قومی زبان

جاری سفر ہے اپنا سفر کے بغیر بھی

جاری سفر ہے اپنا سفر کے بغیر بھی ہم چل رہے ہیں راہ گزر کے بغیر بھی دیوار کے بغیر بھی در کے بغیر بھی جیتے ہیں کتنے لوگ تو گھر کے بغیر بھی کیا کیا کیا ذلیل مجھے خواہشات نے جھکتا گیا ہے سر ترے در کے بغیر بھی قدروں کا یہ زوال یہ کج فہمیوں کا دور سب با ہنر ہوئے ہیں ہنر کے بغیر ...

مزید پڑھیے

ہے قصہ مختصر میرے سفر کا

ہے قصہ مختصر میرے سفر کا نہ پانی ہے نہ سایہ ہے شجر کا نہیں ہے جس پہ تیرا نقش پا تک بھروسہ کیا ہے ایسی زندگی کا چلا ہوں جانب منزل میں لیکن نہیں نام و نشاں تک رہ گزر کا خیال یار میں گم ہو گیا ہوں پتہ میں کس سے پوچھوں اپنے گھر کا نہیں صہبا کی عظمت سے میں منکر یہ نشہ ہے مگر ہے رات بھر ...

مزید پڑھیے

اور بھی اک فریب کھانے دے

اور بھی اک فریب کھانے دے مسکراتا ہوں مسکرانے دے آشنا زندگی سے کر مجھ کو اپنی آنکھوں میں ڈوب جانے دے تیرگی اس سے مٹ سکے شاید شمع محفل کو جگمگانے دے آج اپنا ہے آج کی کر فکر کل پرایا تھا کل کو جانے دے دل کہیں بجھ نہ جائے اے پریمیؔ درد کی لو ذرا بڑھانے دے

مزید پڑھیے

تنہائیوں کے گھر میں رہا ہوں تمام عمر

تنہائیوں کے گھر میں رہا ہوں تمام عمر میں کس لئے دنیا میں جیا ہوں تمام عمر تیرے بغیر آج مجھے لگ رہا ہے یوں اک اجنبی نگر میں بسا ہوں تمام عمر آئینہ دیکھتا ہے مجھے آئینے کو میں یوں عکس عکس ٹوٹ گیا ہوں تمام عمر اندر کی تیرگی مجھے کہتی ہے بار بار بے فائدہ جہاں میں جلا ہوں تمام ...

مزید پڑھیے

قید آپ اپنے ہی میں رہا ہوں غلط نہیں

قید آپ اپنے ہی میں رہا ہوں غلط نہیں میں صورت خیال جیا ہوں غلط نہیں پانی کا بلبلہ ہے حقیقت میں زندگی پھر بھی میں واہموں میں پڑا ہوں غلط نہیں آئینہ دیکھتا ہے مجھے آئینے کو میں یوں عکس عکس ٹوٹ گیا ہوں غلط نہیں سائے کو میرے دیکھ کے یہ مان لیں گے آپ میں آپ اپنے قد سے بڑا ہوں غلط ...

مزید پڑھیے

زمیں سے تا فلک چھائی ہوئی ہے روشنئ لا

زمیں سے تا فلک چھائی ہوئی ہے روشنئ لا یہ سارا شہر ہے میری نظر میں آنکھ کا دھوکا سمندر میں ندی بن کر اتر جاؤں کہاں تک میں نگل جائے گا پانی ایک دن سارا بدن میرا اگل دے گی زمیں سب آگ اک دن اپنے اندر کی رکھے کب تک بھلا یہ بوجھ سینے پر پہاڑوں کا نگر کو لوگ کھلتا سا اک آئینہ سمجھتے ...

مزید پڑھیے

گراں ہے تلخئ لمحات پیارے

گراں ہے تلخئ لمحات پیارے سدھر جائیں گے سب حالات پیارے کوئی الزام کیوں مجھ پر لگے گا غلط کرتا ہوں میں کب بات پیارے میں درد و کرب میں ڈوبا ہوا ہوں کٹے گی کس طرح سے رات پیارے ترے لطف و کرم سے جی رہا ہوں نہیں ورنہ مری اوقات پیارے نہیں معلوم اس دنیا نے کیوں کر لگا رکھی ہے مجھ پر ...

مزید پڑھیے

میں کون ہوں کیا ہوں میں یہی سوچ رہا ہوں

میں کون ہوں کیا ہوں میں یہی سوچ رہا ہوں صورت میں مقید ہوں مگر بکھرا ہوا ہوں تاحد نظر میرے سوا کوئی نہیں ہے میں جیسے کسی درد کے صحرا میں کھڑا ہوں یہ بات مری سوچ سے باہر ہے ابھی تک میں کوہ تھا پھر کیسے سمندر میں بہا ہوں یہ سچ ہے کسی کا ہوں میں مطلوب نہ طالب حیراں ہوں کہ کس واسطے ...

مزید پڑھیے

یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے

یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے مگر وہ مسئلہ سلجھا نہیں ہے بھلا کیسے محبت کر لیں جاناں ہوا کیا زخم گر تازہ نہیں ہے مرے آنسو تمہارے دل کے بدلے مری جاں زندگی سودا نہیں ہے بڑے چپ چاپ رہنے لگ گئے ہو زمانے کو ابھی پرکھا نہیں ہے کہاں سے لائے ہو یہ تشنگی تم ہماری آنکھ میں دریا نہیں ...

مزید پڑھیے

بستی ہے تاریک اجالے کرتا جا

بستی ہے تاریک اجالے کرتا جا نیکی کر دریا کے حوالے کرتا جا پڑھنے کی فرصت نہ سہی لیکن پھر بھی اپنے گھر میں جمع رسالے کرتا جا شام و سحر پتھریلے رستوں پہ چل کر خود اپنے پیروں میں چھالے کرتا جا برسوں سے جو بند ہوئے ہیں لوگوں پر دور ان دروازوں سے تالے کرتا جا دنیا کے دھندوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1964 سے 6203