قومی زبان

ذکر میں آتے ہیں جب الفاظ کچھ

ذکر میں آتے ہیں جب الفاظ کچھ ہم سخن بدلے ترے انداز کچھ آج کل ماحول کچھ اچھا نہیں ہیں چھپے محفل میں دست انداز کچھ روز جلتے ہیں پتنگے کس لیے اور بجھتی لو ہے بے آواز کچھ بچ گئیں یہ تو کرشمہ ہو گیا حد میں سورج کے جو تھیں پرواز کچھ آ گئی ہیں تلخیاں کردار میں ہو گئے بے پردا ہے اعجاز ...

مزید پڑھیے

منظر سرو و سمن یاد آیا

منظر سرو و سمن یاد آیا پھر سے گم گشتہ وطن یاد آیا پیچھے اب کیا ہے غبار رفتہ دہر میں باغ عدن یاد آیا بال و پر ٹوٹ چکے تھے جس وقت ہمیں پرواز کا فن یاد آیا پھر کسی شاخ پہ کوئل بولی پھر ترا رنگ سخن یاد آیا اول اک شخص کی یاد آئی بہت دوئم اک سانپ کا پھن یاد آیا ایک دن سوچا کہ اجلے ہو ...

مزید پڑھیے

پھر لوٹ کے دھرتی پہ بھی آنے نہیں دیتا

پھر لوٹ کے دھرتی پہ بھی آنے نہیں دیتا وہ پاؤں خلا میں بھی جمانے نہیں دیتا منظور نہیں لمحوں کی پہچان بھی اس کو اور نام درختوں سے مٹانے نہیں دیتا خوش رہتا ہے اجڑے ہوئے لوگوں سے ہمیشہ بسنے نہیں دیتا وہ بسانے نہیں دیتا موجوں کے مجھے راز بھی سمجھاتا نہیں وہ ساحل پہ سفینہ بھی لگانے ...

مزید پڑھیے

ظاہر میں بھی کیا کیا پردہ داری ہے

ظاہر میں بھی کیا کیا پردہ داری ہے دنیا داری پرکاری عیاری ہے پاؤں تلے خود داری اور سفر آگے رک نہیں سکتے ہم کیسی لاچاری ہے ایک مسلسل دوڑ میں شامل ہم بھی ہیں شوق نہیں یہ اک ذہنی بیماری ہے باد مخالف پورے زور سے بہتی جائے اس جانب سے بھی پوری تیاری ہے ماضی میں تم جیت گئے مجھ سے ...

مزید پڑھیے

جن سے مقصود ہیں منزل کے نشانات مجھے

جن سے مقصود ہیں منزل کے نشانات مجھے بھولتے جاتے ہیں وہ سارے اشارات مجھے راہ عرفان میں بھٹکے ہیں کچھ ایسے دونوں میں اسے ڈھونڈھتا ہوں اور مری ذات مجھے ان کے ڈر سے کئی راتیں مری بے خواب رہیں ڈھونڈھتی پھرتی ہیں خوابوں میں جو آفات مجھے دوسروں کے لئے وافر ہیں مرے پاس جواب کتنے مشکل ...

مزید پڑھیے

چار سو پھیلا ہوا کار جہاں رہنے دیا

چار سو پھیلا ہوا کار جہاں رہنے دیا رک گئے ہم اور ہر شے کو رواں رہنے دیا اپنے گنبد میں کہاں سے آئے گی تازہ ہوا اک دریچہ بھی کھلا ہم نے کہاں رہنے دیا بال و پر قائم تھے ثابت ہمت پرواز تھی کچھ زمیں راس آ گئی بس آسماں رہنے دیا روز روشن آج سورج نے کیا گویا کمال برف ساماں قطرہ قطرہ ...

مزید پڑھیے

صحرا بسے ہوئے تھے ہماری نگاہ میں

صحرا بسے ہوئے تھے ہماری نگاہ میں خیمہ لگا نہ پائے ہم آب و گیاہ میں صدیاں ہماری راہ کو روکے کھڑی رہیں اور زندگی گزرتی رہی سال و ماہ میں بس جاتے ہم کہیں بھی سمندر کے درمیاں آیا مگر نہ کوئی جزیرہ ہی راہ میں اک بار ہاتھ لگ گئے اس اندھی بھیڑ کے واپس نہ لوٹ پائے ہم اپنی پناہ میں وقت ...

مزید پڑھیے

کیا لا مکاں سے آگے زمیں آسماں ہیں اور

کیا لا مکاں سے آگے زمیں آسماں ہیں اور کیا کچھ مکیں بھی اور ہیں کیا کچھ مکاں ہیں اور ساحل نہیں ملا مگر اتنا پتہ چلا اس بحر میں جزیرے کئی بے نشاں ہیں اور جھکتی ہیں جن کے آگے مخالف ہوائیں بھی وہ کشتیاں ہی اور ہیں وہ بادباں ہیں اور صحرا جو موج ریگ ہوا کچھ بھی غم نہیں دریا میں بھی ...

مزید پڑھیے

بس کہ اک در بہ دری رہتی ہے

بس کہ اک در بہ دری رہتی ہے خود سے ہی دوڑ لگی رہتی ہے منجمد ہم کو نہ جانو صاحب اندر اک آگ لگی رہتی ہے کچھ طبیعت ہی ملی ہے ایسی ساتھ اک غمزدگی رہتی ہے برے آثار کی سر پر گویا کوئی تلوار تنی رہتی ہے کوئی موسم ہو مرے پربت پر سال بھر برف جمی رہتی ہے دو کناروں کی طرح ہیں دونوں درمیاں ...

مزید پڑھیے

نت نئے رنگ میں نکلتا ہوں

نت نئے رنگ میں نکلتا ہوں اپنے خوابوں کے ساتھ چلتا ہوں تارے اپنے سفر میں رہتے ہیں اور میں اپنی راہ چلتا ہوں گمرہی راہ خود نکالتی ہے نئے رستوں پہ جب نکلتا ہوں دور رہتا ہوں شاہراہوں سے اور پگڈنڈیوں پہ چلتا ہوں پاؤں اپنے ہیں لغزشیں اپنی خود ہی گرتا ہوں خود سنبھلتا ہوں برف رہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1943 سے 6203