یہ شب تو کیا سحر کو بھی شاید نہیں پتا
یہ شب تو کیا سحر کو بھی شاید نہیں پتا میں آخری چراغ ہوں سورج کے شہر کا بزم سکوت دل میں ہے ہلچل مچی ہوئی سارنگیاں ہیں کس کے بدن کی غزل سرا میری بیاض درد وہ پڑھ کر بہت ہنسے تھا نام جن کا پہلے ورق پر لکھا ہوا دیکھا عجیب خواب اماوس کی رات نے ہم چل رہے تھے چاند پہ دونوں برہنہ ...