قومی زبان

یہ زندگی سفر ہے ٹھہر ہی نہ جائیے

یہ زندگی سفر ہے ٹھہر ہی نہ جائیے یہ بھی کہ بے خیال گزر ہی نہ جائیے صحرائے ہول خیز میں رہئے لیے دیئے ریگ رواں کے ساتھ بکھر ہی نہ جائیے جب ڈوبنا ہی طے ہے ابھرنا محال ہے دلدل ہے دل فریب اتر ہی نہ جائیے ان راستوں میں رات بھٹکتی ہے بے سبب ایسا بھی خوف کیا ہے جو گھر ہی نہ جائیے اب کے ...

مزید پڑھیے

آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میں

آج محصور ہیں دیمک زدہ دیواروں میں ہم بھی شامل تھے کبھی شہر کے معماروں میں آخرش ہاتھ جلا ہی لئے اپنے ہم نے جانے کیوں پھول نظر آتے تھے انگاروں میں یہ کسی سے نہ کہا لعل و جواہر تھے ہم پتھروں کی طرح بکتے رہے بازاروں میں دیر تک دستکیں دیتی رہی قسمت در پر اور ہم الجھے رہے اپنے ہی ...

مزید پڑھیے

کس کی تصویر سے آئینہ ڈراتا ہے مجھے

کس کی تصویر سے آئینہ ڈراتا ہے مجھے کون یہ مجھ سا ہے آنکھیں جو دکھاتا ہے مجھے نت نئے ساحل و امواج دکھاتا ہے مجھے اک سمندر ہے کہ ہر لحظہ بلاتا ہے مجھے ہے نہاں خانۂ غم اس کی ہنسی کے پیچھے ہنستا رہتا ہے وہ خود اور رلاتا ہے مجھے رات بھر کوہ ندا سے مجھے دیتا ہے صدا صبح ہوتے ہی بلندی سے ...

مزید پڑھیے

کچھ امید بندھا دے چاہے دھوکہ دے

کچھ امید بندھا دے چاہے دھوکہ دے جینے کا مجھ کو بھی ایک بہانہ دے نئے قلم سے نئے حروف لکھوں میں بھی تو بھی مجھ کو اپنا کاغذ کورا دے بھول بھلیوں میں کیوں مجھ کو رکھتا ہے سفر دیا ہے تو اک سیدھا رستہ دے عمر سے لمبی ہو گئی یہ تاریک سرنگ دوسری اور کا اب تو ہمیں بھی اجالا دے خواہش چاند ...

مزید پڑھیے

صبح جستجو ہے تو

صبح جستجو ہے تو شام آرزو ہے تو میں تو خشک صحرا ہوں میری آب جو ہے تو زیور تخیل اور حسن گفتگو ہے تو کچھ الگ ستاروں سے چاند ہو بہ ہو ہے تو صبح ہے بنارس کی شام لکھنؤ ہے تو گرچہ اب نہیں بیتابؔ پھر بھی رو بہ رو ہے تو

مزید پڑھیے

سر جزیروں کے پھر سے ابھرنے لگے

سر جزیروں کے پھر سے ابھرنے لگے وہ جو پانی چڑھے تھے اترنے لگے اب کسی دوست سے کوئی شکوہ نہیں وقت کے ساتھ سب زخم بھرنے لگے ہم نے ماضی میں ٹھکرائی ہیں منزلیں راستے میں کہاں ہم ٹھہرنے لگے موج در موج خشکی تھی پیش نظر شور اندر کے دریا بھی کرنے لگے ایسے کیا جرم سرزد ہوئے ارض پر لوگ ...

مزید پڑھیے

پھر لوٹ کے دھرتی پہ بھی آنے نہیں دیتا

پھر لوٹ کے دھرتی پہ بھی آنے نہیں دیتا وہ پاؤں خلا میں بھی جمانے نہیں دیتا خوش رہتا ہے اجڑے ہوئے لوگوں سے ہمیشہ بسنے نہیں دیتا وہ بسانے نہیں دیتا منظور نہیں لمحوں کی پہچان بھی اس کو اور نام درختوں سے مٹانے نہیں دیتا دیتا ہے مسافت بھی مہیب اندھے کنوؤں کی یوں تو وہ کسی کو بھی ...

مزید پڑھیے

مقام اور بھی آئیں گے لا مکان کے بعد

مقام اور بھی آئیں گے لا مکان کے بعد ضرور ہوں گے جہاں اور اس جہان کے بعد شکستہ پر تھے مرے اور ختم تھی پرواز اک آسمان تھا باقی اک آسمان کے بعد جو کامیابی ملی وہ ہمیں عبوری ملی کچھ امتحان تھے باقی ہر امتحان کے بعد وہ جیسا طے تھا وہاں کچھ بھی تو نہ تھا ایسا نشان کوئی نہیں تھا اس اک ...

مزید پڑھیے

سوکھے پتے اڑا رہا ہوگا

سوکھے پتے اڑا رہا ہوگا وہ خزاؤں سے کھیلتا ہوگا نیند کے نام سے جو ڈرتا ہے سانپ خوابوں میں دیکھتا ہوگا برف پگھلے گی جب پہاڑوں پر دھوپ میں شہر جل گیا ہوگا پتھروں سے ہے واسطہ جس کو آئنہ چھپ کے دیکھتا ہوگا مخلصی اس کو کھا چکی ہوگی وہ تو رشتوں میں بٹ چکا ہوگا رنگ سازوں کے شہر کا ...

مزید پڑھیے

اس کا کمال ہے کہ خزاں پر بہار ہے

اس کا کمال ہے کہ خزاں پر بہار ہے حد نظر تلک جو طلسمی حصار ہے آگے بھی صبح تک نہیں روشن کوئی سراغ پیچھے بھی دور دور یہ تاریک غار ہے جھونکے کہیں سے آتے ہیں تازہ ہواؤں کے کنج قفس کہیں کوئی راہ فرار ہے ان آبلوں کو پاؤں سے نسبت ہے دائمی آگے یہی سفر ہے یہی خار زار ہے تھا اک شجر بلند جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1944 سے 6203