قومی زبان

یہ شب تو کیا سحر کو بھی شاید نہیں پتا

یہ شب تو کیا سحر کو بھی شاید نہیں پتا میں آخری چراغ ہوں سورج کے شہر کا بزم سکوت دل میں ہے ہلچل مچی ہوئی سارنگیاں ہیں کس کے بدن کی غزل سرا میری بیاض درد وہ پڑھ کر بہت ہنسے تھا نام جن کا پہلے ورق پر لکھا ہوا دیکھا عجیب خواب اماوس کی رات نے ہم چل رہے تھے چاند پہ دونوں برہنہ ...

مزید پڑھیے

سلیقہ ہے مجھے تاروں سے لو لگانے کا

سلیقہ ہے مجھے تاروں سے لو لگانے کا کہ میں چراغ نہیں داغ کے گھرانے کا وہ دیکھ برف کے پھولوں میں جاگتی ہے سحر یہی ہے کیا ترا انداز مسکرانے کا خلوص شرط ہے پی لوں گا زہر بھی اے دوست تو پہلے سیکھ مجھے ڈھنگ آزمانے کا لیا جو شاخ گل تر کو جھک کے بانہوں میں وہ اک بہانہ تھا تجھ کو گلے ...

مزید پڑھیے

دیکھو کہ دل جلوں کی کیا خوب زندگی ہے

دیکھو کہ دل جلوں کی کیا خوب زندگی ہے پروانے جل چکے ہیں اور شمع جل رہی ہے کہنے کو مختصر سا اک لفظ ہے محبت لیکن اسی میں ساری دنیا چھپی ہوئی ہے خواب حسیں سے مجھ کو چونکا دیا ہے کس نے کس نے چمن میں آ کر آواز مجھ کو دی ہے دیکھو ذرا فروغ حسن بہار دیکھو اک اک کلی چمن کی دلہن بنی ہوئی ...

مزید پڑھیے

آج کیا دیکھا خلاؤں کے سنہرے خواب میں

آج کیا دیکھا خلاؤں کے سنہرے خواب میں ریگزاروں کے سوا کچھ بھی نہیں مہتاب میں جب سے پہنا ہے نئے موسم نے زخموں کا لباس پھول سے کھلنے لگے ہیں دیدۂ خوں ناب میں نصف شب کو نیند میں چلتا ہوا پیکر کوئی نقش پا کیوں چھوڑ جاتا ہے دیار خواب میں وہ تو خود اپنے تجسس میں بھٹک کر رہ گئے تذکرہ ...

مزید پڑھیے

جنوں آزمانا پڑا زندگی میں

جنوں آزمانا پڑا زندگی میں سبھی کچھ نبھانا پڑا زندگی میں سہی جس پہ بیٹھے نہ سر تال میرے وہ نغمہ بھی گانا پڑا زندگی میں نہ دستار جائے اسی ضد میں ہم کو بہت کچھ گنوانا پڑا زندگی میں جو بے کار باتوں پہ روٹھے تھے ہم سے انہیں بھی منانا پڑا زندگی میں ملے ہم کو کچھ لوگ ایسے بھی جن ...

مزید پڑھیے

زخم دل تجھ سے میں چھپاؤں کیا

زخم دل تجھ سے میں چھپاؤں کیا درد سہہ کر بھی مسکراؤں کیا ہو اجازت تو تیری محفل میں اپنی قسمت کو آزماؤں کیا کیوں اشاروں میں کہہ رہا ہے تو صاف کہہ دے کہ بھول جاؤں کیا یوں تو یہ دور ہے لطیفوں کا تم کہو تو غزل سناؤں کیا عیش و عشرت کے واسطے اے دل داؤ ایمان کا لگاؤں کیا سب کا کردار جو ...

مزید پڑھیے

میں جو تجھ سے ملا نہیں ہوتا

میں جو تجھ سے ملا نہیں ہوتا یہ مرا مرتبہ نہیں ہوتا جو مقدر میں تھا ملا تجھ کو سب کو سب کچھ عطا نہیں ہوتا چھین مت حق تو اپنے چھوٹوں کا آدمی یوں بڑا نہیں ہوتا لوگ یوں تو گلے لگاتے ہیں پیار دل میں ذرا نہیں ہوتا ساتھ دیتا جو تو سفر پھر یہ اتنا مشکل بھرا نہیں ہوتا حال پڑھ لیتا ماں ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈتی ہوں تجھے میں

دور کسی کونے میں میں بیٹھ جاؤں چپی لئے نہ لوگ ہوں نہ شور ہو ہوں بس اگر تو جذبات ہوں ہے نہیں تصویر ان کی نہ کوئی یادیں بچی ہے اگر جو پاس میرے بس تیری وعدیں بچی ڈھونڈھتی ہوں اب تجھے میں دل کی گہرائیوں میں ہوں لاپتہ سا ہو گیا تو میں کھو گئی تنہائیوں میں تھی کبھی میں تھاہ سمندر بن گئی ...

مزید پڑھیے

کیونکہ

اتنے اونچے سرہانے کی مجھے عادت نہیں ہے کیونکہ تیرے بازوؤں میں سونے کی عادت مجھے ہے کہیں ملتا نہیں چین مجھے کیونکہ تیری بانہوں میں ملتی راحت مجھے ہے خوابوں سے روبرو ہوں گی اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تجھ سے بڑی کوئی خواہش مجھے نہیں ہے نیند کے پلے کی اب چاہت نہیں ہے کیونکہ سکون کی ...

مزید پڑھیے

مورتی کار

اس کی ہتھیلی مٹی سے لپٹی ہوئی تھی چہرے پے اس کے کسی بات کی جلدی تھی سورج اب اپنے است پر تھا اور لوٹ رہے تھے گھر کو پرندے کل گھروں میں منے گا تیوہار ہے لوگوں کے آنگن وراجیں گی یہ مورتیاں لوگوں کے لیے یہ بھگوان ہے اور میرے ہاتھ میں ہوں گی کچھ اشرفیاں یہی سوچ کر میں دیر تک بیٹھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1962 سے 6203