ہیں آنسو آ کر رک جاتے ہیں تم چپی سمجھ نہ پاتے ہو ہم چپ ہو کر کہہ جاتے ہیں وہ شور جہاں ہوتی تھی باتیں تبدیل ہو گئی سناٹوں میں میں رات اور تو صبح ہو گیا جو ملتے ہیں بس شاموں میں میں رہ گئی تجھ کو یاد کیے بس جھوٹی ہنسی ٹھہاکوں میں تو ڈوب گیا غم میں کچھ زیادہ کہ ...

مزید پڑھیے

ہمت

سوکھے پتوں میں بھی ہوتی ہے ہلچل بنجر زمین میں بھی ہوتی ہے بستیاں کیوں نا سیکھ میں بھی لوں ان سے ذرا کہ موت ابھی نہیں آئی ہے تمہاری ہار کو تو ہارنا ہے ایک دن تب تک کر لو کوششیں ہزار یوں بیٹھ نہ جانا تھک ہار کر ورنہ ملیں گے طعنے بار بار دھڑکنیں ہیں جب تک سینہ میں تیرے تو رکھتا ہے ...

مزید پڑھیے

سب کے لبوں پہ آج برابر ہے یہ سوا (ردیف .. ل)

سب کے لبوں پہ آج برابر ہے یہ سوا بستی میں کیسے پھرتے ہیں صحرا کے یہ غزال تنہائیوں میں قید رہا ہوں ادھر ادھر سارے نگر کے لوگ مرے غم میں تھے نڈھال چرچا کئی دنوں سے ہے یہ سارے شہر میں خوابوں میں رہ کے عمر بتانا ہے اب محال اندھے تمام آئینے بے نور سب کی آنکھ پہچان لے تو کیسے کوئی ...

مزید پڑھیے

کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا اب مری آنکھوں میں کوئی رات کا منظر نہ تھا بہہ رہا تھا چار سو اک ریت کا دریا مگر جس جگہ پر میں کھڑا تھا راستہ بنجر نہ تھا شہر کے سارے مکاں لگنے لگے ہیں ایک سے جس مکاں میں بھی گیا دیکھا میرا وہ گھر نہ تھا یاد جب کرنے لگا تب رنگ موسم بھی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر تجھ کو نہ جانے کیوں ادھر

دیکھ کر تجھ کو نہ جانے کیوں ادھر کھل رہے ہیں خود بہ خود دیوار و در یا رقم کر پانیوں پر اپنی بات یا سلگتی ریت پر آ کر بکھر زندگی کا یہ حسیں منظر تو دیکھ وہ پرندے ہم سخن ہیں شاخ پر برف راتوں کا اثاثہ کون ہے چلچلاتی دھوپ میں گھوما نہ کر یا خلا کو اپنی مٹھی میں سمیٹ یا ندی بن کر ...

مزید پڑھیے

میں کون ہوں میں کیا ہوں یہی سوچ رہا ہوں

میں کون ہوں میں کیا ہوں یہی سوچ رہا ہوں صورت میں مقید ہوں مگر بکھرا ہوا ہوں تا حد نظر میرے سوا کوئی نہیں ہے میں جیسے کسی درد کے صحرا میں کھڑا ہوں یہ بات مری سوچ سے باہر ہے ابھی تک میں کوہ تھا پھر کیسے سمندر میں بہا ہوں یہ سچ ہے کسی کا ہوں میں مطلوب نہ طالب حیران ہوں کس واسطے دنیا ...

مزید پڑھیے

تا فلک ہے خوشبوؤں کا سلسلہ (ردیف .. ا)

تا فلک ہے خوشبوؤں کا سلسلہ پھینک دے مجھ کو خلاؤں میں ذرا چھوڑ کے تنہا مجھے کیوں وہ گئے میں بھی حیراں ہوں کیا ہے میں نے کیا چاندنی پگھلی ہوئی تھی رات کی دن نہ جانے کیوں اداسی میں رہا اب کبھی شاید نہیں آئے گا وہ دن بھی ڈوبا رات نے پہرہ کیا آج بھی باہر نہ دن بھر جا سکا راستہ تھا ...

مزید پڑھیے

نہیں مٹتیں تری یادیں ندی میں خط بہانے سے

نہیں مٹتیں تری یادیں ندی میں خط بہانے سے یہ اکثر لوٹ آتی ہیں کسی دل کش بہانے سے بھلا پایا نہیں میں دور ماضی کے حسیں لمحے کبھی تو یاد بھی کر لے تعلق یہ پرانے سے نمک پاشی زمانے نے مرے زخموں پہ کی پیہم مگر میں باز کب آیا ہوں پھر بھی مسکرانے سے تمہیں جس کے لئے ہم نے چنا وہ کام بھی ...

مزید پڑھیے

ہمیں تقسیم کرنے کا ہنر ان پر نرالا ہے

ہمیں تقسیم کرنے کا ہنر ان پر نرالا ہے مگر ان کو ہرانے کا ارادہ ہم نے پالا ہے زمانے بھر کے رنج و غم کبھی مجھ کو دئے اس نے کبھی جب لڑکھڑایا تو مجھے بڑھ کر سنبھالا ہے مکھوٹے وہ سدا جھوٹے لگا کر ہم سے ہے ملتا بہت شاطر پڑوسی ہے جنم سے دیکھا بھالا ہے کیا جو بزم میں ذکر وفا ان کی تو وہ ...

مزید پڑھیے

چھپا کر اپنی کرتوتیں ہنر کی بات کرتے ہیں

چھپا کر اپنی کرتوتیں ہنر کی بات کرتے ہیں شجر کو کاٹنے والے ثمر کی بات کرتے ہیں جلے ہیں جو نشیمن راکھ پر ان کی کھڑے ہو کر جنہوں نے پھونک ڈالے گھر وہ گھر کی بات کرتے ہیں عناصر جس کے تھے مہر و وفا شفقت ادب غیرت انہیں جو بھول بیٹھا اس بشر کی بات کرتے ہیں گھرے ہیں مدتوں سے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1963 سے 6203