قومی زبان

مجھ کو معلوم تھا میں اور سنور جاؤں گا

مجھ کو معلوم تھا میں اور سنور جاؤں گا گھر سے نکلوں گا تو ہر سمت بکھر جاؤں گا راز موجوں کے سمندر نے بتائے ہیں مجھے یہاں ڈوبوں گا کہیں اور ابھر جاؤں گا ابھی سستاؤں گا کچھ دیر اسی دوراہے پر بعد میں سوچوں گا دیکھوں گا کدھر جاؤں گا میں تو برزخ کے اندھیروں میں جلاؤں گا چراغ میں نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ زمیں ہوں وہ آسماں بھی ہوں

یہ زمیں ہوں وہ آسماں بھی ہوں میں یہاں بھی ہوں میں وہاں بھی ہوں مرتبہ میرا جو بھی ہے سو ہے بہت اچھا ہوں میں جہاں بھی ہوں مجھ سے باہر مرا سراغ نہیں میں کہ منزل بھی ہوں نشاں بھی ہوں تن تنہا بھی گامزن ہوں اور ساتھ سب کے رواں دواں بھی ہوں مجھ سے میرے سوا نہ کچھ بھی مانگ میں سفر بھی ...

مزید پڑھیے

راستوں راستوں بھٹکتا ہوں

راستوں راستوں بھٹکتا ہوں جانے کس کی تلاش کرتا ہوں ہار جاتا ہوں شام ہونے تک اپنے سائے سے روز لڑتا ہوں زندگی دیکھ میں تری خاطر روز کس کس طرح سے مرتا ہوں میری ہجرت ہی میری فطرت ہے روز بستا ہوں روز اجڑتا ہوں صبح دم سب ادھرنے لگتے ہیں خواب جو رات رات بنتا ہوں واہمے پالتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

سورج ہے نیا چاند نیا تارے نئے ہیں

سورج ہے نیا چاند نیا تارے نئے ہیں یہ کیا پس دنیا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں موسم تو کئی آئے مگر خواب ہمارے سوکھے ہوئے پتوں کی طرح گرتے رہے ہیں ہر لمحہ کوئی اینٹ اکھڑ جاتی ہے جس کی ہم لوگ اسی دیوار کے سائے میں کھڑے ہیں خود اپنے ہی سائے نے ہمیں نیچا دکھایا ہم سوچتے تھے ہم سبھی سایوں سے ...

مزید پڑھیے

کالا جادو پھیل رہا ہے

کالا جادو پھیل رہا ہے اور خدا خاموش کھڑا ہے کالے سائے ناچ رہے ہیں چار طرف پر شور ہوا ہے آگ دکھا کر جلنے والو کس کی آگ میں کون جلا ہے سانس بھی تم لیتے ہو کیوں کر اف کتنی مسموم ہوا ہے لاکھوں بھیڑیں دوڑ رہی ہیں ایک گڈریا ہانک رہا ہے رقص کناں ہوں اک رسی پر اور توازن بگڑ رہا ہے میں ...

مزید پڑھیے

لطف رہے گا ہم نشیں زاہد با وضو بھی ہے

لطف رہے گا ہم نشیں زاہد با وضو بھی ہے آج گھٹا کے دوش پر ساز بھی ہے سبو بھی ہے پیش‌ نگاہ مضطرب حاصل جستجو بھی ہے یعنی وہ شوخ مائل پرسش آرزو بھی ہے عطر فشاں شمیم گل باد صبا لطیف تر تازہ کن مشام جاں گیسوئے مشک بو بھی ہے چنگ بدست نے بہ لب مطرب دلنواز بھی گرم نوا چمن چمن طائر خوش گلو ...

مزید پڑھیے

درس دیتا ہے شکیبائی کا

درس دیتا ہے شکیبائی کا وہ ترا زعم مسیحائی کا طائر دید تماشائی کا معترف ہے تری گیرائی کا ہے یہی شرح حدیث آدم زندگی نام ہے رسوائی کا نقص پرواز نظر ہے ورنہ آئنہ ہوں تری یکتائی کا بن گیا راہنمائے منزل وہ بھٹکنا ترے سودائی کا تیری محفل کی فضائے رنگیں نقش جیسے کوئی چغتائی کا بن ...

مزید پڑھیے

ایک جلوہ ایک نغمہ ایک پیمانہ ابھی

ایک جلوہ ایک نغمہ ایک پیمانہ ابھی زندگی کا ہم نشیں مت چھیڑ افسانہ ابھی لذت صہبا سے ہوں ساقیٔ بیگانہ ابھی ہو رہا ہے بند کیوں ہستی کا مے خانہ ابھی حیرت جلوہ مری آنکھوں کا پردہ بن گئی ہوں سر منزل مگر منزل سے بیگانہ ابھی دیکھ تو پی کر ذرا سی آج صہبائے خودی دیکھ بنتا ہے جہاں اک آئنہ ...

مزید پڑھیے

گریبان قبائے زیست میں اک تار باقی ہے

گریبان قبائے زیست میں اک تار باقی ہے اجل دم لے ابھی تو منزل دشوار باقی ہے ذرا اے دل محبت کا ترانہ تیز تر کر دے ابھی کچھ امتیاز کافر و دیندار باقی ہے ستم گاری کو تنہا کیوں شعار آسماں سمجھوں ابھی شرح مزاج چرخ کج رفتار باقی ہے بلانوش اس خرابات جہاں سے کس قدر گزرے لب ساغر پہ ذکر ...

مزید پڑھیے

دل کو نصیب غم کی قیادت نہیں رہی

دل کو نصیب غم کی قیادت نہیں رہی اب جستجوئے عیش میں لذت نہیں رہی نیرنگ‌ چشم دوست ہے مجھ پر اثر پذیر اب مرگ و زیست میں وہ رقابت نہیں رہی بدلی ہوئی ہے قدر گریباں دریدگی یا خندہ ہائے گل میں صداقت نہیں رہی اپنی طبیعت آج بہ فیض غم حیات مدحت کن متاع لطافت نہیں رہی شکوہ غلط ہے رحمت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1945 سے 6203